حکومت اقتصادی میدان میں کامیاب کیوں نہیں؟ | حالات حاضرہ | DW | 05.04.2019

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

حکومت اقتصادی میدان میں کامیاب کیوں نہیں؟

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو آٹھ ماہ ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک عوام کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ منصوبہ سامنے نہیں آ سکا۔ دوسری جانب مہنگائی اور بیروزگاری میں بھی اضافہ ہی ہوا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے چیئرمین اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے عام انتخابات سے قبل سیاسی اسٹیج پر ہمیشہ ہی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ مہنگائی کم کر کے ریلف دینے کے دعوے کیے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام روز افزوں مہنگائی سے تنگ آ چکے ہیں اور برملا اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ پہلے مہنگائی کم تھی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی ملکی معیشت سے متعلق جاری مالی سال کی دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ 30 جون تک مہنگائی میں اضافے کی شرح 6.5 سے سات  فیصد تک رہے گی۔ مہنگائی بڑھنے کی اہم ترین وجہ پاکستان میں شرح مبادلہ کو قرار دیا گیا ہے، جس میں کئی ماہ سے خاصا اُتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

ایوان صنعت و تجارت کراچی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا،’’ڈالر کی قیمت میں اضافے نے تو صنعت کاروں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہم پریشان ہیں کہ آگے کام کیسے کریں، کس قیمت پر آرڈر بک کریں، جب تک صورتحال واضح نہیں ہوگی، کام متاثر رہے گا۔‘‘

ایکسچینج ریٹ پر بات کرتے ہوئے درآمد کنندہ ہارون اگر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’روپے کی ڈی ویلیو ایشن سے برآمدات میں معمولی اضافہ تو ہو سکتا ہے لیکن اس سے درآمدی بل کی مالیت مزید بڑھ جائے گی۔ ہم کس طرح باہر سے مال منگوائیں گے، زیادہ ڈالر دینے سے ہر چیز مہنگی پڑ رہی ہے، جب چیز ہی مہنگی آئے گی تو پھر ہم سستی کس طرح بیچ سکتے ہیں۔ ہم تو مجبور ہیں کہ صارف پر اپنا بوجھ منتقل کریں، جس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مہنگائی ہو رہی ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے ادارے برائے اکنامک اور سوشل کمیشن فار ایشیا اینڈ پیسیفک نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کی رفتار خطے میں سب سے کم 4.2 فیصد رہے گی، جبکہ بنگلہ دیش، بھارت، نیپال اور مالدیپ کی معیشتیں پاکستان سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی۔

اس سے قبل ایشیائی ترقیاتی بینک بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستانی معیشت کی تصویر پیش کر چکا ہے۔ رپورٹ میں رواں مالی سال معاشی ترقی کی رفتار میں خطرناک حد تک کمی کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عوام مہنگائی کے طوفان کے لیے تیار ہو جائیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال معاشی شرح نمو چھ فیصد کے مقابلے میں 3.9 فیصد رہے گی جبکہ کم آمدنی اور اضافی اخراجات کے باعث بجٹ خسارے کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔

اس رپورٹ کے مطابق بیرونی قرضوں کی واپسی کے باعث بھاری غیر ملکی قرضے لینا پڑیں گے جبکہ پانی کی قلت کے باعث زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف بھی حاصل نہیں ہو پائے گا۔ خام مال کی قیمتوں میں اضافے سے صنعتی شعبے کی ترقی کا عمل بھی سست رہے گا۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں تیزی سے کمی کے باعث مہنگائی بڑھی ہے اور رواں سال کے آخر تک مہنگائی کی رفتار میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے ایشیائی ترقیاتی بینک پر بات کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’میرے خیال میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ صنعت و زراعت کی ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے، مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا،’’مجموعی قومی پیداوار (جی ڈ ی پی) کی شرح افزائش کے لیے اے ڈی بی نے کافی نرم لہجہ اختیار کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تو معاشی ترقی کے لیے ساڑھے تین سے چار فیصد کی پیش گوئی کی ہے‘‘۔

دوسری جانب ادارہ شماریات پاکستان نے مہنگائی سے متعلق جو اعدادوشمار جاری کیے ہیں وہ بھی کچھ حوصلہ افزا نہیں۔ ادارے کے مطابق 31 مارچ تک پاکستان میں مہنگائی کی شرح نو اعشاریہ چار فیصد رہی، جو گزشتہ سال مارچ سن 2018 میں صرف 3.2 فیصد تھی۔

کراچی ریٹیلرز گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین فرید قریشی کے مطابق،’’صرف اشیائے خوردونوش کے دام ہی نہیں بڑھ رہے، بلکہ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمت بھی کافی بڑھ گئی ہے، جس کا اثر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں مزید کہا،’’پہلے دکان پر کافی لوگ خریداری کے لیے آتے تھے، بلکہ مہینے کے اوائل میں تو کافی رش رہتا تھا، لوگ پورے مہینے کا سودا سلف لے جاتے تھے، لیکن اب دیکھیں پوری مارکیٹ میں سناٹا ہے، اب لوگ صرف ضرورت کی چیز ہی خرید رہے ہیں، مہنگائی نے تو ہمارا کام بھی متاثر کیا ہے۔‘‘

صنعت کار شمیم احمد نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’پہلے ڈالر مہنگا ہوا، بجلی، گیس مہنگی ہوئی، پٹرول کے دام بڑھ گئے، اسٹیٹ بینک نے بھی پالیسی ریٹ 50 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 10.75فیصد کر دیا، اس فیصلے سے سب سے زیادہ صنعت کار متاثر ہو گا، ظاہر کہ جب مہنگا قرض لیں گے تو اسے خود تو نہیں برداشت کریں گے، یقیناً اس کی وصولی صارفین سے ہی کی جائے گی۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا،’’ہر طرف مہنگائی ہی مہنگائی ہے، حکومت کہہ رہی ہے کہ بعض مشکل فیصلے کیے ہیں، کچھ عرصے بعد بہتری پیدا ہو گی، اللہ کرے ایسا ہی ہو۔‘‘ اسی صورتحال کے بارے میں جب ڈی ڈبلیو نے تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھنے والے طارق ظفر سے بات کی تو انہوں نے بتایا،’’نہ پہلے چیزیں سستی تھیں، نہ اب ہیں، ہاں اب کچھ اشیاء کے دام کافی بڑھ گئے ہیں، بلکہ عام استعمال اور کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں، لیکن ہماری تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، مکانوں کے کرایے، اسکول کی فیسیں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات وغیرہ سب کچھ بڑھ گیا ہے۔ ٹی وی وغیرہ پر حکومت کی باتیں تو سنتے ہیں کہ ابھی مشکل ہے لیکن کچھ وقت بعد سب اچھا ہو جائے گا، بس اسی پر امید ہے کہ شاید واقعی تبدیلی آجائے گی، یا شاید تبدیلی صرف نعروں تک ہی محدود رہے گی۔‘‘