جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی اطلاعات کے باوجود ایران جنگ جاری
وقت اشاعت 24 مارچ 2026آخری اپ ڈیٹ 24 مارچ 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- ایران میں 82 ہزار سے زائد شہری عمارتیں تباہ یا متاثر، ریڈ کریسنٹ
- فلپائن میں ’قومی توانائی ایمرجنسی‘ کے نفاذ کا اعلان
- پاکستان کی ایران جنگ پر ثالثی کی پیشکش، مذاکرات کی میزبانی پر آمادگی
- اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک کنٹرول حاصل کرے گی، اسرائیل کاٹز
- ایرانی فوجی قیادت کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، ’مکمل فتح‘ تک جنگ لڑنے کا عزم
- اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب
- ایران میں آن لائن سرگرمیوں پر کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار
- مشرق وسطیٰ میں جنگ سے خلیجی سکیورٹی نظام ٹوٹنے کے قریب، قطر کا انتباہ
- لبنان کا ایرانی سفیر کو ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم
- ایران میں قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے نئے سربراہ کی تقرری
- تل ابیب پر ایرانی میزائل حملوں میں چھ افراد زخمی
- یورپی یونین کا فوری مذاکرات کا مطالبہ، ایران جنگ کے خاتمے پر زور
- مشرق وسطیٰ میں ثالثی کی کوششیں تیز، قیادت تاحال غیر واضح
- جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی اطلاعات کے باوجود ایران جنگ جاری
ایران میں 82 ہزار سے زائد شہری عمارتیں تباہ یا متاثر، ریڈ کریسنٹ
ایرانی ہلال احمر تنظیم کا کہنا ہے کہ اٹھائیس فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ملک میں 82 ہزار سے زائد شہری عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں۔
اس ادارے کے سربراہ پیرحسین کولیوند نے منگل کے روز کہا کہ متاثرہ عمارتوں میں 62 ہزار مکانات اور 281 طبی مراکز، ہسپتال اور فارمیسیاں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 498 اسکولوں کو بھی ان پر براہ راست یا ان کے قریب ہونے والے حملوں سے نقصان پہنچا جبکہ امدادی سرگرمیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
کولیوند کے مطابق میزائل حملوں میں 17 امدادی مراکز اور 12 ریسکیو گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔ انہوں نے جنوبی شہر لار میں ایک حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’جب زخمیوں کو منتقل کیا جا رہا تھا، تو ایمبولینس مکمل طور پر تباہ ہو گئی، اور کچھ بھی باقی نہ بچا۔‘‘
فلپائن میں ’قومی توانائی ایمرجنسی‘ کے نفاذ کا اعلان
فلپائن کے صدر فرڈیننڈ مارکوس نے منگل کے روز ملک میں ’’قومی توانائی ایمرجنسی‘‘ نافذ کرنے کا اعلان کر دیا، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث ایندھن کی فراہمی اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام کو لاحق خطرات بتائے گئے ہیں۔
ایک صدارتی حکم نامے میں کہا گیا، ’’مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے اور اس کے نتیجے میں ملک کو توانائی کی فراہمی اور استحکام کو لاحق فوری خطرات کے پیش نظر قومی توانائی ایمرجنسی کا اعلان کیا جاتا ہے۔‘‘
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ممکنہ قلت اور قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستان کی ایران جنگ پر ثالثی کی پیشکش، مذاکرات کی میزبانی پر آمادگی
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ’’بامعنی اور فیصلہ کن مذاکرات‘‘ میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے بھی تیار ہے۔
شہباز شریف نے لکھا، ’’امریکا اور ایران کی رضامندی سے پاکستان جامع تصفیے کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتا ہے۔‘‘
یہ پیشکش ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب کئی ممالک ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اس حوالے سے مذاکرات کے جاری ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک کنٹرول حاصل کرے گی، اسرائیل کاٹز
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ملکی فوج کا منصوبہ ہے کہ جنوب لبنان میں دریائے لیطانی تک کنٹرول حاصل کیا جائے اور اس کے اوپر موجود تمام پل تباہ کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا،’’لیطانی کے پانچوں پل، جنہیں حزب اللہ نے دہشت گردوں اور ہتھیاروں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا، تباہ کر دیے گئے ہیں اور آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) باقی پلوں اور سیکورٹی زون تک کنٹرول حاصل کرے گی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں افراد جو اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے لبنان میں نقل مکانی کر چکے ہیں، دریائے لیطانی کے جنوب سے واپس نہیں جائیں گے، جب تک شمالی اسرائیل میں رہنے والے لوگوں کے لیے سکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جاتی۔
اس منصوبے کے مطابق اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک، یعنی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر (20 میل) کے فاصلے تک، کنٹرول حاصل کر لے گی۔
اٹھائیس فروری سے جاری ایران جنگ میں لبنان اس وقت شامل ہوا، جب تہران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ نے دو مارچ کو اسرائیل پر راکٹ فائر کیے۔ اس مسلح لبنانی ملیشیا کا کہنا تھا کہ اس نے یہ قدم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے اٹھایا۔
اس کے بعد اسرائیل نے لبنان پر حملے شروع کر دیے، جن میں اب تک کم از کم 1,039 افراد ہلاک اور ایک ملین سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے لبنان کے جنوب میں اپنی زمینی فوج بھی بھیج رکھی ہے۔
منگل کے روز اسرائیل نے لبنان بھر میں اپنے حملے جاری رکھے، لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق جنوب، مشرق اور بیروت کے قریب علاقوں میں بمباری کی گئی۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ رات کے دوران اس کی فورسز نے ’’بیروت اور لبنان کے دیگر علاقوں میں حزب اللہ کے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔‘‘
ایرانی فوجی قیادت کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، ’مکمل فتح‘ تک جنگ لڑنے کا عزم
ایران کی فوجی قیادت نے منگل کے روز کہا کہ موجودہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ یا ان کے سامنے ہتھیار ڈالنا خارج از امکان ہے۔
یہ اعلان ایران کی اعلیٰ فوجی کمان کے ترجمان علی عبد اللہ علی آبادی نے کیا، جنہیں ایران کا چیف آف جنرل اسٹاف سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’طاقتور ایرانی مسلح افواج ملک کی خود مختاری کا پختہ دفاع کریں گی اور اس راستے پر حتمی فتح تک قائم رہیں گی۔‘‘
علی آبادی خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے سربراہ بھی ہیں، جو جنگ کے دوران آپریشنل کمانڈ کے ذمہ دار ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کا ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں سے متعلق ہنگامی اجلاس طلب
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ وہ بدھ کے روز خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں اور ان ممالک میں عام افراد پر اثرات کے حوالے سے اپنا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی۔
یہ اجلاس بحرین کی جانب سے خلیجی تعاون کی کونسل کے چھ رکن ممالک اور اردن کی نمائندگی میں دی گئی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔
کونسل کے ترجمان پاسکل سم نے بتایا کہ متعلقہ ممالک اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اس اعلیٰ ادارے کے سامنے ایک قرارداد کا مسودہ پیش کریں گے۔
درخواست کے مطابق اجلاس میں ’’ایران کی جانب سے بحرین، اردن، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں، جن میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا اور قیمتی جانیں ضائع ہوئیں،‘‘ پر غور کیا جائے گا۔
یہ انسانی حقوق کی کونسل کے 2006 میں قیام کے بعد سے 11واں ہنگامی اجلاس ہوگا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پیر کو کونسل کے صدر کو ایران کے جنیوا مشن کی جانب سے، چین اور کیوبا کے ساتھ مل کر، ایک اور ہنگامی اجلاس کی درخواست بھی موصول ہوئی ہے، جس میں بین الاقوامی تنازعات میں بچوں اور تعلیمی اداروں کے تحفظ پر بحث کی جائے گی۔
یہ درخواست منگل کو کونسل کے بیورو کے اجلاس میں زیر غور آئے گی۔
انسانی حقوق کی کونسل کا رواں سال کا پہلا اجلاس 23 فروری کو شروع ہوا تھا اور 31 مارچ تک جاری رہے گا۔
ایران میں آن لائن سرگرمیوں پر کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار
ایران نے منگل کے روز اعلان کیا کہ آن لائن سرگرمیوں کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پھیلانے کے الزام میں 466 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ایران کی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ چوتھے ہفتے بھی بھی جاری ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پولیس نے کہا کہ ان افراد نے ’’عوامی رائے میں انتشار پیدا کرنے، معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے، عدم تحفظ کو فروغ دینے اور دشمن کے حق میں پروپیگنڈا کرنے‘‘ کی کوشش کی۔
نیوز رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گرفتار شدہ افراد کی آن لائن سرگرمیوں کی نوعیت کیا تھی یا انہیں کب حراست میں لیا گیا۔
ایرانی حکام نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔
انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ 25 ویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور 576 گھنٹوں سے جاری ہے۔
تقریباً ایک ماہ سے صرف چند مجاز افراد کو ہی عالمی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے، جبکہ دیگر افراد وی پی این یا اسٹارلنک کے ذریعے محدود رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایران میں قابل سزا جرم ہے۔
اس کے باوجود ایرانی شہری مقامی انٹرنیٹ کے ذریعے باہمی رابطے اور آن لائن شاپنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ سے خلیجی سکیورٹی نظام ٹوٹنے کے قریب، قطر کا انتباہ
قطر نے منگل کے روز خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے خلیجی ممالک کے سکیورٹی نظام کو ٹوٹنے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جبکہ ایران اپنے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا، ’’اس جنگ کا سب سے اہم نتیجہ خلیجی خطے کے سکیورٹی نظام کا بکھر جانا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک، جو اپنی سلامتی کے لیے آپس میں قریبی تعاون کر رہے تھے، اب جنگ کے بعد ایک نئے مشترکہ علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق، ’’خلیجی ریاستوں کو اس بات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا کہ مشترکہ علاقائی سکیورٹی نظام درحقیقت کیا ہونا چاہیے۔‘‘
لبنان نے ایرانی سفیر کو ’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا
لبنان کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز ایرانی سفیر کی تقررری کی منظوری واپس لیتے ہوئے انہیں آئندہ اتوار تک ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
وزارت کے بیان کے مطابق لبنان میں ایرانی ناظم الامور کو طلب کر کے آگاہ کیا گیا کہ مقررہ ایرانی سفیر محمد رضا شیبانی کی سفارتی حیثیت ختم کر دی گئی ہے اور انہیں ’’ناپسندیدہ شخصیت‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی سفیر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اتوار تک لبنانی سرزمین چھوڑ دیں۔
وزارت خارجہ نے مزید بتایا کہ لبنان نے ایران میں اپنے سفیر کو بھی طلب کر لیا ہے، کیونکہ بیروت کے مطابق تہران نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اصولوں اور روایات کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ اقدام اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ لبنان نے ایران کی پاسداران انقلاب فورس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کی کارروائیوں کی کمان کر رہی ہے۔
ایران میں قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے نئے سربراہ کی تقرری
ایران نے منگل کے روز پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محمد باقر ذوالقدر کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نیا سربراہ مقرر کر دیا۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ذوالقدر ایک سینئر فوجی اور سکیورٹی رہنما ہیں، جو ماضی میں پاسداران انقلاب کور میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور مختلف حکومتی اور عدالتی ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں۔
وہ اس عہدے پر علی لاریجانی کی جگہ لے رہے ہیں، جن کی گزشتہ ہفتے ایک اسرائیلی حملے میں ہلاکت کی تصدیق ہو گئی تھی۔
لاریجانی ایران کے طاقتور ترین سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ان کی ہلاکت کو اب تک جاری جنگ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
محمد باقر ذوالقدر سخت گیر سیاسی دھڑے، اسلامی انقلابی افواج کے عوامی فرنٹ کے انتخابی ہیڈکوارٹر کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
وہ 2022 سے Expediency Discernment Council کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ایک ایسا ادارہ ہے جو پارلیمنٹ اور شیعہ علماء و فقہاء کونسل کے درمیان اختلافات کو حل کرتا ہے۔
شیعہ فقہاء کونسل کو قانون سازی کو ویٹو کرنے کا اختیار ہے اور یہ کونسل ملکی انتخابات کی نگرانی کرتی ہے، جس سے ذوالقدر کی تعیناتی ایران کی طاقتور سیاسی اور سکیورٹی قیادت میں ان کے اہم کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
تل ابیب پر ایرانی میزائل حملوں میں چھ افراد زخمی
ایران کی جانب سے منگل کے روز کیے گئے میزائل حملوں میں اسرائیل کے شہر تل ابیب میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے۔
اسرائیل کی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ آدوم کے مطابق چار مختلف مقامات پر گرنے والے میزائلوں کے ملبے سے زخمی ہونے والوں میں رہائشی عمارتوں کے مکین بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے مقامی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ امکان ہے کہ کئی سو کلوگرام وزنی ایرانی وارہیڈ دو اپارٹمنٹ بلڈنگز کے درمیان گرا، جبکہ براہ راست حملے کی اطلاعات کی تحقیقات جاری ہیں۔
تل ابیب بھر میں منگل کو فضائی حملے کے سائرن سنائی دیتے رہے، جبکہ شہریوں نے دھماکوں کی بلند آوازیں سنیں اور مختلف علاقوں سے آسمان کی طرف دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا۔
یورپی یونین کا فوری مذاکرات کا مطالبہ، ایران جنگ کے خاتمے پر زور
یورپی کمیشن کی سربراہ ارزولا فان ڈئر لاین نے توانائی کی نازک عالمی صورتحال کے پیش نظر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مذاکرات کی میز پر آیا جائے اور دشمنی ختم کی جائے۔‘‘
فان ڈیر لاین نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے، اور تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کاروبار اور معاشروں دونوں پر پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ انتہائی ضروری ہے کہ ایک ایسا حل نکالا جائے جو مذاکرات کے ذریعے ہو اور مشرق وسطیٰ میں جاری دشمنی کا خاتمہ کرے۔‘‘
یورپی کمیشن کی سربراہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ’’عملی بندش‘‘ کی بھی مذمت کی، تاہم اپنی اپیل میں انہوں نے امریکا یا اسرائیل کا کوئی براہ راست ذکر نہیں کیا۔
یورپی کمیشن کی سربراہ نے یہ بیان آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی کے ہمراہ برسلز اور کینبرا کے مابین ایک نئے آزاد تجارتی معاہدے کے اعلان کے موقع پر دیا۔
گزشتہ سالوں کے برعکس یورپی یونین اس جنگ میں نسبتاً ایک تماشائی کا کردار ادا کرتی نظر آ رہی ہے، حالانکہ 2015 میں ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اس معاہدے کے طے پانے میں یورپ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، جس سے بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران یکطرفہ طور پر دستبردار ہو گئے تھے۔
مشرق وسطیٰ میں ثالثی کی کوششیں تیز، قیادت تاحال غیر واضح
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، تاہم یہ تاحال واضح نہیں کہ امن مذاکرات کی قیادت کون کر رہا ہے۔ مصر، ترکی اور پاکستان نے حالیہ دنوں میں فریقین کے ساتھ رابطے کیے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایک مصری ذریعے نے بتایا کہ امریکا اور ایران نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں مصر، ترکی اور پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا۔
اتوار کو ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر بات کی، جس کی تصدیق ایران نے بھی کی۔ فیدان نے امریکی حکام سے بھی رابطہ کیا اور مصری اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ بھی متعدد ملاقاتیں کیں۔
برطانوی ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی نے ایک ترک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ترکی اسرائیلی اثر و رسوخ کا توازن قائم کرنے کے لیے یورپی، خلیجی اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مذاکرات میں ایک مشترکہ موقف اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم ترک وزارت خارجہ نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا اس نے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ قاہرہ نے ایران کو کشیدگی کم کرنے کے لیے ’’واضح پیغامات‘‘دیے ہیں جبکہ مصری وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ تمام فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز بتایا کہ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات چیت کی اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کے عزم کا اعادہ کیا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان نے اعلیٰ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک مکنہ مقام کے طور پر تجویز کیا ہے۔
جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی اطلاعات کے باوجود ایران جنگ جاری
ایران کے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مسلح تنازعے میں ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کی خبروں کے باوجود منگل کے روز اطراف کی جانب سے حملوں کا تبادلہ جاری رہا۔ اسرائیل کے شہر تل ابیب کے مضافات میں دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جبکہ عراق کے شمال میں ایک حملے میں کم از کم چھ کرد پیشمرگہ فائٹر ہلاک ہو گئے۔
ادھر عراق کے مغربی صوبے الانبار میں ایران کے حامی شیعہ ملیشیا پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) نے کہا ہے کہ امریکی حملے میں اس کے 15 جنگجو، جن میں ایک کمانڈر بھی شامل تھا، مارے گئے۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ حملوں میں وقفے کا اعلان صرف ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک محدود تھا، جبکہ دیگر اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ’’تعمیری‘‘ بات چیت کا دعویٰ کیا ہے، تاہم تہران نے کسی بھی طرح کے مذاکرات کی تردید کی ہے۔ خطے میں جاری اس کشیدگی کے باعث نہ صرف سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے بلکہ توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت پر بھی اس کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ادارت: مقبول ملک