جو یورپ کے لیے اچھا ہے وہی جرمنی کے لیے بھی بہتر ہے، میرکل | حالات حاضرہ | DW | 27.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جو یورپ کے لیے اچھا ہے وہی جرمنی کے لیے بھی بہتر ہے، میرکل

جرمن چانسلر نے کورونا وبا سے پیدا ہونے والی مشکلات سے نمٹنے کے لیے یورپی یکجہتی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔

چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ کورونا سے متاثرہ ملکوں کی امداد کے لیے یورپی یونین کے اقتصادی بحالی کے پروگرام میں جرمنی اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا کرنا ان کے اپنے ملک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا، "جو یورپ کے لیے بہتر ہے وہی جرمنی کے لیے بھی بہتر ہے۔"

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور چانسلر میرکل نے گزشتہ ماہ اس مقصد کے لیے پانچ سو بلین یورو مختص کرنے کی تجویز دی تھی۔ اس سے پہلے جرمنی دوسرے ملکوں کو قرضے دینے میں عدم دلچسپی اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔

میرکل نے کہا کہ جرمنی پر قرضوں کا بوجھ کم ہے اور ان غیر معمولی حالات میں متاثرہ ملکوں کی مدد کے لیے کچھ اور قرضہ لیا جا سکتا ہے۔ جرمن چانسلر کا یہ انٹرویو جرمنی، برطانیہ، اٹلی، فرانس، اسپین اور پولینڈ کے مقبول اخبارات کی طرف سے لیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں جرمن رہنما نے کہا کہ کورونا کی وبا یورپی یونین کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر ابھری ہے۔ میرکل کے مطابق اس ہمہ جہتی چیلنج سے نمٹنے کے لیے یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ یہ مالی امداد ان ملکوں کے لیے ہوگی جن کی معیشت کووڈ انیس کی وجہ سے کمزور ہو گئی۔ انہوں نے ان ملکوں میں اسپین اور اٹلی کا حوالہ دیا۔

میرکل نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں یورپی یونین کی بقا متحد رہنے میں ہے۔ انہوں نے کہا  کہ معاشی بحالی کا فنڈ یورپ کو درپیش تمام مشکلات کا حل نہیں، جن میں عوامیت پسندی اور قوم پرستی ایک بڑا چیلنج ہے۔ میرکل کے مطابق اس قسم کے رجحانات نے یورپی اقوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

جرمن چانسلر نے واضح کیا کہ یورپ کی بقا اس کی اقتصادی طاقت میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی بیروزگاری سے جمہوری اقدار کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

چانسلر انگیلا میرکل کے یہ خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یکم جولائی سے یورپی یونین کی ششماہی صدارت جرمنی کے حوالے کی جا رہی ہے۔

 

ع ح، ش ج (نیوز ایجنسیاں)