’جہادی جان‘ کے ساتھی، داعش کے برطانوی ارکان امریکی عدالت میں | حالات حاضرہ | DW | 08.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’جہادی جان‘ کے ساتھی، داعش کے برطانوی ارکان امریکی عدالت میں

امریکی محکمہ انصاف برطانیہ سے تعلق رکھنے والے دو ایسے افراد پر لگےالزامات کا اعلان کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے، جنہوں نے شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘میں شمولیت اختیارکی اور مغربی یرغمالیوں کے سر قلم کرنے والے ایک سیل کا حصہ بنے۔

امریکا کی قانون نافذ کرنے والی ایک ایجنسی کے ایک اہلکار کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مجرم جلد ہی ریاست ورجینیا کے شہر الیکساندریا کی ایک عدالت میں پہلی بار پیش ہوں گے۔ یہ اہلکار دراصل اس بارے میں کسی سرکاری اعلان سے پہلے اس کیس کو عوامی سطح پر فاش کرنے کا مجاز نہیں۔ یہ متوقع اعلان امریکی حکام کی سال بھر کی ان کوششوں کے ضمن میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں وہ شام میں یرغمال بنائے گئے امریکی امدادی کارکنوں، صحافیوں اور دیگر مغوی افراد کے انتہائی بربریت انگیز اور وحشیانہ انداز میں سر قلم کرنے کے جرائم میں ملوث ایک عسکریت پسند گروپ کے اراکین کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ٹھان کر بیٹھے تھے۔ ان مبینہ ملزموں کے امریکا آنے اور عدالت میں حاضر ہونے کا واقعہ 2014ء کے بعد سے اب تک کا سب سے سنسنی خیز اور ڈرامائی مقدمہ ہوگا۔ دو ہزار چودہ سے لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی کمپاؤنڈ پر حملہ کرنے والے دہشت گرد اور سرغنہ لیڈر کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔

ملزموں کی شناخت

الشفیع الشیخ اور ایکسانڈا کوٹے ان چار ملزمان میں سے دو ہیں، جنہوں نے برطانوی لب و لہجے والے افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ ان پر امریکا کی ایک فیڈرل کورٹ میں مقدمات چل رہے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف ان پر طویل عرصے سے مقدمہ چلانا چاہتا تھا تاہم وہ 2019ء میں اکتوبر کے مہینے سے امریکی فوج کی تحویل میں ہیں۔ انہیں 2018ء میں شام میں امریکی پشت پناہی والی شامی ڈیمو کریٹک فورسز نے پکڑا تھا۔

Irak Syrien Terrorist IS-Mörder Dschihadi John

جہادی جون۔

برطانوی حکام کا کردار                                                               

امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار نے ان افراد پر مجرمانہ نوعیت کے مقدمات شروع کرنے سے پہلے رواں سال کے اوائل میں سفارتی تعطل ختم کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں وعدہ کیا تھا کہ ان ملزمان کو موت کی سزا  کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ امریکی اٹارنی جنرل کے اس اعلان سے برطانوی حکام بھی ان افراد کے خلاف ثبوت شیئر پر مجبور ہو گئے تھے۔ یہ ثبوت استغاثہ کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں کیونکہ ان کی مدد سے مجرموں کو سزا سنانے میں آسانی ہو گی۔ اطلاعات کے مطابق دوران حراست دونوں ملزمان نے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے کیلا میولر نامی شخص سے ای میل ایڈریس اکٹھا کرنے میں مدد لی تھی جنہیں تاوان کے مطالبات والا پیغام بھیجنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ کیلا میولر 18 ماہ داعش کی قید میں رہنے کے بعد 2015ء میں مارا گیا تھا۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان ملزموں کی سرگرمیوں کو بے ضرر قرار نہیں دیا۔ امریکی ایجنسی نے الشیخ اور کوٹے کو 2017ء میں عالمی دہشت گردی کے ذمے دار خصوصی طور پر نامزد کیے گئے دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے شام میں قریب دو درجن مغوی افراد کے سر قلم کیے تھے، جن میں امریکی صحافی جیمز فولے اور اسٹیفن سوٹلوف اور پیٹر کیسنگ نامی امریکی امدادی کارکن بھی شامل تھے۔

Screenshot von thesundaytimes.co.uk

2014 ء میں برطانوی اخبار ’دی سنڈے ٹائمز‘ میں شائع ہونے والی تصویر۔

دونوں پر الزامات

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق خاص طور سے الشیخ پر الزام ہے کہ وہ شام میں آئی ایس آئی ایس کے جیلر کی حیثیت سے واٹر بورڈنگ، فرضی پھانسی اور مصلوب کرنے جیسے جرائم کا 'ماہر‘ مشہور تھا۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ کوٹے 'اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے لیے نئے ممبر بھرتی کرنے، مغویوں کو پھانسی دینے، واٹر بورڈنگ اور بجلی کے جھٹکے لگانے جیسی ظالمانہ اور متشدد کارروائیوں کا ماہر تھا۔ چار مجرموں کے اس گروپ کے دیگر دو اراکین میں سے ایک محمد اموازی جسے 'جہادی جان‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 2015ء میں ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ اموازی امریکی صحافی جیمز فولے کی سزائے موت پر عملدرآمد سے متعلق ایک ویڈیو میں نمودار ہوا تھا۔ اس گروپ کے چوتھا رکن این لیسلی ڈیوس کو 2017ء میں ترکی کی ایک جیل میں سات سال کی سزائے قید سنائی گئی تھی۔

ک م / م م (اے پی، اے ایف پی)

DW.COM

Audios and videos on the topic