′خفیہ بیوی کو منانے کی کوشش‘ کا نتیجہ عمر قید کی سزا | معاشرہ | DW | 12.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

'خفیہ بیوی کو منانے کی کوشش‘ کا نتیجہ عمر قید کی سزا

بھارت میں ایک تاجر کو اس لیے عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے کیوں کہ وہ اپنی بیوی کو نوکری چھوڑنے پر مجبور کر رہا تھا اور ایسا کرتے ہوئے اس نے ایک ہوائی جہاز کو اغوا کرنے کی جھوٹی دھکمی بھی دے دی تھی۔

بھارت کے شہر احمد آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے برجو سالا نامی شخص کو سن 2017 میں جیٹ ائیر ویز کی ممبئی سے دہلی جانے والی پرواز کے ٹائلٹ میں ایک دھمکی آمیز خط رکھنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس خط میں لکھا گیا تھا کہ جہاز میں ایک ہائی جیکر اور دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ خط میں جہاز کے پائلٹوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اس طیارے کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر لے جائیں۔ یہ دھمکی آمیز خط ملنے کے بعد جہاز کے عملے نے اس طیارے کو فوری طور پر احمد آباد میں ہی اتار دیا تھا، جہاں بزنس کلاس میں سفر کرنے والے ایک 38 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بھارت میں یہ وہ پہلا ملزم ہے جسے ہوائی جہازوں کی ہائی جیکنگ روکنے کے لیے بنائے گئے نئے اور زیادہ سخت  قانون کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی مجرم کو کم از کم عمر قید یا دوسری صورت میں سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے۔

عدالت کے جج ایم کے دیو نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ برجو سالا کے اقدام سے مسافروں اور جہاز کے عملے  کو ذہنی تناؤ سے گزرنا پڑا۔ سالا کو عدالت نے 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔

’بیوی کا قتل‘، سابق بھارتی وزیر کو تفتیش کا سامنا

شوہر ایئر پورٹ پر یکدم چیخنے لگا: ’میری بیوی کے پاس بم ہے‘

مجرم سالا نے، جو پہلے سے ہی شادی شدہ تھا، جیٹ ایئر ویز کی ایک ہوسٹس سے خفیہ شادی کر رکھی تھی اور وہ اسے ممبئی منتقل ہونے پر مجبور کر رہا تھا جبکہ اس کی یہ دوسری بیوی ممبئی نہیں جانا چاہتی تھی۔ اس شخص نے ہوائی جہاز کو ہائی جیک کرنے کے ایک جھوٹے پلان کے ذریعے متعلقہ فضائی کمپنی کو بدنام کرنے اور اس کی دہلی اور ممبئی کے درمیان پروازیں معطل کروانے کی کوشش کی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ ایسا کرنے پر شاید اس کی بیوی کو اپنی نوکری چھوڑنا پڑتی۔

برجو سالا کے وکیل روہیت ورما کے مطابق وہ اپنے مؤکل کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

ب ج، م م (اے ایف پی)

DW.COM