حافظ سعید کو سزا، پاکستان دکھاوے کا سلسلہ ترک کرے، بھارت | حالات حاضرہ | DW | 13.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

حافظ سعید کو سزا، پاکستان دکھاوے کا سلسلہ ترک کرے، بھارت

بھارت نے ایک پاکستانی عدالت کی طرف سے حافظ سعید کو قید کی سزا دینے کے فیصلے کوعالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

بھارت نے پاکستان سے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف دکھاوے کی کارروائی کے بجائے اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروپوں اور تمام دہشت گرد وں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنائے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ایک ذرائع کا کہنا تھا، ”ہم نے میڈیا میں ایسی رپورٹیں دیکھی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی ایک عدالت نے اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد اور بین الاقوامی طور پر دہشت گرد قرار دیے گئے حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے معاملے میں سزا سنائی ہے۔ پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کا سلسلہ بند کرے۔"

بھارت نے حافظ سعید کے خلاف پاکستانی عدالت کے فیصلے کے وقت پر سوال اٹھایا اور شبہات کا اظہار کیا ہے، ”پاکستان نے آخر یہ فیصلہ ایف اے ٹی ایف کی مجوزہ میٹنگ سے صرف چند روز قبل کیوں کیا ہے؟ اس لیے اس فیصلے پر شبہ ہونا لازمی ہے۔"

خیال رہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے حافظ سعید کو بدھ بارہ فروری کو منی لانڈرنگ اور غیر قانونی تنظیم چلانے کے دو مختلف الزامات میں دو مرتبہ ساڑھے پانچ سال کی قید اور تیس ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔یہ امراہم ہے کہ سزا ایسے وقت پر سنائی گئی جب سولہ فروری کو پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کا ایک اہم اجلاس ہونے والا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان کے آئندہ 'گرے لسٹ‘  میں رکھے یا نہ رکھے جانے کا فیصلہ متوقع ہے۔

Milli Muslim League Pakistan

بھارت نے حافظ سعید کے خلاف پاکستانی عدالت کے فیصلے کے وقت پر سوال اٹھایا اور شبہات کا اظہار کیا ہے

ایف اے ٹی ایف کا پاکستان پر دباؤ رہا ہے کہ وہ حافظ سعید جیسی شخصیات کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی کئی بار عالمی دباؤ کے تناظر میں حافظ سعید کو گرفتار تو کیا تھا لیکن بعد میں ہر بار اعلیٰ عدالتوںں نے انہیں عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا۔ بھارت کو شبہ ہے کہ اس مرتبہ بھی ایسا ہی کچھ ہوگا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا تھا، ”پاکستان ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ سے باہر نکلنا تو ضرور چاہتا ہے لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ممبئی دہشت گردانہ معاملے میں حافظ سعید کے خلاف ابھی تک کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ممبئی حملہ کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی مخلصانہ کوشش کی جائے۔"

بھارت حافظ سعید کو ممبئی دہشت گردانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ قراردیتا ہے۔ سن 2008 میں ہوئے اس حملے میں 166 افرا د ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا تعلق مختلف ممالک سے تھا۔

حافظ سعید کے خلاف پاکستانی عدالت کے فیصلے کے حوالے سے بھارتی دفاعی تجزیہ کارریٹائرڈ میجر جنرل پی کے سہگل نے ایک نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی باتوں پر یقین نہیں کیا جاسکتا اور وہاں کی حکومت جھوٹ پھیلا رہی ہے۔

DW.COM