حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان | حالات حاضرہ | DW | 08.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان

حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے سترہ جنوری سے پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس تحریک کے انتظامات کی نگرانی کے لیے سات رکنی ایکشن کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

تیس دسمبر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کی طرف سے قائم کی جانے والے سٹیرینگ کمیٹی کا پہلا اجلاس سوموار کی شام کو لاہور میں ہوا۔ اس اجلاس کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سٹیرینگ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق سات رکنی ایکشن کمیٹی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قمر الزمان کائرہ، پاکستان تحریک انصاف کے علیم خان، مسلم لیگ قاف کے کامل علی آغا، عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد، پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈاپور، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اور مجلس وحدت المسلمین کے ناصر شیرازی شامل ہوں گے۔

Pakistan Anti-government protest leader and cleric Tahir-ul-Qadri (PAT)

ڈاکٹر طاہر القادری ماضی میں بھی ایک زبردست حکومت مخالف تحریک چلا چکے ہیں

ڈاکٹر طاہرالقادری کے مطابق حکومت کے خلاف سترہ جنوری سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک میں شرکت کے لیے آصف علی زرداری، عمران خان، مصطفی کمال، چوہدری شجاعت حسین، سراج الحق اور چوہدری پرویز الہی وغیرہ کو باضابطہ دعوت دے دی گئی ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس نے شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو سات جنوری تک مستعفی ہونے کی ڈیڈ لائن دی تھی لیکن اس پر عمل نہ ہو سکا، ’’اب بات استعفوں سے آگے بڑھ چکی ہے، اب ہم مسلم لیگ نون کے ہر جرم کا حساب چاہتے ہیں اور اس کی حکومتوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘‘

پاکستان میں غیر جانب دار تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے قربت کا تاثر رکھنے والی جماعتیں حکومت مخالف تحریک کے ذریعے انتخابات سے پہلے اپنے کارکنوں کو متحرک کر کے اپنی مرضی کی فضا بنانا چاہتی ہیں اور یہ سارا کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب بلوچستان میں مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے اور ملک میں مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات سے پہلے حکومت کے خاتمے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

اگرچہ اس تحریک کی کامیابی کے بارے میں وثوق سے کہنا ابھی ممکن نہیں ہے لیکن تجزیہ نگاروں کے بقول یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پاکستان میں سب سے بڑے صوبے میں مسلم لیگ نون کی حکومت ہے اور اس صوبے میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کے لیے مرکز میں حکومت بنانا بہت آسان ہوتا ہے۔ ان کے بقول حکومت مخالف تحریک کا ایک مقصد ’کسی کے اشارے پر‘ پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت کو دباؤ میں لا کر اسے سیاسی نقصان پہنچانا ہے۔

اشتہار