’خواب میں بشارت ملی‘: ہزار ٹن خزانے کی تلاش شروع | معاشرہ | DW | 18.10.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’خواب میں بشارت ملی‘: ہزار ٹن خزانے کی تلاش شروع

ماہرین آثار قدیمہ کی طرف سے بھارت میں انیسوی صدی کے ایک قلعے کے کھنڈرات میں کھدائی شروع کر دی گئی ہے۔ ایک مشہور ہندو سوامی کے مطابق ان کے خواب میں ایک بادشاہ نے خود آ کر پچاس ارب ڈالر مالیت کے خزانے کی نشاندہی کی ہے۔

اس خزانے کو تلاش کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا، جب ہندو سوامی شبھان سرکار نے اپنا خواب ایک بھارتی وزیر کو سنایا۔ اس حکومتی وزیر نے گزشتہ ماہ اس سوامی کے آشرم کا دورہ کیا تھا۔ شبھان سرکار کا کہنا ہے کہ ان کے خواب میں سابق بادشاہ راؤ رام بخش سنگھ کی روح آئی اور انہیں 1000 ٹن وزنی خزانے کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ سوامی کے مطابق انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ خزانہ شمالی ریاست اترپردیش میں راؤ رام بخش سنگھ کے قلعے کے نیچے چھپا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ راؤ رام بخش سنگھ کو برطانوی نوآبادیاتی افواج کے خلاف بغاوت کے الزام میں سن 1858ء میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔

Bildergalerie Gold in Indien Gott Ganesha

دو سال پہلے جنوبی ریاست کیرالہ میں بھی بھارتی حکام کو ایک 16ویں صدی کے مندر سے خزانہ ملا تھا

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ وجے آنند کے مطابق بھارتی جیولوجیکل اور آثار قدیمہ کے حکام نے اتوار کے روز اس علاقے کا سروے کیا تھا اور انہیں 200 میٹر گہرائی میں بھاری مقدار میں کسی دھات کے پائے جانے کے ثبوت ملے تھے۔ وجے آنند کے مطابق اب یہ کھدائی ہی ثابت کر سکتی ہے کہ یہ کس قسم کی دھات ہے، آیا لوہا ہے یا سونا۔

بھارتی آثار قدیمہ کے حکام کے مطابق پرانے قلعے کے کھنڈرات میں کھدائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم کھدائی سے پہلے ہی اس خزانے کے حصہ دار بھی لائن میں لگ گئے ہیں۔ بادشاہ کی اولاد میں سے ایک شخص نوچندی ویر پرتاب سنگھ کا کہنا ہے، ’’ اگر واقعی سونا ملتا ہے تو اس میں ہمارا بھی حصہ ہوگا۔‘‘

اترپردیش کے ریاستی اور مقامی حکام نے بھی کہا ہے کہ دولت میں سے اس خاندان کو حصہ ملنا چاہیے۔ مقامی قانون ساز کلدیپ سینگر کا کہنا ہے، ’’اس خزانے کو ریاستی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔‘‘

غریب گاؤں ’ڈھنڈیا کھیڑا‘ کے رہائشیوں کا نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ اس خزانے کے بارے میں ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں اور ان کے بزرگ بھی اس بارے میں کہانیاں سناتے تھے۔

لوگوں کو اس علاقے میں جانے سے روکنے کے لیے حکام نے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ اس ممکنہ خزانے کو دیکھنے اور شاید سونے کا کوئی سکّہ ساتھ لے جانے کی امید میں ہزاروں افراد اس مقام پر جمع ہیں۔

میڈیا کے مطابق قلعے کے کھنڈرات کے اندر موجود ایک پرا نے مندر میں متعدد افراد کو پوجا کرتے اور دعائیں مانگتے دیکھا جا سکتا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ دعائیں مانگ رہے ہیں کہ سوامی سرکار کا خواب سچ نکلے۔ یہاں کی ایک اسکول ٹیچر چندرکا رانی کا کہنا ہے، ’’لوگ سوامی سرکار کو خدا کی طرح مانتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس جگہ کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔‘‘

دو سال پہلے جنوبی ریاست کیرالہ میں بھی بھارتی حکام کو ایک 16ویں صدی کے مندر سے خزانہ ملا تھا۔ آج تک میڈیا کا اس علاقے میں داخلہ ممنوع ہے۔ اس مندر سے سونے کے تاج، زیور اور مورتیوں کے علاوہ سکوں سے بھرے تھیلے ملے تھے۔ اس خزانے کی دریافت بھارت کے ایک مذہبی ادارے نے کی تھی۔