خالدہ ضیا کو مزید سات برس قید کی سزا | حالات حاضرہ | DW | 29.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

خالدہ ضیا کو مزید سات برس قید کی سزا

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو مزید سات برس قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ سزا انہیں اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے مرحوم شوہر کے نام پر فنڈز اکٹھا کرنے کے الزام میں سنائی گئی ہے۔

خالدہ ضیا کے حامیوں کا تاہم کہنا ہے کہ ان کے خلاف متعدد فوجداری مقدمات کا مقصد انہیں دسمبر میں متوقع انتخابات سے باہر رکھنا اور ان کی جماعت کی پوزیشن کو کمزور کرنا ہے۔ تاہم حکومت کا استدلال ہے کہ اس کے پاس مقدمات کا سامنا کرنے والے ذمہ دار افراد کے خلاف ثبوت موجود ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق خالدہ ضیا کی سیاسی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اس عدالتی فیصلے کو رد کر دیا ہے اور منگل 30 اکتوبر سے ملک گیر مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔

73 سالہ خالدہ ضیا ڈھاکا کی اُس عدالت میں موجود نہیں تھیں جس نے انہیں یہ سزا سنائی۔ اس کے علاوہ ان کے وکلاء نے بھی عدالتی کارروائی میں یہ کہتے ہوئے حصہ نہ لیا کہ انہیں انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں۔ بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے قبل ازیں آج پیر 29 اکتوبر کو ہی خالدہ ضیا کی یہ اپیل خارج کر دی تھی کہ وہ سات برس قبل لگائے جانے والے ان الزامات پر اپنا فیصلہ روک دے۔ خالدہ ضیا پر یہ الزامات ملک کے انسداد بدعنوانی  کمیشن نے عائد کیے تھے۔

Bangladesch Prozess gegen Ex-Regierungschefin Khaleda Zia

خالدہ ضیا کی سیاسی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اس عدالتی فیصلے کو رد کر دیا ہے اور منگل 30 اکتوبر سے ملک گیر مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔

خالدہ ضیاء پہلے ہی بدعنوانی کے ایک اور کیس میں پانچ برس قید کی سزا بھگت رہی ہیں۔ انہیں رواں ماہ کے آغاز میں اُس وقت جیل سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جب ان کی جماعت کا کہنا تھا کہ انہیں متعدد طبی مسائل کا سامنا تھا۔ خالدہ ضیا کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے تمام الزامات کے پیچھے سیاسی مقاصد کار فرما ہیں۔

جج ایم ڈی اخترالزماں کے مطابق خالدہ ضیا نے 2001ء سے 2006ء کے دوران اپنے دور حکومت میں نامعلوم ذرائع سے پونے چار لاکھ ڈالر اس چیریٹی ٹرسٹ فنڈ کے لیے حاصل کیے تھے، جو ان کے مرحوم شوہر ضیاء الرحمان کے نام پر قائم کیا گیا تھا۔ سابق فوجی سربراہ اور سابق صدر ضیاء الرحمان کو 1981ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔

Bangladesch Prozess gegen Ex-Regierungschefin Khaleda Zia

خالدہ ضیاء کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں 30 سے زائد مقدمات درج ہیں۔

عدالت نے خالدہ ضیا کے علاوہ دو دیگر افراد کو بھی یہ رقم جمع کرنے کے الزام میں سات سات برس قید کی سزا سنائی ہے۔ ان میں خالدہ ضیا کے سابق پولیٹیکل سیکرٹری بھی شامل ہیں۔

خالدہ ضیاء کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں 30 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ ان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات موجودہ وزیر اعظم اور خالدہ ضیا کی سیاسی حریف شیخ حسینہ کی جانب سے سیاسی مقاصد کے لیے شروع کیے گئے تاکہ شیخ حسینہ کے لیے مسلسل تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے کی راہ ہموار ہو سکے۔

ا ب ا / م م (ایسوسی ایٹڈ پریس)

DW.COM