خاتون ریفری، ایران میں میچ ہی سنسر کردیا گیا | کھیل | DW | 18.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

خاتون ریفری، ایران میں میچ ہی سنسر کردیا گیا

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے جرمن وفاقی فٹ بال لیگ کا وہ میچ نشر ہی نہیں کیا، جس میں ایک خاتون نے ریفری کے فرائض سر انجام دیے تھے۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں سرکاری ٹیلی وژن سمیت تمام میڈیا گروپس اپنی نشریات میں ایسے مناظر کو سنسر کردیتے ہیں، جن میں خواتین نے جسم کو ظاہر کرنے والا کوئی لباس زیب تن کیا ہو۔

ایران میں بنڈس لیگا کا یہ میچ نشر نہ کرنے کی مبینہ وجہ بھی یہی ہے کہ اس میں ریفری کے فرائض ایک خاتون نے انجام دیے تھے اور جنہوں نے فٹ بال شارٹس پہن رکھے تھے۔ چونکہ اس لباس کی وجہ سے ان کی ٹانگیں بے لباس تھیں، اس لیے تمام میچ کو ہی سنسر کر دیا گیا۔

جمعہ 15 فروری کو بائرن میونخ اور آؤسبرگ کے مابین کھیلے گئے اس میچ میں خاتون ریفری بیبیانا شٹائن ہاؤس تھیں۔ وہ پہلی ایسی خاتون ہیں، جنہیں بنڈس لیگا کے میچوں میں بطور ریفری مقرر کیا گیا ہے۔

انتالیس سالہ شٹائن ہاؤس نے ستمبر سن دو ہزار سترہ میں پہلی مرتبہ بنڈس لیگا کے ایک میچ میں ریفری کے فرائض انجام دیے تھے۔

سن دو ہزار اٹھارہ میں شٹائن ہاؤس کو ایک اعلیٰ معیار کی ریفری قرار دیا گیا تھا۔ جرمنی میں اس اقدام کو خواتین کے لیے ایک اعزاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

DW.COM