’خواتین فٹ بالرز کے ہموار سینے‘: تنزانیہ کی صدر پر شدید تنقید | کھیل | DW | 26.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

’خواتین فٹ بالرز کے ہموار سینے‘: تنزانیہ کی صدر پر شدید تنقید

تنزانیہ کی خاتون صدر کو ان دنوں اس وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے کہ انہوں نے خواتین کی ملکی فٹ بال ٹیم کی کھلاڑیوں کو ہموار سینوں والی اور شادی کے لیے کشش سے محروم قرار دیا تھا۔

مشرقی افریقی ملک تنزانیہ کی خاتون صدر ساميہ صلوحی حسن کے اپنے ملک کی خواتین فٹ بالرز سے متعلق بیان کو قدرے تضحیک آمیز قرار دیا جا رہا ہے۔

ویمن فٹ بالرز کے ہموار سامنے

صدر ساميہ صلوحی حسن کا کہنا تھا کہ خواتین فٹ بالرز کی کارکردگی کی وجہ سے ملک کو ان پر فخر بھی ہے لیکن کھیل میں مصروفیت اور تربیت کی وجہ سے بعض لڑکیوں میں ظاہری کشش ختم ہو جاتی ہے اور ان کی شادی بھی نہیں ہوتی۔ صدر کے مطابق کھلاڑیوں کی کشش ختم ہونے کی ایک وجہ ان کے ہموار سینے ہیں، جو مردوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں اور یہ عورتوں جیسے نہیں ہوتے۔

اونچی ایڑی کے جوتے: پرکشش بنائیں اور بیمار بھی

صدر نے مزید کہا کہ کچھ کھلاڑی لڑکیاں شادی کر لیتی ہیں لیکن زیادہ تر کی شادی نہیں ہوتی۔ صدر نے ان لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شادہ شدہ زندگی ایک عملی زندگی کا نام ہے اور یہ خواب نہیں ہوتا۔

Tansania l Neue Präsidentin Samia Suluhu Hassan

مشرقی افریقی ملک تنزانیہ کی خاتون صدر ساميہ صلوحی حسن

 صدر ساميہ صلوحی نے یہ بیان ساحلی شہر دارالسلام کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں مردوں کی تیئیس برس سے کم عمر قومی ٹیم کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران دیے۔

صدر سامیہ حسن تنزانیہ کی موجودہ اور چھٹی صدر ہیں۔ انہوں نے منصبِ صدارت کا حلف رواں برس انیس مارچ کو اٹھایا تھا۔ وہ اس سے قبل اپنے ملک کی نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔ ان کو تنزانیہ میں عوام 'ماما سامیہ‘ کی عرفیت سے پکارتے ہیں۔

میڈیا میں جسمانی خوبصورتی کے معیارات ذہنی دباؤ کا سبب

امتیازی کلمات

اکسٹھ سالہ صدر سامیہ صلوحی حسن کا تعلق تنزانیہ کے علاقے زنجیبار سے ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کے دوران ویکسینیشن مہم اور اس سے متعلق اقدامات کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ان کی ستائش بھی کی گئی ہے۔

ملکی فٹ بالرز کے بارے میں ان کے کلمات کو سوشل میڈیا پر بہتر انداز میں نہیں لیا گیا اور ان پر شدید تنقید کی گئی۔ ان کے الفاظ کو انتہائی امتیازی اور تضحیک آمیز قرار دیا گیا۔

Sudan Gleichberechtigung Frauen Fußballerin

تنزانیہ میں مرد اور خاتون کھلاڑیوں میں مالی عدم مساوات پائی جاتی ہے

ایک صارف اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن مواناحمیسی سنگانو نے کہا کہ یہ خاتون اس ملک تنزانیہ کو افغانستان میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی خواتین کے حقوق کہاں پر ہیں ماما؟۔ سانگانو نے ملکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں تا کہ وہ عملی میدان میں آگے بڑھ سکیں۔

ویمن کھلاڑیوں کو عزت دی جائے

تنزانیہ میں دیگر کئی خواتین کی طرح کیتھرین رُوج نے بھی صدر کے کلمات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ رُوج کا تعلق اپوزیشن کی چاڈیما پارٹی سے ہے اور وہ سابق رکن پارلیمان بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہر خاتون کھلاڑی عزت کی حقدار ہے۔

Fußball WM 2019 Frauen Team Nigeria

تنزانیہ کی خاتون صدر کے مطابق مسلسل کھیل کی تربیت جاری رکھنے سے خواتین کھلاڑی پرکشش نہیں رہتیں

جرمنی کی فت بال کلب سینٹ پاؤلی کی جانب سے کھیلنے والی سانا گاراوے کا کہنا ہے کہ انہیں صدر کے کلمات سے تعجب نہیں ہوا کیونکہ یہ اس معاشرے میں عام پائے جانے والے تعصبات ہیں اور ان کی وجہ سے خواتین کو رکاوٹوں اور سماجی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

عا لمی فٹ بال کپ ایڈز اور جسم فروشی

سانا گاراوے کا یہ بھی کہنا ہے کہ تنزانیہ میں کوئی بھی مقام حاصل کرنا کسی بھی لڑکی یا عورت کے لیے بہت مشکل ہے۔ ان کے مطابق ویمن فٹ بالر کے مقابلے میں مرد کھلاڑیوں کو زیادہ تنخواہیں اور مراعات حاصل ہیں۔ گاراوے کا خیال ہے کہ تنزانیہ میں عملی سطح پر مردوں اور  عورتوں میں تفریق ہر سطح پر پائی جاتی ہے۔

مارٹینا شیویکووسکی (ع ح/ع ا)