حجاب نا ہوا، عذاب ہو گیا | دستک | DW | 17.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

حجاب نا ہوا، عذاب ہو گیا

بھارتی جامعات میں حجاب کے حوالے سے صورتحال بدل رہی ہے۔ معاشرے میں تو حجاب کی گنجائش موجود ہے لیکن کوئی باحجاب خاتون اگر کسی اعلیٰ تعلیم گاہ تک پہنچ جائے تو یہ حجاب اکثر لوگوں کے ماتھے پر گہری شکن پیدا کر دیتا ہے۔

ہمارے یہاں یعنی مشرق میں کسی چیز پر سند حاصل کرنی ہو تو بہت سے لوگ بے اختیار کہتے ہیں کہ دیکھو فلاں چیز یا فلاں رسم اب گورے بھی کرتے ہیں۔ کیا کریں کہ یہ ہمارے مزاج کا ایک انمٹ حصہ بن چکا ہے۔ حجاب یا برقعے کے تئیں دنیا میں قبولیت کی راہ قدرے ہموار ہو چکی ہے۔ اس کو فقط مذہب کی بجائے خواتین کی اپنی مرضی اور ثقافتی پس منظر میں دیکھا جانے لگا ہے۔

ہالی ووڈ کی مشہور سیریز کا حصہ ''اسپائڈر مین فار فرام ہوم‘‘ میں حجابی خاتون کا دکھایا جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب حجاب معاشرے  کی قبول شدہ ایک رسم بن چکا ہے۔ لیکن بھارتی جامعات میں صورتحال بدل رہی ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اکثر  لوگوں کی نگاہیں حجاب پہننے والی خواتین کا فیصلہ کن انداز میں تعاقب کرتی ہیں، فقرے تک کسے جانے لگتے ہیں مثلا!''برقعے والی میڈم، دیکھو یہ برقعے والی لڑکی ہو نہ ہو عربی یا فارسی پڑھتی ہو گی۔‘‘

ایسا بھی سمجھا جاتا ہے کہ یونیورسٹی میں حجاب کرنے والی لڑکی دنیا سے بیگانی، کسی نئی ٹیکنالوجی اور نئے فیشن سینس سے نابلد ہو گی۔ یا یوں کہ حجاب ایک انتہاپسندانہ رخ کا مظاہرہ کرتا ہے، کٹر مسلم ہو گی۔

 اگر آپ موجودہ بھارتی منظرنامے سے واقف ہیں تو یہ رجحان آپ کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے، اسے آپ خوب سمجھتے ہوں گے۔ آپ کی تمام تر صلاحیتیں پرکھنے سے پہلے ہی حجاب والی لڑکی کو مشکوک سمجھا جانے لگتا ہے۔ کارل ماکس، لینن، ہیگل، ایمانوئیل کانٹ اور نطشے جیسے عظیم فلسفیوں کو پڑھنے والے لوگ آپ کو نافہم اور کج روؤں کی فہرست میں شمار کرنے لگتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں تعلیم گاہ آپ کو کتنے ذہنی  دباؤ سے گزارتی ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

 میں قارئین پر یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتی ہوں کہ یہ محض تصویر کا ایک رخ ہے۔ حجاب سے متعلق یہ ججمینٹل رویہ ان لوگوں کا ہے، جو مسلم معاشرت، کلچر اور رسم و راہ سے بیگانے ہیں۔ لیکن ایسے اشخاص، جو مسلم معاشرت کے پروردہ ہیں، ان کے اندیشے اور خدشات بالکل مختلف ہیں۔ اگر انہیں با حجاب خاتون کسی لڑکے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف دکھائی دے جائے یا موسیقی، رقص، کھیل کود یا قہقہے لگاتی دکھائی دے تو وہ اسے پدرانہ سرزنش کا حقدار سمجھتے ہیں۔

مفت کی تلقین کہ اس طرح کے کاموں میں با حجاب یا حیا دار لڑکیاں حصہ نہیں لیتیں۔ ان خواتین کے لیے ایسے صاحبان کا رویہ یوں ہو جاتا ہے گو کہ وہ ان کی منکوحہ یا محبوبہ ہیں۔ حجاب نا ہوا عذاب ہو گیا۔ اس طرح کی ججمینٹل معاشرت میں اگر کوئی حجاب کو لے کر بد دل ہو جائے تو اسے ہرگز  اسلام مخالف نہیں کہا جا سکتا۔

 نا جانے مسلم احباب یہ کیوں سمجھنے لگتے ہیں کہ حجاب یا برقعہ پہننے والا عالم اسلام کی عظمت اٹھائے ہوئے ہے۔ اس نے حجاب کر لیا ہے تو وہ شریعت کا محافظ اور علمبردار ہے اور اس کی کسی نازیبا حرکت سے اسلام خطرے میں پڑ جائے گا۔

 ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہیے  کہ برقعے سے دین اسلام پر حرف نہیں آتا۔ ہم محض جنسی مساوات سے ترقی نہیں حاصل کر سکتے ہیں۔ مساوات کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر مخلتف زاویہ فکر ہیں، جن پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔ 

بعض اوقات حجاب محض روایت کی پاسداری کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ برقعہ یا حجاب فیشن ہو سکتا ہے، طرز زندگی ہو سکتا ہے، مذہبی خیال ہو سکتا ہے یا محض لباس کا ایک انداز۔ ان سارے پہلوؤں کو کھلا رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی جامعہ یا ادارے میں اس طرح کی ذہنیت حاوی ہونے لگے کہ فلاں کا یہ طرز لباس ہے تو اس کی شخصیت میں یہ کجی ہو گی تو سمجھیے کہ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانان میں فکری کجی پیدا ہو رہی ہے۔

 اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھگوا رنگ اور حجاب دونوں ایک طرح کی ذہنیت کے عکاس ہیں تو ان پر واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ عہد میں حجاب ہو یا لباس کی دیگر طرز یہ آپ کا کمفرٹ زون ہے۔ ہمارے اہل دین کو یہ ہر گز نہیں بھولنا چاہیے  کہ ''بات کرو تا کہ تم پہچانے جاؤ کیونکہ انسان اپنی زبان کے پیچھے پوشیدہ ہے‘‘ ناکہ لباس کے پیچھے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔