جونسن اور کوربن کا ٹی وی مباحثہ: بریگزٹ کا معاملہ چھایا رہا | حالات حاضرہ | DW | 20.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جونسن اور کوربن کا ٹی وی مباحثہ: بریگزٹ کا معاملہ چھایا رہا

برطانیہ میں رواں برس بارہ دسمبر کو پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ ان انتخابات کے سلسلے میں وزیراعظم بورس جونسن اور اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربن کے درمیان ٹی وی مباحثے میں بریگزٹ کا موضوع چھایا رہا۔

کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر اور وزیراعظم بورس جانسن کو بریگزٹ کے معاملے پر اپوزیشن کی سیاسی جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کے تلخ جملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ منگل انیس نومبر کی شام کو یہ مباحثہ ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا۔ یہ انتخابات سے قبل کا پہلا مباحثہ تھا۔

مباحثے میں بورس جانسن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اگلے برس اکتیس جنوری کو یورپی یونین کو خیرباد کہہ دیں گے اور یونین کے ساتھ تجارتی سمجھوتے کو بھی سن 2020 کے ختم ہونے سے قبل طے کر لیں گے۔ اس کے جواب میں لیبر پارٹی کے لیڈر نے واضح کیا کہ اُن کی جماعت برسراقتدار آئی تو بریگزٹ معاملے پر ڈیل طے کرنے کے مذاکرات دوبارہ کیے جائیں گے۔

جیریمی کوربن نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت سنبھالنے کے تین ماہ کے دوران بریگزٹ پر ایک مرتبہ پھر عوامی رائے کے حصول کا ریفرنڈم کرایا جائے گا اور اس میں برطانوی عوام کو یہ ایک آپشن بھی دیا جائے گا کہ کیا آیا یونین سے نکلنے کے چھ ماہ کے بعد یونین میں دوبارہ شمولیت اختیار کی جائے۔

TV-Duell im Wahlkampf in Großbritannien | Johnson gegen Corbyn (picture-alliance/dpa/AP/Itv)

منگل انیس نومبر کی شام کوربن اور جونسن کے درمیان یہ مباحثہ ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا

مباحثے کے دوران ایک موقع پر بورس جونسن نے اپنے حریف لیڈر سے پوچھا کہ وہ یونین میں رہنے کو ترجیح دیں گے یا چھوڑنا اُن کے نزدیک اہم ہے۔ اس کی وضاحت میں کوربن کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے قاصر رہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ وہ دوسرے ریفرنڈم میں سامنے آنے والی عوامی رائے کا احترام کریں گے۔

بریگزٹ معاملے پر بورس جونسن اور جیریمی کوربن کے درمیان انتہائی گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی۔ لیبر پارٹی کے لیڈر نے یورپی یونین کو چھوڑنے کے لیے وزیراعظم  کے مقرر کردہ نظام الاوقات کو لغو اور احمقانہ قرار دیا۔ اس کے جواب میں جونسن نے لیبر پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ تاخیری حربوں سے بریگزٹ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششوں میں ہے۔

اس مباحثے میں دونوں لیڈروں نے ہیلتھ سروس کے ساتھ ساتھ چند اور موضوعات پر بھی گفتگو کی۔ مباحثے کے حوالے سے فوری طور مرتب کیے گئے رائے عامے کے جائزے کے مطابق انیس نومبر کا مباحثہ بورس جونسن نے جیت لیا ہے اور ان کے حق میں اکاون فیصد ووٹ پڑے جب کہ اپوزیشن لیڈر کی معروضات کو انچاس فیصد لوگوں نے پسند کیا۔

کنزرویٹو پارٹی نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز قدرے سست روی اور کنفیوژن سے کیا ہے لیکن اب اِس کی مہم مضبوط بنیادوں پر استوار ہو چکی ہے۔ اس وقت رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کو اپنی حریف جماعت لیبر پارٹی پر مناسب سبقت حاصل ہے۔ اس وقت دونوں جماعتیں کسی فیصلے کے بغیر ووٹرز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

ع ح ⁄ م م (ڈی پی اے، روئٹرز)

DW.COM