جواد ظریف کا دورہ پاکستان: ’اسلام آباد کا جھکاؤ ریاض کی طرف‘ | حالات حاضرہ | DW | 24.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جواد ظریف کا دورہ پاکستان: ’اسلام آباد کا جھکاؤ ریاض کی طرف‘

ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر آج جمعہ 24 مئی کو وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتیں کیں ہیں، جس میں ان ملاقاتوں کا خوشگوار تاثر دیا گیا ہے۔

تاہم ماہرین کاخیال ہے کہ خطے کی موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کے پاس سعودی عرب کی طرف جھکاؤ کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی اور پاکستانی وفد کی جواد ظریف سے ملاقات کے دوران پاکستانی وزیرِ خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد خطے میں امن کی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل سفارتی سطح پر چاہتا ہے اور یہ کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا مصالحانہ کردار جاری رکھے گا۔

 کئی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی نازک معاشی صورتِ حال میں یہ ممکن ہی نہیں کہ اسلام آباد کوئی مصالحانہ کردار ادا کر سکے اور یہ کہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ موجودہ صورتِ حال میں ریاض کے ساتھ کھڑا ہو۔

Pakistans Aussenminister Shah Mahmood Qureshi

پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل سفارتی سطح پر چاہتا ہے اور یہ کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، شاہ محمود قریشی

خارجہ امور کے ماہر اور پاکستان کے سابق سفیر برائے اقوامِ متحدہ شمشاد احمد خان کے خیال میں پاکستان کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے: ’’ہماری خواہش ہے کہ ہم ایران کی مدد کر سکیں کیونکہ اس کے ساتھ ہمارا طویل باڈر ہے اور وہ ہمارے لیے اہم ہے لیکن موجودہ حکومت مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سعودی عرب نے ہمیشہ ہماری مدد کی ہے اور ابھی بھی تاخیری ادائیگی پر تین بلین ڈالرز سے زیادہ کا تیل دینے کی پیش کش کی ہے۔ تین بلین ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے دیے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی وہاں کام کرتے ہیں اور زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں۔ تو ریاض سے پاکستان کو بہت سے فائدے ہیں۔ ایران سے تو ہمیں کوئی فائدہ نہیں مل سکتا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ریاض کے برعکس تہران کی کچھ پالیسیوں سے پاکستان میں ناراضگی بھی رہی ہے: ’’ماضی میں ایران کی کچھ پالیسیاں ایسی رہی ہیں، جن پر ہم کو شدید تحفظات تھے جب کہ سعودی عرب سے تو ہمارے تعلقات کی نوعیت یہ ہے کہ اگر سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو ہم اپنی فوجیں بھی بھیج سکتے ہیں کیونکہ ان سے ہمارے اسٹریجک تعلقات ہیں۔ میرے خیال میں پاکستان ایران کی خاطر سعودی عرب یا کسی اور طاقت ور ملک کی برائی مول نہیں لے گا اور ہر قیمت پر اپنے مفاد کا تحفظ کرے گا۔‘‘

ماضی میں عمران خان نے علاقائی جنگوں میں فریق بننے کی بھر پور مخالفت کی تھی اور انہوں نے یمن فوج بھیجنے کے مسئلے پر بھی نواز شریف حکومت کو خبردار کیا تھا۔ بعد میں پارلیمنٹ میں پاکستانی فوج یمن بھیجنے کے خلاف قرارداد پاس کی تھی۔ کئی مبصرین کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف حکومت کے دور میں اسلام آباد نے کسی حد تک اپنی غیر جانبداری قائم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پی ٹی آئی حکومت کا تمام دعووں کے باوجود جھکاؤ ریاض کی طرف ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں جواد ظریف اپنے تحفظات لے کر پاکستان آئے ہیں لیکن لگتا نہیں کہ اسلام آباد ان تحفظات کو مکمل طور پر ختم کر پائے گا: ’’ایران غالباﹰ چاہتا ہے کہ کسی امریکی مداخلت کی صورت میں پاکستان کوئی لاجسٹکس سپورٹ یا اپنی کوئی ایئر بیس واشنگٹن یا اس کے اتحادیوں کو نہ دے۔ اس کے علاوہ جیشِ العدل کے خلاف کارروائی کرے۔ لیکن میرا خیال نہیں کہ پاکستان ایسا کوئی وعدہ کرے گا جو ریاض کو ناراض کرے۔ البتہ اس حوالے سے تہران کو تسلیاں ضرور دے گا۔ تو یہ واضح ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں اسلام آباد کا جھکاؤ ریاض کی طرف ہے۔‘‘

Karte Iran Chabahar DEU

ایران کے پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پاکستان یہ تجویز لے کر گئے ہیں کہ گوادر اور چابہار بندرگاہ کو جوڑ دیا جائے۔

دوسری طرف ایران کے پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پاکستان یہ تجویز لے کر گئے ہیں کہ گوادر اور چابہار بندرگاہ کو جوڑ دیا جائے۔ پاکستان میں دفاعی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے خیال میں یہ ممکن نہیں ہے: ’’گوادر پر چینی کام کر رہے ہیں جب کہ سعودی عرب بھی وہاں کوئی بیس بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ چابہار بھارت کے پاس ہے، جو سی پیک کا دشمن ہے۔ وہ تو اس بات کے بھی خلاف ہے کہ سی پیک کو گلگت بلتستان سے گزارا جائے۔ تو ممکن ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ تجویز پاکستان کے سامنے رکھی ہو۔ لیکن اس پر عمل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک چابہار پر بھارت ہے۔ اگر بھارت وہاں سے ہٹ جاتا ہے، تو پھر اس پر بات چیت ہو سکتی ہے لیکن بھارت کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

DW.COM