حقیقت آشکارا کرنے کا وقت آ گیا ہے، کرکٹر رفیق عظیم | کھیل | DW | 16.11.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

حقیقت آشکارا کرنے کا وقت آ گیا ہے، کرکٹر رفیق عظیم

سابق کرکٹر رفیق عظیم برطانوی اراکین پارلیمان کے سامنے منگل کو پیش ہوں گے۔ یارک شائر کرکٹ کلب میں انہیں سنگین نسلی اور امتیازی سلوک کا سامنا رہا تھا۔

برطانوی مبصرین کا خیال ہے کہ برطانیہ کے مشہور کرکٹ کلب یارک شائر میں امتیازی رویوں کا سامنا کرنے والے سابق کرکٹر رفیق عظیم کو ملکی پارلیمنٹ کے ممبران کے سامنے پیش ہو کر اصل حقیقت کو سامنے لانے کا ایک سنہری موقع ملا ہے۔

رفیق عظیم کا بھی کہنا ہے کہ اراکینِ پارلیمنٹ کے سامنے سچ بولنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ دوسری جانب مقبول کرکٹ کلب یارک شائر اس وقت اس نسلی امتیاز کے اسکینڈل کی شدید گرفت میں ہے۔

سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کا استعمال، پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی

نسلی امتیاز کا اسکینڈل

ایک آزادانہ رپورٹ سے بھی ظاہر ہوا ہے کہ رفیق عظیم کو یارک شائر کلب میں نسلی امتیاز کے ساتھ ساتھ استحصالی رویے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ کلب میں قیام کے دوران ان کا مذاق بھی اڑایا گیا۔

Yorkshire Vikings v Birmingham Bears - Vitality Blast

ہیڈنگلے کرکٹ گراؤنڈ یارکشائر کاؤنٹی کے کنٹرول میں ہے

اس نامناسب سلوک کے تناظر میں پاکستان نژاد برطانوی شہری رفیق عظیم کا کہنا ہے کہ اس رویے سے وہ اس قدر دلبرداشتہ ہوئے تھے کہ انہوں نے کئی مرتبہ اپنی زندگی ختم کر دینے کا بھی سوچا تھا۔

اس سلوک پر یارک شائر کاؤنٹی کی جانب سے معذرت بھی پیش کی جا چکی ہے اور اس کا بھی اظہار کیا گیا کہ تمام مرتکب افراد کے خلاف سخت انتظامی کارروائی بھی کی جائے گی۔

'میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے'

اراکین پارلیمنٹ کے سامنے حاضری

منگل سولہ نومبر کو تیس سالہ سابق کرکٹر رفیق عظیم برطانوی پارلیمنٹ کی ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اور اسپورٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ انہوں نے اس میٹنگ میں طلبی پر ٹویٹ کی کہ سچ سامنے لانے کا وقت آ گیا ہے۔

کمیٹی نے رفیق عطیم پر واضح کیا ہے کہ وہ بلاخوف، ڈر اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر حقائق کو بیان کریں کیونکہ انہیں پارلیمانی پریولج یا رعایت حاصل ہو گی۔ ابھی یہ نہیں بتایا گیا کہ رفیق عظیم کے بیان پر یارک شائر کو کس انداز کے تادیبی اقدامات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سرفراز پر چار میچوں کی پابندی لگ گئی

یارک شائر کرکٹ کلب کی پریشانی

برطانوی کاؤنٹی کرکٹ چیمپیئن شپ میں یارک شائر کلب ایک معروف اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک کامیاب کلب کو ان الزامات کے بعد نہایت مشکل سماجی و مالی حالات کا سامنا ہے۔ رفیق عظیم کے الزامات اور کلب کی معذرت کے بعد اسپانسرز نے اس کلب کی بین الاقوامی میچوں کے دوران سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور ایسا خیال کیا گیا ہے کہ مستقبل میں اس کلب کو مزید مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

Großbritannien Barnsley Rathaus

یارکشائر کئی تاریخی عمارتوں کا حامل شہر ہے

اسکینڈل کے تناظر میں یارک شائر کلب کے چئیرمین راجر ہَٹن رواں ماہ کے اوائل میں اپنے منصب سے مستعفی ہو گئے تھے۔ اسی طرح کلب کے چیف ایگزیکٹیو مارک آرتھر بھی عہدے سے استعفیٰ دے کر کلب کو فی الوقت الوداع کہہ گئے ہیں۔

اسی کلب کے کنٹرول میں مشہور ہیڈنگلے اسٹیڈیم ہے اور اس میں ہر سال غیر ملکی ٹیمیں ٹیسٹ میچ کھیلتی ہیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم بھی اس میدان پر کئی میچ کھیل چکی ہے۔ کلب کے مستعفی ہونے والے چئیرمین راجر ہَٹن بھی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کرائیں گے۔

ع ح/ ا ا (اے ایف پی)