حجاب پہننے والی مسلم پناہ گزين خاتون، امريکی کانگريس کی رکن | حالات حاضرہ | DW | 07.11.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

حجاب پہننے والی مسلم پناہ گزين خاتون، امريکی کانگريس کی رکن

امريکا ميں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت ميں مسلمان مخالف جذبات اور ان پر حملوں ميں اضافہ ديکھا گيا ہے تاہم وسط مدتی انتخابات ميں کانگريس کے ليے دو مسلمان خواتین کے انتخاب سے ملک ميں ايک نئی تاريخ رقم ہو گئی ہے۔

امريکا کی ڈيموکريٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی دو مسلمان خواتین کو ايوان نمائندگان کی رکنيت حاصل ہو گئی ہے۔ تاريخ ميں پہلی مرتبہ ايسا ہوا ہے کہ مسلمان خواتین کو کانگريس کی ارکان کے طور پر منتخب کيا گيا ہو۔ افريقی ملک صوماليہ سے تعلق رکھنے والی پناہ گزين پس منظر کی حامل الہان عمر منيسوٹا سے منتخب ہوئيں۔ وہ کيتھ اليسن کی جگہ ليں گی، جو ايسے پہلے مسلمان ہيں جنہيں امريکا کی کانگريس کے رکن کے طور پر چنا گيا تھا۔ علاوہ ازيں فلسطينی پناہ گزين والدين کی ڈيٹرائٹ ميں پيدا ہونے والی بيٹی اور ايک سماجی کارکن رشيدہ تلیب اپنے علاقے سے منتخب ہوئيں۔

امريکا ميں مسلمان مخالف جذبات اور ان پر حملوں میں حالیہ کچھ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ’کونسل آن امريکن اسلامک ریليشنز‘ کے مطابق رواں سال امريکا ميں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم ميں اکيس فيصد کا اضافہ نوٹ کيا گيا ہے۔ ايسے ماحول ميں دو مسلمان عورتوں کے کانگريس تک پہنچنے کو کافی سراہا جا رہا ہے۔

 42 سالہ رشيدہ تلیب

42 سالہ رشيدہ تلیب

37 سالہ الہان عمر اور 42 سالہ رشيدہ تلیب دونوں اپنے خيالات کا اظہار بڑے بے باک انداز سے کرتی ہيں اور صدر ٹرمپ کی مہاجرين مخالف پاليسيوں کی کڑی ناقد ہيں۔

الہان عمر آٹھ برس کی عمر ميں اپنے والدین کے ہمراہ اپنے ملک سے فرار ہوئی تھيں۔ پھر انہوں نے چار برس کينيا ميں ايک مہاجر کيمپ ميں گزارے۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سن 1997 ميں منيسوٹا منتقل ہوئيں۔ وہ دو برس قبل رياستی سطح کی سياست ميں نمائندگی حاصل کرنے ميں کامياب رہيں۔ الہان عمر بلا معاوضہ کالج کی تعليم، مکانات اور جرائم سے نمٹنے والے قوانين ميں اصلاحات کی وکالت کرتی ہيں۔

ع س / ا ا، نيوز ايجنسياں