حافظ سعید کو پکڑ کر جیل بھیج دیا گیا | حالات حاضرہ | DW | 17.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

حافظ سعید کو پکڑ کر جیل بھیج دیا گیا

 سی ٹی ڈی پنجاب کی کاروائی وزیراعظم عمران خان کے دورہ واشنگٹن سے چند روز پہلے عمل میں آئی۔ ماضی میں بھی حافظ سعید کو کئی بار پکڑ کر چھوڑا جاتا رہا ہے۔

پولیس ترجمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ”حافظ سعید کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جوڈیشل ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا جہاں سے انہیں جیل بھیج دیا گیا۔‘‘ عدالت کی طرف سے سی ٹی ڈی کو تحقیقات مکمل کرکے چارج شیٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان میں کالعدم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید احمد کے خلاف محکمہ انسداد دہشتگری پنجاب نے رواں ماہ  3 جولائی سے تخریبکاری میں مالی معاونت کے الزام میں مقدمہ درج کررکھا ہے۔  سی ٹی ڈی حکام کے مطابق حافظ سعید مقامی عدالت سے ضمانت کروانے گجرانوالہ آرہے تھے کہ انہیں پکڑ لیا گیا۔ 

عالمی سطح پر حافظ سعید کا نام بھارت، کشمیراور افغانستان میں شدت پسندی کے حوالے سے جانا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں انہیں ایک مذہبی فلاحی شخصیت کے طورپر پیش کیا جاتا ہے۔  بھارت انہیں ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے  لیکن پاکستان میں ممبئی حملوں کے بارے میں درج کیس میں حافظ سعید ملزم نامزد نہیں رہے۔ امریکا حافظ سعید احمد کو سن 2012 میں عالمی دہشت گرد قراردے چکا ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان پر عالمی دبائو بڑھتا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لنڈرنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات لے۔

پچھلے ماہ جون میں امریکی شہر اورلینڈو میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایک اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ ایف اے ٹی ایف نے پہلے ہی پاکستان کو ’گرے لسٹ، پر رکھا ہوا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے اب بھی ٹھوس اور قابل یقین اقدامات نہ لیے تو اکتوبر میں اسے ’بلیک لسٹ‘ کر دیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے پاکستان کی مالی مشکالات گمبھیر ہوجائیں گی اور آئی ایم ایف کا پروگرام بھی کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان  اس قسم کی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

حکام کے مطابق حافظ سعید کی گرفتاری پاکستان میں مشتبہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پہلے سے جاری کاروائیوں کا حصہ ہے ۔

 لیکن ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی کے سابق سربراہ احسان غنی کا کہنا  ہے، ”عالمی ادارے سمجھتے ہیں کہ  ہم ان سے کھیل رہے ہیں۔ حافظ سعید کو بہت پہلے گرفتار کرلیا جانا چاہیے تھا۔ ہمیں اپنی بقا کے لیے ایسے عناصر کے خلاف کاروائی کرنا ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ان کے خلاف کیس کی تحقیقات کیسے ہوتی ہے اور کیا عدالتوں سے انہیں سزا ملتی ہے یا نہیں؟‘‘

ماضی میں حافظ سعید احمد اور ان جیسے رہنماوں کی گرفتاری کے بارے میں یہ دلیل بھی دی جاتی رہی ہے کہ ایسی گرفتاریوں سے عسکریت پسندوں کی جانب سے بھی ردعمل آسکتا ہے لیکن احسان غنی کہتے ہیں، ”اگر ریاست کے تمام ادارے ایسے عناصر کے بارے میں ایک پیچ پر جائیں تو کوئی انتہاپسند تنظیم  ریاست کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔‘‘

مبصرین کے نزدیک اس کی ایک واضع مثال خادم حسین رضوی صاحب کی تحریک لبیک پارٹی کا تیزی سے عروج اور زوال ہے۔ 

 

DW.COM