’خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری سعودی ولی عہد پر عائد ہوتی ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 19.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری سعودی ولی عہد پر عائد ہوتی ہے‘

امريکی ری پبلکن پارٹی کے سينئر رکن سينيٹر لنڈسی گراہم نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہيں اور ان سے نمٹا جانا ضروری ہے۔

رياض حکومت کے خلاف تازہ پابنديوں کی دھمکی ديتے ہوئے سينيٹر لنڈسی گراہم نے کہا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان سے نمٹا جانا لازمی ہے۔ اس سے قبل وہ ڈھکے چھپے الفاظ ميں خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری سعودی ولی عہد پر عائد کر چکے ہيں تاہم آج بروز ہفتہ اپنے بيان ميں انہوں نے واضح الفاظ ميں کہا کہ قتل کی ذمہ داری محمد بن سلمان پر عائد ہوتی ہے۔ امريکی سينيٹر نے ترک دارالحکومت انقرہ  ميں گزشتہ روز صدر رجب طيب ايردوآن سے ملاقات کے بعد ہفتے کو منعقدہ ايک پريس کانفرنس ميں يہ بات کہی۔

امريکی اخبار نيو يارک ٹائمز کے ليے لکھنے والے اور سعودی حکومت کے ناقد صحافی جمال خاشقجی کو استنبول ميں سعودی قونصل خانے ميں پچھلے سال اکتوبر کے اوائل ميں قتل کر ديا گيا تھا۔ ترک حکام کا دعوی ہے کہ خاشقجی کو پندرہ افراد پر مشتمل ايک ٹيم نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت قتل کيا۔ خاشقجی کی لاش ابھی تک نہيں مل پائی ہے۔ رياض حکومت قتل کی اس کارروائی کے پيچھے ولی عہد محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کی ترديد کرتی آئی ہے تاہم اس تناظر ميں واشنگٹن اور رياض حکومتوں کے تعلقات متاثر ضرور ہوئے ہيں۔ امريکا، کينيڈا اور فرانس نے ان بيس افراد پر پابندياں عائد کر رکھی ہيں، جن پر شبہ ہے کہ وہ خاشقجی کے قتل ميں ملوث ہيں۔

ترکی کے دورے پر سينيٹر لنڈسی گراہم نے مزيد کہا، ’’ميں اس نتيجے پر پہنچا ہوں کہ جب تک محمد بن سلمان سے نمٹا نہيں جاتا، امريکا اور سعودی عرب کے تعلقات ميں بہتری ممکن نہيں۔‘‘ اس موقع پر گراہم نے مشتبہ افراد کے خلاف تازہ پابنديوں کا عنديہ بھی ديا۔

يہ امر اہم ہے کہ سعودی عرب ميں اسی ماہ گيارہ ايسے افراد کے خلاف مقدمہ شروع ہوا ہے، جن پر شبہ ہے کہ وہ اس قتل ميں ملوث تھے۔ ملکی اٹارنی جنرل نے ملزمان ميں سے پانچ کے ليے سزائے موت کا مطالبہ کيا ہے۔

ع س / ع ح، نيوز ايجنسياں