حاملہ خواتین تذلیل آمیز رویے کا شکار | وجود زن | DW | 09.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

وجود زن

حاملہ خواتین تذلیل آمیز رویے کا شکار

عالمی ادارہٴ صحت کی ایک تازہ  رپورٹ کے مطابق افریقہ اور ایشیا کے چار ممالک کی قریب ایک تہائی خواتین کو بچے کی پیدائش کے دوران تھپڑوں اور ان کا مذاق اڑائے جانے جیسے تذلیل آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

طبی جریدے 'دی لینسیٹ جرنل‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق نائجیریا، میانمار، گھانا اور گنی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی زیادہ تر تعداد کے بچے قدرتی طریقے کے بجائے آپریشن کے ذریعے پیدا ہوئے اور طبی عملے نے خواتین سے آپریشن کرنے کی اجازت بھی نہ لی۔

عالمی ادارہء صحت کی تحقیق میں دو ہزار خواتین کا بچوں کی پیدائش کے دوران مشاہدہ کیا گیا اور بچہ پیدا کرنے کے بعد 2600 خواتین کے انٹرویو کیے گئے۔ ان خواتین میں 42 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں بچے کی پیدائش کے دوران جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا۔ اس تحقیق کے مطابق زیادہ تر کم پڑھی لکھی اور نوجوان خواتین کو تذلیل آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ واقعات میں تو ایسی خواتین کو حراست میں لیا گیا جو بچے کی پیدائش کے وقت فراہم کی جانے والی طبی سہولت کی فیس ادا کرنے سے قاصر تھیں۔

 

رپورٹ کے مطابق حاملہ خواتین کے ساتھ ناروا سلوک بچے کی پیدائش سے قریب پندرہ منٹ قبل شروع کیا جاتا تھا۔ ریسرچ کے مطابق ڈاکٹروں اور دائیوں نے شکایت کی تھی کہ حاملہ خواتین بچے کی پیدائش کے موقع پر دی جانے والی زبانی ہدایات پر عمل نہ کر کے عدم تعاون کا شکار تھیں۔ ڈاکٹروں اور دائیوں نے بچے کی ولادت کے موقع پر دی جانے والی 'سزا‘ کو درست بھی قرار دیا۔

ہیلتھ حکام کے مطابق بچے کی پیدائش کے موقع پر حاملہ خواتین کے ساتھ نازیبا سلوک ساری دنٓیا میں بشمول ترقی یافتہ ملکوں میں پایا جاتا ہے لیکن اس کا باضابطہ ریکارڈ میسر نہیں ہے۔ مشرقی یورپ میں خاص طور پر روما آبادی کی حاملہ خواتین کو ایسے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ب ج، ع ق (نیوز ایجنسی)

ویڈیو دیکھیے 02:33

جرمن دائياں کام کے بوجھ اور کم تنخواہوں سے نالاں

 

DW.COM

Audios and videos on the topic