حب الوطنی سے سرشار گیتوں کے ساتھ کشمیر پر دعوے کا پرچار | معاشرہ | DW | 23.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

تنازع کشمیر

حب الوطنی سے سرشار گیتوں کے ساتھ کشمیر پر دعوے کا پرچار

بھارت میں سوشل میڈیا پر شائع کی گئی ایک میوزک ویڈیو میں یوٹیوب کے لاکھوں بھارتی صارفین کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقوں میں زمینیں خریدیں اور کشمیری خواتین سے شادیاں بھی کریں۔

بھارت میں رواں ماہ کے آغاز میں ہندو قوم پرست حکومت کے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخ کرنے کے اعلان کے فوراﹰ بعد ہی سوشل میڈیا پر ایسی متعدد میوزک ویڈیوز سامنے آنا شروع ہوگئیں، جس میں ہندوؤں کو جموں و کشمیر میں زمین خریدنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ 'پیٹروئٹزم پاپ‘ یعنی حب الوطنی کے جذبات سے بھرے ان  گیتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ایسے گیت قوم پرستی اور دائیں بازو کے قدامت پسند رویے کو فروغ دے رہے ہیں۔

یہ گیت زیادہ تر فیس بک، ٹوئٹر اور تیزی سے مقبول ہوتی ایپ ٹِک ٹاک جیسے پلیٹ فارم پر شیئر کیے جاتے ہیں۔ ناقص معیار کی ویڈیو پروڈکشن کے باوجود ایسے ویڈیوز نے YouTube پر  لاکھوں کلکس حاصل کیے ہیں۔

بھارت کے شمالی اور مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان میں یہ گانے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ ان گانوں کی پراڈکشن میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتی ریاست بہار میں رنگ میوزک اسٹوڈیو کے نتیش سنگھ نرمل کا دعوی ہے کہ انہوں نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی ضمانت دینے والے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے تین گھنٹے بعد پہلا  گیت تیار کیا تھا۔ 'دھرنا 370‘ اور 'آرٹیکل 370‘ کے نام سے بنائے گئے ان نغموں کو یوٹیوب پر 1.6 ملین ہٹس مل چکی ہیں۔ نرمل سنگھ کے بقول، ''میں قوم کی خدمت کر رہا ہوں، لوگ ان گانوں پر رقص کرتے ہیں۔‘‘

 

قبل ازیں چھ اگست کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن وکرم سینی نے کشمیری خواتین کے ساتھ شادی کے حوالے سے بیان دیا تھا جس کے بعد ان کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ناقدین کے مطابق، کشمیری خواتین کے خلاف ایسے بیانات روایتی پدرانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

اتر پردیش میں تعلیم حاصل کرنے والے بیس سالہ سلمان صدیقی نے نرمل کے ساتھ مل کر ایک ایسے شخص کے بارے میں گیت تیار کیا جو رشتے کی تلاش میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کا سفر کرتا ہے۔ نرمل اور صدیقی کے مطابق یہ گیت کسی صنف کے خلاف نہیں ہیں بلکہ بہت سارے بھارتی مرد کشمیری خواتین سے شادی کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ماضی میں اس نوعیت کی ' موسیقی‘ کو بھارت میں ہندوتوا کے پرچار اور پاکستان مخالفت کے علاوہ گھر گھر بھارتی پرچم  لگانے کو عام کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن اب، یہ گیت خصوصی طور پر بھارتی زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے تیار کیے جا رہے ہیں۔

ع آ / ع ا (اے پی)

ویڈیو دیکھیے 03:17

’والدین بے یارومددگار میری راہ تک رہے تھے‘

DW.COM

Audios and videos on the topic