حج کا مذہبی فريضہ اہم يا صحت عامہ: سعودی حکام کشمکش ميں مبتلا | معاشرہ | DW | 16.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

حج کا مذہبی فريضہ اہم يا صحت عامہ: سعودی حکام کشمکش ميں مبتلا

سعودی حکومت ان دنوں حج کی اجازت دينے يا اس کی منسوخی کے بارے ميں فيصلے پر غور کر رہی ہے۔ حج کے حوالے سے کسی بھی قسم کے فيصلے سے اسلامی دنيا ميں وسيع تر نتائج سامنے آئيں گے۔

جديد تاريخ ميں پہلی مرتبہ اس سال حج کی باقاعدہ منسوخی کا امکان موجود ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے تناظر ميں کئی مبصرين کی رائے ہے کہ سعودی حکومت کو يا تو اس بار حج مکمل طور پر منسوخ کرنا پڑے گا يا پھر حج کے دوران ادا کی جانے والی مذہبی رسومات کو کافی حد تک محدود رکھنا پڑے گا۔

چند حلقوں ميں يہ بات بھی چل رہی ہے کہ شايد حج صرف مقامی سعودی باشندے ہی کر سکيں۔ اس کا پس منظر محدود بين الاقوامی فضائی سفر ہے۔

اسلامی عقائد کے مطابق اگر مالی صورت حال اور صحت اجازت دے، تو مسلمانوں کے ليے زندگی ميں کم از کم ايک مرتبہ حج کرنا فرض ہے۔ گزشتہ برس دنيا بھر کے ڈھائی ملين سے زائد مسلمانوں نے حج کا فريضہ ادا کيا تھا۔

کورونا وائرس کی عالمگير وبا کے تناظر ميں اس بار يہ ممکن دکھائی نہيں ديتا کہ اتنی بڑی تعداد ميں لوگ جمع ہو سکيں۔ يہی وجہ ہے کہ رياض حکام نے مارچ ميں ہی يہ عنديہ دے ديا تھا کہ اس سال حج کرنے کے خواہش مند مسلمان اپنی تيارياں معطل کر ديں۔

يہ امر بھی اہم ہے کہ حج کے حوالے سے کسی بھی قسم کے فيصلے کے سياسی، سماجی اور شديد اقتصادی نتائج برآمد ہوں گے۔ اس بات کے بھی قوی امکانات ہيں کہ سخت اسلامی نظريات کے حامل افراد، جن کے ليے 'مذہبی فريضوں کی ادائيگی ان کی ذاتی يا اجتماعی صحت سے زيادہ اہم ہے‘، حج کی ممکنہ منسوخی سے نالاں ہوں۔

حج سے سعودی عرب کو ہر سال بارہ بلين ڈالر کے برابر منافع حاصل ہوتا ہے

حج سے سعودی عرب کو ہر سال بارہ بلين ڈالر کے برابر منافع حاصل ہوتا ہے

منسوخی کے کسی ممکنہ فيصلہ سے کئی مذہبی حلقے دوبارہ يہ بحث بھی شروع کر سکتے ہيں کہ اسلام کے سب سے زيادہ اہم مذہبی مقام خانہ کعبہ کی نگرانی صرف سعودی عرب کے سپرد کيوں ہے۔ مسلم دنيا ميں سعودی عرب کی سياسی ساخت اور قد و قامت منوانے ميں خانہ کعبہ کی نگرانی کی ذمہ داری کافی اہميت کی حامل ہے۔

اس سال حج جولائی کے اواخر ميں ہونا ہے۔ ان دنوں مسلمان ملکوں کا رياض حکومت پر اس سلسلے ميں کسی حتمی فيصلے تک پہنچنے کے ليے کافی دباؤ ہے۔ ايک سعودی اہلکار نے خبر اساں ادارے اے ايف پی کو بتايا کہ عنقريب فيصلے کا اعلان کر ديا جائے گا۔

دنيا بھر ميں سب سے زيادہ آبادی والے مسلم ملک انڈونيشيا نے اپنے شہريوں کو حج کے ليے سفر نہ کرنے دينے کا داخلی سطح پر حتمی فيصلہ کر ليا ہے۔ متعلقہ وزير نے اسے ايک انتہائی کٹھن فيصلہ قرار ديا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وبا کے تناظر ميں يہ ناگزير تھا۔

بعد ازاں ملائيشيا، سينيگال اور سنگاپور نے بھی انڈونيشيا کے نقش و قدم پر چلتے ہوئے اپنے شہريوں کے ليے اس سال حج کو خارج از امکان قرار دے ديا۔ دوسری جانب مصر، مراکش، ترکی، لبنان اور بلغاريہ جيسے کئی ممالک اس وقت رياض کے فيصلے کے منتظر ہيں۔

'رائل يونائٹڈ سروسز انسٹيٹيوٹ ان لندن‘ سے وابستہ محقق عمر کريم کا کہنا ہے کہ اس فيصلے ميں تاخير يہ ثابت کرتی ہے کہ سعودی حکام حج کی منسوخی يا اس کی رسومات ميں کمی کے ممکنہ سياسی نتائج سے آگاہ ہيں۔ ''سعودی حکام ايک طرح سے وقت خريد رہے ہيں۔ اگر آخری وقتوں ميں انہوں نے يہ کہہ بھی ديا کہ اس سال حج تمام تر رسومات کے ساتھ اور روايتی طور طريقوں کے ساتھ ہی ہو گا، تو کئی ممالک شايد فوری طور پر انتظامات مکمل نہ کر پائيں۔‘‘

'کارنگی انڈاؤمنٹ فار انٹرنيشنل پيس‘ سے وابستہ ياسمين فاروق کہتی ہيں، ''حج کسی بھی مسلمان کی زندگی کا سب س روحانی تجربہ ہوتا ہے ليکن اگر سعودی عرب موجودہ صورتحال ميں حج کی اجازت دتا ہے، تو اس سے ملکی نظام صحت سخت دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔‘‘ ان کے بقول حج کی اجازت دے کر وبا کو ہوا دينے کے ليے بھی رياض حکومت ہدف تنقيد بن سکتی ہے۔

سعودی عرب کا قيام سن 1932 ميں عمل میں آیا تھا۔ اگر اس سال حج منسوخ کر ديا جاتا ہے تو اس ملک کی تاريخ ميں ايسا پہلی مرتبہ ہو گا۔

ع س / ش ح ( اے ايف پی)