خلیج کے علاقے میں فوجی تصادم سے بچا جانا چاہیے، عمران خان | حالات حاضرہ | DW | 16.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

خلیج کے علاقے میں فوجی تصادم سے بچا جانا چاہیے، عمران خان

عمران خان نے اپنے سعودی عرب کے دورے کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ خلیجی خطے میں فوجی تصادم سے بچا جانا ضروری ہے۔ عمران خان نے گزشتہ روز سعودی شاہ سے ملاقات کی تھی۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے منگل 15 اکتوبر کو اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ سلمان سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اس سے دو روز قبل عمران خان تہران بھی گئے تھے جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔ پاکستانی وزیر اعظم کے دورہ ایران اور سعودی عرب کا مقصد ان دونوں ریاستوں کے درمیان کسی ممکنہ تصادم سے بچنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

آج بدھ 16 اکتوبر کو پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے سعودی رہنماؤں کے ساتھ خلیج کی صورتحال پر بات چیت کی اور انہوں نے کسی ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے اور فریقین کی طرف سے مثبت بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔

Imran Khan und Ali Khamenei in Iran

عمران خان تہران بھی گئے تھے جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

پاکستانی وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب کی تکمیل پر جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے، ''وزیر اعظم نے تناؤ میں کمی لانے اور تنازعات کے حل لیے پاکستان کی طرف سے اپنا کردار ادا کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔‘‘

بیان کے مطابق سعودی رہنماؤں کی طرف سے پاکستانی وزیر اعظم کی ان کوششوں کو سراہا گیا ہے جو وہ علاقے میں تناؤ کے خاتمے کے لیے کر رہے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم نے اس عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

DW.COM