’حکومت کی پشت پر موجود قومی اداروں کو دو روز کی مہلت‘ | حالات حاضرہ | DW | 01.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’حکومت کی پشت پر موجود قومی اداروں کو دو روز کی مہلت‘

مولانا فضل الرحمان نے عمران خان حکومت کی پشت پناہی کرنے والے قومی اداروں کو دو روز کی مہلت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اداروں سے تصادم نہیں چاہتے مگر اداروں کو بھی غیر جانبدار دیکھنا چاہتے ہیں۔

جمعیت العلمائے اسلام  ف  کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا، '' ہم پر امن لوگ ہیں اگر ہمیں تنگ کیا گیا تو یہ اتنا بڑا مجمع اتنی قدرت رکھتا ہے کہ وزیر اعظم کو اس کے گھر جا کر گرفتار کر سکتا ہے۔‘‘

مولانا فضل الرحمان بلاول بھٹو زرداری اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ  اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔  مارچ سے لیڈر آف دی اپوزیشن شہباز شریف نے بھی خطاب کیا۔ مارچ کے شرکاء  آج دوسری رات اسلام آباد میں گزاریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو استعفی دینے کی دو روز کی مہلت بھی دی اور اس بات کا اشارہ بھی دیا کہ وہ اپنے شرکاء  کے ہمراہ ڈی چوک منتقل ہو سکتے ہیں۔

 اپنے خطاب کے دوران عوامی نعرے بازی کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  انہوں نے ڈی چوک جانے کا مطالبہ نوٹ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  حکومت نے کشمیر بیچ ڈالا اور معیشت تباہ کر ڈالی، تباہ حال معیشت سے ملک نہیں چل سکتا۔ 

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ''میں میڈیا کے ساتھ کھڑا ہوں اور میڈیا پرسن و مالکان کے ساتھ میری ہمدردیاں موجود ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ میڈیا سے پابندی فوراً اٹھالی جائے اگر پابندی نہیں اٹھائی تو پھر ہم بھی کسی چیز کے پابند نہیں رہیں گے۔‘‘

مولانا نے کہا  کہ وہ غریبوں اور کسانوں کے ساتھ مزید کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے، پچاس لاکھ گھر بنانے کی بات کی گئی تھی مگر پچاس ہزار سے زیادہ لوگوں کے گھر گرا دیے گئے ہیں۔ فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خا ن نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا مگر ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ''ہمیں مذہبی کارڈ استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے، مذہبی کارڈ پاکستان کے آئین میں موجود ہے، آپ کون ہوتے ہیں ہمیں مذہب کی بات سے روکنے والے، اسلام ہے تو پاکستان ہے اور پاکستان کے ساتھ اسلام ہے۔‘‘

قومی اسمبلی  میں لیڈر آف دی اپوزیشن شہباز شریف نے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب عمران خان کی چیخیں نکالنے کا وقت آ گیا ہے،  تبدیلی پہلے نہیں آئی تھی بلکہ اب آئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ''حکومت جادو ٹونے سے چل رہی ہے اور پھونکیں مار کر تعیناتیاں ہو رہی ہیں۔‘‘ 

شہباز شریف نے کہا کہ ''ہم اقتدار میں آکر ملک کو ترقی دیں گے، نہ کر سکے تو میرا نام عمران نیازی رکھ دینا۔ عمران خان کی کنٹینر کی سیاست آج یہاں دفن ہو رہی ہے۔‘‘

بلاول بھٹو زرداری

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب  میں کہا کہ عوام نے ''سلیکٹڈ وزیراعظم‘‘ کو مسترد کر دیا ہے، '' ہم  انہیں  گھر بھیجیں گے۔ الیکشن 2018 میں فوج کو پولنگ اسٹیشن میں کھڑا کر کے انتخابات کو متنازعہ بنایا گیا۔‘‘

 انہوں نے کہا کہ میڈیا پر بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کا انٹرویو تو چل سکتا ہے، بھارتی فضائیہ کے پائلٹ کا انٹرویو تو چل سکتا ہے مگر ایک سابق صدر آصف علی زردای کا انٹرویو نہیں چل سکتا۔ بلاول نے کہا کہ  ملک میں عجیب آزادی ہے، ''یہاں نہ سیاست آزاد ہے اور نہ صحافت۔ عوام ملک میں  صرف جمہوریت مانگتے ہیں کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ حکومت کو نہیں مانتے۔  بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان عوام کی مرضی سے اقتدار میں نہیں آئے وہ 'کسی اور‘  کی وجہ سے اقتدار میں آئے ہیں۔

 

ملتے جلتے مندرجات