حوثیوں کی پسپائی، ہادی کے حامیوں کی چڑھائی | حالات حاضرہ | DW | 09.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حوثیوں کی پسپائی، ہادی کے حامیوں کی چڑھائی

عرب ملک یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کو عدن کے بعد زنجیبار سے بھی پسپائی کا سامنا ہے۔ یمنی صدر منصور ہادی کے حامی فوجی اور فائٹرز نے اب ابیان صوبے کے صدر مقام زنجیبار پر بھی قبضے کر لیا ہے۔

default

منصور ہادی کے فتح مند لشکری

یمن کے جلا وطن صدر منصور ہادی کے حامی فوجی دستوں اور ملیشیا نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی صوبے ابیان کے صدر مقام زنجیبار کا قبضہ واپس حاصل کر لیا گیا ہے۔ زنجیبار پر حوثی شیعہ ملیشیا کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی فوج کا ففٹینتھ (15th) بریگیڈ قابض تھا۔ اِس بریگیڈ کے ساتھ حوثی شیعہ ملیشیا کے جنگجُو بھی شہر میں موجود تھے جب ہادی کے حامی لشکریوں نے اُن پر دھاوا بولا تھا۔ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی صدر کے حامی عدن سے پیشقدمی کرتے ہوئے زنجیبار پہنچے تھے۔

شہر میں داخل ہونے والے فائٹرز کو بارودی سرنگوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ حوثی شیعہ باغی اور صالح کے وفادار فوجی شہر سے پیچھے ہٹتے ہوئے بارودی سرنگیں بِچھا کر گئے تھے۔ اِن سے غیر دانستہ طور پر ٹکرانے سے ہادی کی حامی ملیشیا کے کئی فائٹرز کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اِن ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔ اُدھر عدن کے محکمہٴ صحت کے سربراہ الخضر لَسوار کے مطابق کم از کم 19 فائٹرز ہلاک اور 163 کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ زخمیوں کو عدن شہر کے ہسپتالوں اور عبوری طبی امدادی مراکز تک پہنچانے کا سلسلہ بھی شروع ہے۔ دوسری جانب جنگی حالات کی وجہ سے زنجیبار شہر سے مہاجرت کرنے والے شہریوں نے حکومت کے قبضے کے اعلان کے بعد اپنی واپسی بھی شروع کر دی ہے۔

Jemen regierungstreue Truppen erobern Provinzhauptstadt im Südjemen

منصوری ہادی کے حامی فوجی فاتح کی حیثیت سے نعرے لگاتے ہوئے

یمن کے مشہور بندرگاہی شہر عدن میں بھی ہادی کے حامی فائٹرز کو داخل ہونے کے بعد بارودی سرنگوں اور بکھرے ہوئے بارودی مواد کے علاوہ ہتھیاروں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ جنوبی یمن میں منصور ہادی کے حامی فوجی و سویلین فائٹرز نے تین مختلف صوبوں کے دارالحکومتوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ ان میں زنجبیار کے علاوہ عدن اور لحج صوبے کا صدر مقام الحوتا شامل ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ زنجیبار پر قبضے سے حوثی شیعہ مخالف قوتوں نے جنوبی یمن میں اپنے قبضے کو مضبوط کر لیا ہے اور اب بقیہ مقامات پر وہ مزید پلاننگ سے پیش قدمی جاری رکھ سکیں گے۔

دریں اثنا سعودی اتحادی جنگی طیارورں نے یمنی فضائی حملہ کر کے منصور ہادی کے بیس حامی فائٹرز کو ہلاک کر دیا ہے۔ ہلاک ہونے والے جنگجُو جنوبی شہر زنجیبار کی جانب روانہ تھے۔ اتحادی جنگی طیاروں نے انہیں غلطی سے نشانہ بنا ڈالا۔ دوسری جانب یمنی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ہزاروں عام سویلین افراد کو سعودی، مصری، اماراتی اور اردنی فوجی حکام جدید اسلحے کے استعمال کی تربیت دینے میں مصروف ہیں۔ کم مدتی ٹریننگ کے بعد یہ لوگ ہادی کے حامی فوجی دستوں کے ہمراہ زمینی جنگ کا حصہ بن رہے ہیں۔

اشتہار