’حسن کی صورتحال‘، مرزا اطہر بیگ کا نیا ناول | فن و ثقافت | DW | 24.05.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’حسن کی صورتحال‘، مرزا اطہر بیگ کا نیا ناول

مرزا اطہر بیگ کا نیا ناول ‘حسن کی صورتحال، خالی جگہیں پُر کرو‘ بھی قارئین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ناقدین کے بقول یہ ناول اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔

پاکستان کے نامور ادیب مرزا اطہر بیگ کو اردو ادب میں ‍ ’کومک رئیلز‘ کا بانی بھی قر ار دیا جاتا ہے۔ 2006 میں شائع ہونے والے ان کے پہلے ناول ’غلام باغ‘ نے اردو ادب میں ایک تہلکہ مچا دیا تھا اور فلسفے کے استاد اور ڈرامہ نویس کی حیثیت سے جانے جانے والے اطہر بیگ کی ایک نئی شناخت عام ہوئی تھی۔

جلد ہی ان کا دوسرا ناول ‘صفر سے ایک تک‘ بھی ادبی حلقوں کے علاوہ عوامی سطح پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اسی طرح ان کا افسانوں کا مجموعہ ’بے افسانہ‘ بھی ناقدین کے توقعات سے بڑھ کر ثابت ہوا۔ ان کے تیسرے ناول’حسن کی صورتحال، خالی جگہیں پُر کرو‘ کی اشاعت پر ڈوئچے ویلے نے ان سے خصوصی گفتگو میں توجہ اسی ناول پر مرکوز رکھی۔

ڈی ڈبلیو : کیا آپ اپنے اس نئے ناول سے بھی مطمئن ہیں؟

اطہر بیگ: اس ناول سے میں کافی مطمئن ہوں کہ جو میں کرنا چاہتا تھا وہ میں نے کیا۔ اب جب یہ ناول شائع ہو گیا ہے تو اگلہ مرحلہ ریڈرز کا رسپانس ہے، کیونکہ یہ ناول بھی ضخیم ہے اور یہ بھی تقریبا چھ سو صفحوں پر مشتمل ہے، اس لیے ظاہر ہے کہ اسے پڑھنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن اس کے باوجود جن لوگوں نے اسے پڑھا ہے، ان کی طرف سے بہت اچھا رسپانس آیا ہے۔ اور یہ بات تو ہے ہی کہ ایک اطمینان تو ہوتا ہے جب آپ کوئی کام مکمل کرتے ہیں۔ اس ناول کو میں نے لکھنا شروع کیا تھا 2009 میں۔ اس دوران مجھے کچھ دیگر کام بھی رہے اور اس کے علاوہ مجھے بعض اوقات اس ناول کوRe Write بھی کرنا پڑا، جس کے وجہ سے مجھے اس ناول کو مکمل کرنے میں تقریبا چار سال لگ گئے۔

ڈی ڈبلیو: کیا آپ نے اس ناول میں بھی ایک نئے موضوع پر طبع آزمائی کی ہے؟

مرزا اطہر بیگ: نئی بات تو بالکل ہے اور یہ تو ہمیشہ ہی میرے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے کہ میں خود کو مت دہراؤں۔ یہ ناول کئی اعتبار سے نئے موضوعات سے عبارت ہے۔ اس ناول کی ادبی تکنیک ، مکمل فارم اور اس کے علاوہ متن کی جو وسعت ہے، یہ ساری چیزیں ایک سطح پر نئی ہیں۔ اس بات کو نہ صرف عوامی بلکہ ادبی حلقوں میں بھی تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔

ڈی ڈبلیو : ایک مرتبہ پھر فلسفیانہ خیالات پڑھنے کو ملیں گے؟

اطہر بیگ: (ہنستے ہوئے) اس سوال کا مجھے ہمیشہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بنیادی طور پر میں اپنی فکشن میں فلسفیانہ مضامین کو کبھی بھی شعوری طور پر شامل کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہوں۔ چونکہ فلسفیانہ مضامین میری ذات کا حصہ ہیں اس لیے یہ میری فکشن کی بنت میں تو آتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو: اس ناول کو آپ خود کس طرح بیان کریں گے؟

اطہر بیگ: اس ناول کو ہم ایک تہذینی Synthesis کہہ سکتے ہیں۔ میں نے اس ناول میں اس خطے کی تہذیب کے تاریخی، ثقافتی، معاشرتی، جمالیاتی، تخلیقی، وقوفی اور بشریاتی پہلو سمیٹنے اور ان کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس ناول میں ایک ترکیب استعمال کی گئی ہے’صورتحال‘، جیسے اسٹیٹ آف افیئرز بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی مکمل صورتحال ہے جس کا ہمیں آج کل سامنا ہے۔ اس ناول کے مرکزی کردار حسن کی سوچ اور پرکھنے کے عمل سے اس ’صورتحال‘ کا آغاز ہوتا ہے اور بعد میں اسی ’صورتحال‘ کے متعدد پہلو سامنے آتے ہیں، جس میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ڈی ڈبلیو: کیا اس ناول کی کہانی میں آپ اپنا مؤقف بھی پیش کر رہے ہیں؟

اطہر بیگ: دراصل ناول یا فکشن میں آپ اُس طرح کھل کر بات نہیں کرتے ہیں، جس طرح آپ کسی آرٹیکل یا کسی دوسری نثری تصنیف میں کرتے ہیں لیکن یہ بات ضروری ہے کہ اس ناول میں میرا سیاسی، معاشرتی، تاریخی اور جمالیاتی مؤقف ظاہر ہوتا ہے۔

ڈی ڈبلیو: اس ناول میں کیا لکھاری اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہوتا دِکھائی دیتا ہے؟ اور کیا اس مخصوص ناول کو ہم رویوں کی تہذیب کے حوالے سے جانچ سکتے ہیں؟

اطہر بیگ: میرا خیال ہے کہ فکشن یقینی طور پر ہمارے رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں چونکہ خواندگی کا مسئلہ بھی ہے، اس لیے اس کا اثر اتنا زیادہ نہیں دیکھا جاتا لیکن پھر بھی محدود حد تک فکشن بہرحال اپنے نقوش ضرور چھوڑتا ہے۔

اس ناول میں صرف مقامی ہی نہیں بلکہ عالمی اثرات کا بھی احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جیسا کہ مختلف معاشروں کے تہذیبی پس منظر کا تقابلی جائزہ ہے۔ اس کے علاوہ پھر مقامی سطح کے جو مظاہر ہیں، جیسا کہ تھیٹر ہے یا فلم ۔ میں نے ان کو ادبی استعارات کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ان تمام کا اثر تو ضرور ہوتا ہے۔

ایک تو وہ سطح ہے، جس کا پاکستان میں ہم سب کو سامنا ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ ایک دو دہائیوں سے عدم برداشت، تشدد اور دیگر خطرات ہیں، ہم سب اس کا شکار بن چکے ہیں۔ اس صورتحال کے مہلک اثرات ہم سب کے اذہان پر بھی پڑتے ہیں۔ ایک آدمی کی طرح ایک ادیب پر بھی اس خاص صورتحال کا بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔

جب اس طرح کی صورتحال کسی معاشرے، ملک یا دور میں طاری ہوتی ہے تو ادیب کی ہر تحریر اسی رنگ میں رنگی جاتی ہے، جو کہ آپ کی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر بظاہر غیر اہم باتیں بھی ہوتی ہیں، جو انسان کے نفسیاتی اور جذباتی حوالوں سے انتہائی اثر انداز ہوتی ہیں اور کبھی کبھار رائٹرز ان کو قطعی غیر اہم گردانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ضروری نہیں بلکہ صرف بڑی باتوں یا صورتحال پر ہی توجہ مرکوز کی جانا چاہیے۔ لیکن میرے خیال میں ایسا کرنے سے ادبی حوالے سےنقصان ہی ہوتا ہے۔

میں نے اب یہ کوشش کرنی ہے کہ ہمارا جو بڑا اور مجموعی آشوب ہے اس سے نکل کر ، انسانی زندگی کے جو دوسرے بظاہر چھوٹے چھوٹے پہلو ہیں، ان کو افسانوں کی صورت میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے۔

Pakistan Mirza Athar Baig

ادیب کو اپنے قاری پیدا کرنا چاہییں نہ کہ وہ خود قاری کے ذریعے تخلیق ہو، مرزا اطہر بیگ

ڈی ڈبلیو: اس ناول کا ٹارگٹ گروپ کسے تصور کرتے ہیں آپ؟

اطہر بیگ: ٹارگٹ گروپ تو میرا اب متعین ہو ہی چکا ہے۔ پہلے دو ناولوں کی وجہ سے میری ایک مخصوص ریڈر شپ بن چکی ہے اور اس میں وسعت ہی پیدا ہو رہی ہے۔ اس نئے ناول کا ردعمل اب زیادہ وسیع حلقوں کی طرف سے آ رہا ہے۔ سنجیدہ اردو فکشن پڑھنے والے تمام قاری اب میری تصانیف پڑھ رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ادیب کو اپنے قاری پیدا کرنا چاہییں نہ کہ وہ خود قاری کے ذریعے تخلیق ہو۔

ڈی ڈبلیو : اس ناول کی بنیادی کہانی کیا ہے؟

اطہر بیگ: اس ناول کی کہانی کی اگر بات کریں تو یہ حسن نامی ایک کردار کے گرد گھومتی ہے۔ حسن کی عادت ہے کہ جب بھی سفر کے دوران وہ اپنی سواری سے باہر دیکھتا ہے اور جب کوئی بات اسے متحیر یا حیران کرتی ہے یا تجسس کا باعث بنتی ہے تو وہ اس کے بارے میں سوچتا ہے کہ یہ کیا ہے ، کیسے ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے۔ اور اس ناول کے دوسرے ضمنی ٹائٹل ہے ’خالی جگہ پر کرو‘ میں حسن اپنے طور پر ان واقعات اور باتوں کی توجیہات تلاش کرتا ہے۔ یہ دراصل اس کی ایک عادت ہے۔

اس کردار کی زندگی میں اس طرح کے جتنے بھی واقعات پیش آ رہے ہیں، اس ناول میں ان کو لے کر ہم آگے چلتے ہیں۔ اس طرح یہ بات کہیں کی کہیں پہنچ جاتی ہے۔ یہ ناول شروع ہوتا ہے کوئی 80 کی دہائی سے۔ پھر بعد میں ایک فلم گروپ حسن کے کردار سے متاثر ہو کر اس پر فلم بنانا شروع کرتا ہے۔ یہ ایک لمبی داستان ہے کہ کیا یہ فلم گروپ اپنے اس منصوبے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ اس ناول میں تھیٹر کے علاوہ سریلزم جیسے دیگر ادبی مسائل پر بھی طبع آزمائی کی گئی ہے۔ اس ناول کی کہانی کوئی سیدھی سیدھی کہانی نہیں ہے بلکہ اس میں کافی مختلف تکنیکز استعمال کی گئی ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس ناول کو پڑھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی ہے۔

ڈی ڈبلیو : اب آگے کیا ارادہ ہے؟

اطہر بیگ: نیا منصوبہ دراصل ایک پرانا منصوبہ ہی ہے، جو کافی عرصے سے طوالت کا شکار ہے۔ اس پر میں نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ ’جمال شمسی فرید رجب علی کی تاریک دنیا‘ نامی اس ناول کے چار پانچ سو صفحے میں لکھ چکا ہوں۔ لیکن اس کا میں مکمل طور پر جائزہ لے رہا ہوں۔ بہت جلد ہی یہ ناول بھی منظر عام پر آ جائے گا بلکہ میرا خیال ہے کہ رواں برس ہی یہ شائع ہو جائے گا۔ یہ ناول کافی حد تک ’ادبی تھرلر‘ کی طرز کا ہو گا۔

اشتہار