حوثی باغیوں کا سعودی سویلین ایئرپورٹ پر حملہ | حالات حاضرہ | DW | 12.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

حوثی باغیوں کا سعودی سویلین ایئرپورٹ پر حملہ

سعودی اتحادی افواج نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نواز حوثی باغیوں کے تازہ میزائل حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ حوثی باغیوں کے حملے میں ابہا شہر کے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا اور دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

سعودی اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ یہ حملہ بدھ کی صبح کیا گیا، جس سے چھبیس افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں تین خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں زیادہ تر کو ابتدائی طبی امداد دے کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ کر دیا گیا جبکہ آٹھ افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

گرمیوں کے دنوں میں ابہا کا شہر ریاض اور جدہ کے لوگوں میں مقبول تفریحی مقام سمجھا جاتا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی نسبت ابہا شہر کا موسم گرمیوں میں بھی ٹھنڈا رہتا ہے۔

دوسری جانب سعودی حکام نے اس حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق اس کارروائی میں پاسدران انقلاب کی جانب سے مہیا کیا جانے والا اسلحہ استعمال کیا گیا۔  ایران نواز حوثیوں کی ویب سائٹ کے مطابق اس میزائل حملے میں ہوائی اڈے کے واچ ٹاور کو نقصان پہنچا اور وہاں آگ بھڑک اٹھی۔

Saudi Arabien Huthi-Rebellen greifen Flughafen Abha an (Getty Images/AFP)

یہ حملہ بدھ کی صبح کیا گیا، جس سے چھبیس افراد زخمی ہوئے

حوثی باغیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام کے مطابق ان کے علاقے میں پانچ سال سے جاری جارحیت، ناکہ بندی، صنعا ایئرپورٹ کی بندش اور پھر صورتحال کے کسی سیاسی حل کے انکار نے ان کے لوگوں کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا سوائے اس کے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے خود آگے آئیں۔

حالیہ ہفتوں میں حوثی باغیوں کی طرف سے سرحد پار حملوں میں بظاہر تیزی آئی ہے، جبکہ سعودی اتحادی افواج نے بھی حوثیوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کے لیے حملے بڑھائے ہیں۔

دریں اثناء مصر اور متحہ عرب امارت نے اس تازہ حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ یمن میں دو ہزار پندرہ سے جاری اس جنگ میں دسیوں ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس لڑائی نے ایک بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے، جس کی وجہ سے یمن کی دو تہائی آبادی یعنی دو کروڑ چالیس لاکھ کے لگ بھگ لوگ امداد کو ترس رہے ہیں۔

ش ج / ا ا / (روئٹرز، اے ایف پی)