خواتین بغیر محرم کے بھی حج کا سفر کر سکتی ہیں، بھارت | معاشرہ | DW | 02.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خواتین بغیر محرم کے بھی حج کا سفر کر سکتی ہیں، بھارت

بھارتی حکومت نے خواتین عازمین حج کے لیے اصول و ضوابط میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب پینتالیس برس یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین بغیر مرد سرپرست کے بھی حج کے سفر پر جا سکتی ہیں۔

بھارتی اصول و ضوابط کے مطابق خواتین اپنے شوہر یا پھر خاندان کے کسی محرم سرپرست کی زیرنگرانی میں ہی حج کے سفر پر جا سکتی تھیں، جسے اب بدل دیا گيا ہے۔ اقلیتی امور کی وزارت نے اس سلسلے میں جو نیا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اس کے مطابق  پینتالیس برس یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کو چار کےگروپ میں بغیر مرد سرپرست کے بھی حج پر جانے کی اجازت ہوگی۔

 اس میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ خواتین کا تعلق جس مکتبہ فکر سے ہو اس میں اس کی اجازت ہونی چاہیے لیکن پینتالیس برس سے کم عمر کی خواتین کو اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ حج کیمٹی آف انڈیا نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے اسی برس سے اس پر عمل شروع کیا جائےگا۔

اس کا باقاعدہ اعلان وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں کیا۔ نئے سال کے موقع پر انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ روایت ایک طرح سے خواتین کے ساتھ نا انصافی پر مبنی تھی، جسے ان کی حکومت نے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’جب مجھے اس بارے میں پتہ چلا تو میں یہ سوچ کر حیرت میں پڑ گیا کہ آخر ایسا کیسے ممکن ہے؟ آخر کس نے اس طرح کے اصول وضع کیے ہوں گے؟ آخر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں ہے؟ آزادی کے ستّر برس بعد بھی خواتین پر ایسی پابندیاں کیوں عائد ہیں؟ بھارتی مسلم خواتین کو مساوی حقوق کیوں نہیں دیے گئے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہماری حکومت نے اس پر توجہ دی اور پرانی روایات کو بدل دیا گیا ہے۔‘‘

بھارتی عدالت نے حاجیوں کے لیے مراعات کے خاتمے کا حکم دے دیا

 مسٹر مودی نے اس تبدیلی کا کریڈٹ اپنی حکومت کو دیا اور کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ اس برس بڑی تعداد میں خواتین بغیر مرد سرپرستوں کے بھی حج کر سکیں گی۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بھارتی حکومت کا کچھ بھی لینا دینا نہیں کیونکہ حقیقت میں اس طرح کے اصول اور شرائط سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے عائد تھے، اسی لیے لوگ مجبور تھے لیکن جب سعودی عرب کی حکومت نے اس میں تبدیلی کا اعلان کیا تو دنیا کے دیگر ممالک نے بھی اس پر عمل شروع کیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے سن دو ہزار چودہ میں حج سے متعلق نئی پالیسیوں کا اعلان کرتے ہوئے پینتالیس برس سے زیادہ عمر کی خواتین کو چار کے وفد میں آنے کی اجازت دی تھی اور خواتین پر مشتمل اس طرح کے وفد پہلی بار سن دو ہزار پندرہ میں حج کے لیے پہنچے تھے۔   

عازمین حج: ایک سو چار سالہ خاتون اور آٹھ سائیکل سوار

دلی میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ  نریندر مودی کی حکومت بلا وجہ ہی اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس طرح کا اعلان چند برس قبل ہی کیا جانا چاہیے تھا لیکن اس حکومت نے تین برس ضائع کر دیے۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انھوں نے کہا، ’’یہ مسئلہ تو سعودی عرب کی حکومت کا تھا، چونکہ  سعودی عرب میں خواتین کو بغیر مرد سرپرست کے حج پر آنے کی اجازت ہی نہیں تھی اور حج کے ویزے سے متعلق بڑے واضح قسم کے اصول و ضوابط تھے، اس لیے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ کوئی بھی سعودی عرب کی مرضی کے بغیر اس طرح کا قدم اٹھا سکے۔ جب سعودی عرب نے اس میں تبدیلی کا اعلان کیا تھا تو مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بغیر کسی اعتراض کے اس کی فوری طور پر حمایت کی تھی۔‘‘

سعودی حکومت کا اقدام: ایک سے زائد مرتبہ حج کرنے پر اضافی فیس

قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ نریندر مودی ہر چیز کو سیاسی رنگ دے کر اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، ’’اگر یہ خواتین کے ساتھ نا انصافی کی بات تھی اور حکومت اس کو ختم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے تو پھر پینتالیس برس سے کم عمر کی خواتین کے ساتھ تو اب بھی نا انصافی ہی ہوئی۔‘‘

حکومت نے حج سے متعلق قوانین میں تبدیلی کے لیے گزشتہ اکتوبر میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی قیادت ایک سینیئر سرکاری افسر افضل امان اللہ کر رہے تھے۔ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ حج سے متعلق سعودی حکومت نے جب ویزا قوانین میں تبدیلی کا اعلان کیا اور حکومتوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تبھی بھارت میں بھی یہ تبدیلی ممکن ہو سکی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حج کا سفر مشکل، طویل اور دشوار گزار ہوتا ہے اور موسم کی مناسبت سے کئی بار بہت تکلیف دہ بھی ہوجاتا ہے اس لیے اس سفر میں خواتین کے  ساتھ مردوں کا ساتھ ہونا کافی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

بھارت میں ہر برس لوگ بڑی تعداد میں حج پر جانے کی درحواست دیتے ہیں، اسی لیے  لوگوں کا انتخاب لاٹری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ جو خواتین نئے اصول کے تحت بغیر مرد سرپرست کے حج پر جانے کی درخواست دیں گی، انہیں لاٹری سے مثتثنیٰ رکھ کر براہ راست منتخب کیا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس تبدیلی کی وجہ سے اس برس پینتالیس برس یا پھر اس سے زیادہ عمر کی بہت سی خواتین بغیر مرد سرپرست کے سفر حج پر جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔     

DW.COM

اشتہار