حمزہ بن لادن کون تھا: اسامہ بن لادن کا بیٹا مارا گیا، امریکی حکومت | حالات حاضرہ | DW | 15.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

حمزہ بن لادن کون تھا: اسامہ بن لادن کا بیٹا مارا گیا، امریکی حکومت

امریکا نے تصدیق کر دی ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کا بیٹا حمزہ بن لادن مارا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق حمزہ کی انسداد دہشت گردی کے ایک آپریشن کے دوران ہلاکت القاعدہ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

تیس سالہ حمزہ بن لادن اسامہ بن لادن کے بیس بچوں میں سے پندرہویں ویں نمبر پر تھا

تیس سالہ حمزہ بن لادن اسامہ بن لادن کے بیس بچوں میں سے پندرہویں ویں نمبر پر تھا

واشنگٹن میں امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے بتایا گیا کہ حمزہ بن لادن جولائی کے آخر میں مارا گیا تھا۔ امریکی حکومت نے اس کی تصدیق البتہ ہفتہ چودہ ستمبر کو کی۔ ساتھ ہی حمزہ بن لادن کی موت کا ٹھیک وقت یا دن بتائے بغیر یہ بھی کہا گیا کہ حمزہ بن لادن 'افغانستان/پاکستان کے خطے میں کیے جانے والے انسداد دہشت گردی کے ایک آپریشن کے دوران مارا گیا‘۔

خبر ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اس سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حمزہ بن لادن شاید پاکستان اور افغانستان کے درمیانی قبائلی علاقوں میں سے کسی جگہ پر یا پاک افغان سرحد کے قریب کہیں مارا گیا کیونکہ دوسری صورت میں امریکی حکام کو یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی کہ حمزہ بن لادن کو 'افغانستان/پاکستان کے خطے میں‘ ہلاک کر دیا گیا۔

ساتھ ہی وائٹ ہاؤس کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کی موت نہ صرف علامتی سطح پر  دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ اس سے اس دہشت گرد تنظیم کی کارروائیوں پر بھی اثر پڑے گا۔

Eiman al-Sawahiri und Osama bin Laden

اسامہ بن لادن، بائیں (القاعدہ کے موجودہ سربراہ) ایمن الطواہری کے ساتھ

حمزہ کے والد اور القاعدہ کے بانی رہنما اسامہ بن لادن کو امریکا میں نیو یارک اور و اشنگٹن میں 11 ستمبر 2001ء کو کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ کہا جاتا تھا۔

پیدائشی طور پر سعودی عرب کا یہ شہری، جس کی سعودی شہریت اس کی موت سے کئی برس قبل ریاض حکومت نے مسنوخ کر دی تھی، 54 برس کی عمر میں یکم مئی 2011ء کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کمانڈوز کی ایک خفیہ شبینہ کارروائی میں مارا گیا تھا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ حمزہ بن لادن اپنے والد کی موت کے بعد القاعدہ میں اہم کردار کا حامل ہو گیا تھا اور گزشتہ چند برسوں سے وہ القاعدہ کی پروپیگنڈا مہم میں بھی زیادہ نظر آنے لگا تھا۔ 2015ء کے بعد القاعدہ کے کئی ایسے پیغامات بھی سامنے آئے تھے، جن میں حمزہ بن لادن نے اس گروپ کے عسکریت پسندوں کو امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملے کرنے کے لیے کہا تھا۔

Pakistan Terror Haus Osama Bin Laden in Abbottabad

پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں (اب گرایا جا چکا) اسامہ بن لادن کا وہ رہائشی کمپاؤنڈ جہاں القاعدہ کا یہ رہنما دو ہزار گیارہ میں ایک امریکی فوجی آپریشن میں مارا گیا تھا

حمزہ بن لادن کون تھا؟

وائٹ ہاؤس کی طرف سے حمزہ بن لادن کی موت کی ہفتہ 14 ستمبر کو کی جانے والی تصدیق سے قبل جولائی کے آخر ہی میں امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی دیکھنے میں آئی تھیں کہ تیس سالہ حمزہ مارا گیا ہے۔

تب لیکن امریکی حکومت نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی تھی۔ قبل ازیں اسی سال امریکی وزرات خارجہ نے فروری میں یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ حمزہ بن لادن کے سر کی قیمت بڑھا کر ایک ملین ڈالر کر دی گئی تھی۔

حمزہ بن لادن، جس کا نام امریکا کو مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں 2017ء میں شامل کیا گیا تھا، امریکی وزارت خارجہ کے مطابق 1989ء میں سعودی عرب کے شہر جدہ میں پیدا ہوا تھا۔ وہ اسامہ بن لادن کے 20 بچوں میں سے 15 ویں نمبر پر تھا اور اس کی والدہ اسامہ بن لادن کی تیسری بیوی تھی۔

م م / ع ح (ڈی پی اے، ے ایف پی)

DW.COM