’حاملہ بیوی شوہر کے ہاتھوں ہلاک‘ | وجود زن | DW | 17.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

’حاملہ بیوی شوہر کے ہاتھوں ہلاک‘

لاہور میں ایک شخص نے تشدد کرکے اپنی حاملہ بیوی کو قتل کر دیا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق خواتین کی بڑی تعداد اب بھی تشدد کے کیسز رجسٹر نہیں کرواتی۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق  لاہور کے علاقے اچھرہ کے رہائشی شہباز کی شادی سندس سے تین برس قبل ہوئی تھی۔ مقامی پولیس کے مطابق  26 سالہ سندس حاملہ تھی۔ اس کے شوہر نے اسے اتنا مارا کہ وہ جانبر نہ ہوسکی۔ سندس کو قتل کرنے کے بعد اس کا شوہر فرار ہو گیا اور اس کی لاش کو جناح ہسپتال لاہور پہنچا دیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک میں خواتین پر تشدد کے واقعات عام ہیں۔ گزشتہ برس ملک میں غیرت کے نام پر ایک ہزار سے زائد خواتین کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق سن 2015 میں نو سو خواتین کو ریپ اور جنسی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ 143 خواتین کو جلایا گیا، 833 خواتین کو اغوا کیا گیا۔

پاکستانی پارلیمنٹ نے اسی ماہ ’غیرت کے نام‘ پر قتل کے حوالے سے پیش کردہ مسودہٴ قانون کی منظوری دے دی ہے۔ اب  غیرت کے نام پر قتل کرنے والے شخص کو سزائے موت اور عمر قید کی سزا ہو سکے گی۔ پاکستانی ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کرنے والے ’قصاص و دیت‘ کے نام پر آسانی سے بچ جایا کرتے ہیں۔ اب معافی ملنے کی صورت میں بھی مجرم کو عمر قید کی سزا ہو گی۔ ماہرین کے مطابق اِس قانون میں یہ ترمیم ایک اہم اور مثبت سماجی فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم کچھ قانونی ماہرین کے مطابق اس قانون میں مزید سختی ہونی چاہیے تھی۔

آڈیو سنیے 03:46
Now live
03:46 منٹ

غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے واقعات

پاکستان کی قومی اسمبلی میں ریپ سے متعلق بھی ایک بل منظور کر لیا گیا ہے۔ موجودہ قانون کے تحت صرف میڈیکل ٹیسٹ سے حاصل شدہ ثبوت جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔ لیکن اس بل کے تحت اب عدالت میں میڈیل ٹیسٹ اور ڈی این ٹیسٹ بھی پیش کیے جا سکیں گے۔ اس بل کے حوالے سے ایک غیر سرکاری تنظیم ’وار اگینسٹ ریپ‘ کے پروگرام آفیسر شیراز احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’بل میں ڈی این اے ٹیسٹنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے، اگر پولیس افسر جرم کی صحیح طریقے سے کاروائی نہیں کرتا تو اسے بھی سزا دی جائے گئی۔ اس کے علاہ اب ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کی ہسٹری نہیں دیکھی جائے گی۔‘‘ اس قانون کے تحت ریپ جیسے گھناؤنے جرم کے مرتکب شخص کو عمر قید کی سزا ہو سکے گی۔

جہاں پاکستان میں ان حالیہ قوانین کی منظوری ایک مثبت پیش رفت ہے وہیں بہت سے ماہرین کی رائے میں پاکستانی معاشرے میں سندس جیسی لڑکیوں کو قتل اور تشدد جیسے سنگین جرائم سے بچانے کے لیے قانون کا نفاذ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ  خواتین کے حوالے سے معاشرے کی سوچ  میں مثبت تبدیلی لانے کا عمل تیز کرنا ہوگا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic