حادثاتی اسقاط حمل: تقریباﹰ دس فیصد خواتین کم از کم ایک بچہ کھو دیتی ہیں | معاشرہ | DW | 09.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

حادثاتی اسقاط حمل: تقریباﹰ دس فیصد خواتین کم از کم ایک بچہ کھو دیتی ہیں

دنیا بھر میں تقریباﹰ دس فیصد خواتین حادثاتی اسقاط حمل کے سبب اپنا کم از کم ایک بچہ کھو دیتی ہیں۔ دوران حمل اس طرح کے اسقاط کے خطرات کا سب سے زیادہ سامنا سیاہ فام خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔

اس بارے میں دو برطانوی محققین اور ان کی تحقیقی ٹیم کی طرف سے کی گئی ریسرچ کے نتائج معروف طبی جریدے 'دی لینسیٹ‘ کے تازہ ترین شمارے میں شائع ہوئے۔ کوروناوائرس کی موجودہ وبا اور اس وائرس سے لگنے والی مہلک بیماری کووڈ انیس کی وجہ سے صحت سے متعلق بہت سے دیگر اہم موضوعات نظر انداز ہو رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک موضوع عورتوں میں حادثاتی اسقاط حمل بھی ہے۔ اس تناظر میں نئی برطانوی ریسرچ نے اب اس اہم موضوع کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔

'حادثاتی اسقاط حمل اہم مسئلہ‘ کے عنوان سے واروک یونیورسٹی کی پروفیسر سیوبھن کوئنبی اور برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر آری کوماراسامی کی طرف سے مکمل کیے گئے اس مطالعاتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ایسی بہت سی خواتین پائی جاتی ہیں جو دوران حمل اپنا کم از کم ایک بچہ کھو بیٹھتی ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال حادثاتی اسقاط حمل کے 23 ملین واقعات رونما ہوتے ہیں۔

کورونا اور اسقاط حمل: بلا خواہش حاملہ خواتین کے مصائب

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں جتنی بھی مائیں اپنے بچے کھو دیتی ہیں، ان میں سے سب سے بڑی اور عام وجہ حادثاتی اسقاط حمل ہے۔ قریب 10 فیصد خواتین کو ان کی زندگی میں حادثاتی اسقاط حمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباﹰ 15 فیصد حمل ایسے ہوتے ہیں، جن کا خاتمہ حادثاتی اسقاط کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اس مسئلے کی طرف طبی برادری نے آج تک اتنی توجہ نہیں دی جتنی دینا چاہیے تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ رجحان کورونا وائرس کی وبا سے پہلے سے موجود ہے۔

Bangladesch | Themenbilder: Salzgehalt im Wasser und Fehlgeburten

آلودہ پانی اکثر حمل کے ضیاع کا سبب بنتا ہے۔

ذہنی اور جسمانی صحت پر گہرے اثرات

پروفیسر سیوبھن کوئنبی وضع عمل اور زچگی سے متعلقہ طبی امور کی ماہر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حادثاتی اسقاط حمل کے موضوع پر ابھی مزید کافی تحقیق کی ضرورت ہے اور ڈاکٹروں کو اس عمل سے گزرنے والی خواتین کی مدد کے لیے مختلف طریقہ ہائے کار تلاش کرنا چاہییں۔ وہ کہتی ہیں، ''ہم ایسا صرف اسی صورت میں کر سکیں گے، جب ہمیں اس کے لیے فنڈنگ بھی ملے۔‘‘ پروفیسر کوئنبی کے مطابق اسقاط حمل سے گزرنے والی خواتین کی دیکھ بھال سے جڑے امور کے لیے مالی اعانت کی بہت کمی ہے۔

جنسی زیادتیوں کے نو ماہ، روہنگیا خواتین مائیں بننے لگیں

پروفیسر سیوبھن کوئنبی اور ان کے ساتھی پروفیسر آری کوماراسامی نے حادثاتی اسقاط حمل سے متعلق اپنے طبی مطالعے کے دوران فن لینڈ، ناروے، سویڈن اور ڈنمارک میں مطالعاتی جائزوں کے ساتھ ساتھ امریکا، برطانیہ اور کینیڈا سے بھی کافی اعداد و شمار شامل کیے۔ مجموعی طور پر اس اسٹڈی میں انہوں نے پانچ لاکھ خواتین کے کیسز کا از سر نو جائزہ لیا اور نتائج کو اپنی رپورٹ میں شامل کیا۔

ٹامیز نیشنل سینٹر فار مِسکیرِج ریسرچ کی ڈپٹی ڈائریکٹر سیوبھن کوئنبی کا کہنا ہے، ''حمل کے ضیاع کے خواتین پر گہرے نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور صحت پر طویل المدتی نتائج سامنے آتے ہیں۔‘‘ متعدد مرتبہ حمل ضائع ہو جانے کے نقصانات کے بارے میں وہ کہتی ہیں، ''اگر ایسا بار بار ہو، تو مستقبل میں حاملہ ہونا بہت سی پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے اور ایسی خواتین کو آگے چل کر امراض قلب کا سامنا بھی ہو سکتا ہے اور اس سے فالج یا انجماد خون جیسے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔‘‘

ہم جنس پرست خواتین کو مصنوعی طریقے سے حاملہ ہونے کی اجازت

Bangladesch | Themenbilder: Salzgehalt im Wasser und Fehlgeburten

بنگلہ دیش میں بھی حاملہ خواتین کی زندگی بہت کٹھن ہوتی ہے جس کے سبب دوران حمل پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

تاریک مستقبل

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن خواتین کا حمل ضائع ہو جاتا ہے، وہ مستقبل  کے تمام خواب اور امیدیں کھو دیتی ہیں۔ ایسی خواتین کی نفسیاتی امداد اشد ضروری ہوتی ہے۔ پروفیسر کوئنبی کے بقول ان کے کلینک پر آنے والی حادثاتی اسقاط حمل سے متاثرہ مریض خواتین میں سب سے زیادہ ذہنی دباؤ، احساس محرومی اور افسردگی دیکھنے میں آتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ''ایک یا دو ماہ کے حمل کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس مدت کے دوران متعلقہ خواتین مستقبل کے اپنے بچے سے متعلق خواب دیکھنا شروع نہیں کرتیں۔ اگر یہ حمل ضائع ہو جائے، تو ان عورتوں کے مستقبل کے سبھی منصوبے اور خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔‘‘ پروفیسر کوئنبی کا کہنا ہے کہ ایسے بہت سے کیسز انہوں نے خود دیکھے، جن میں حمل گر جانے کے بعد دونوں پارٹنرز کا باہمی رشتہ ہی ٹوٹ گیا، اس لیے کہ اس مشکل وقت میں دونوں ایک دوسرے سے کھل کر بات بھی نا کر پائے تھے۔

قطری قانون حاملہ تارکین وطن خواتین کو نشانہ بناتا ہوا

حمل کا تین بار ضیاع

حمل ضائع ہو جانے کے بعد زیادہ تر ڈاکٹر اور طبی کارکن متاثرہ خاتون کا اس طرح دھیان نہیں رکھتے، جس طرح کی دیکھ بھال اور نفسیاتی مدد کی اسے ضرورت ہوتی ہے۔ پروفیسر کوئنبی کہتی ہیں، ''اس رویے میں تبدیلی آنا چاہیے۔ طبی شعبے میں ہمیں یہ رویہ عام نظر آتا ہے کہ جب تک خواتین اوسطاﹰ تین بار حادثاتی اسقاط حمل یا حمل کے ضیاع سے نا گزریں، وہ ڈاکٹر سے مشورہ نہیں کرتیں۔ یہ بات غلط ہے۔‘‘

وہ کہتی ہیں کہ اس کے بجائے اگر کوئی خاتون صرف ایک بار بھی حمل کے ضیاع سے گزری ہو، تو بھی اسے مکمل طبی دیکھ بھال اور نفسیاتی اور جسمانی صحت کی حفاظت کے لیے پیشہ وارانہ مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ کسی خاتون کے کتنے حمل ضائع ہوئے، اسے پہلی بار کے بعد ہی چند اہم باتوں کا مشورہ دیا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر اپنے معمول کے جسمانی وزن تک دوبارہ کیسے پہنچا جائے، تمباکو نوشی اور شراب نوشی فوی طور پر ترک کر دی جائے اور اگر کسی اور قسم کی کوئی بیماری بھی ہو، تو اس سے بھی مؤثر اور منظم طریقے سے نمٹا جائے۔

حاملہ کرنے کے بعد شادی نہ کرنے والے مرد کو جیل جانا ہوگا

Flüchtlinge aus Mali in Flüchtlingslager in Niger

سیاہ فام خواتین اکثر بھاری کاموں اور جسمانی محنت کی وجہ سے حمل ضایع کر دیتی ہیں۔

سیاہ فام خواتین کے لیے زیادہ خطرہ

اس مطالعاتی جائزے کے نتائج سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ سفید فام عورتوں کے مقابلے میں سیاہ فام خواتین میں حمل کے حادثاتی ضیاع کے خطرات 43 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ کیا ہے، اس  بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی گئی ہے۔ تاہم پروفیسر کوئنبی کہتی ہیں، ''ہمیں پتا چلا ہے کہ سیاہ فام انسانوں کی برادری میں چند مخصوص بیماریاں زیادہ پائی جاتی ہیں، جیسے ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر۔ یہی وہ عوامل ہیں جو سیاہ فام حاملہ خواتین میں اکثر حمل کے ضیاع کی وجہ بنتے ہیں۔‘‘

صحت عامہ کے برطانوی نظام کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر کوئنبی کا کہنا تھا کہ اصولاﹰ تو اس ملک میں صحت کی کافی سہولیات ہر کسی کو میسر ہیں تاہم درحقیقت سیاہ فام باشندوں کومقابلتاﹰ کم ہیلتھ سروسز دستیاب ہوتی ہیں۔ ان نے بقول، ''سیاہ فام خواتین میں حمل ضائع ہو جانے کی شرح کہیں زیادہ ہونے کے اسباب بڑے پیچیدہ ہیں۔ ان کا تعلق جسمانی، نفسیاتی، معاشرتی اور جینیاتی ہر قسم کے معاملات سے ہے۔‘‘

 

کارلا بلائکر (ک م / م م)