جنگی طیاروں سے حملہ، دمشق کے نواح میں ساٹھ افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 28.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنگی طیاروں سے حملہ، دمشق کے نواح میں ساٹھ افراد ہلاک

دمشق میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا ہے کہ باغیوں کی طرف سے حکومتی ہیلی کاپٹر تباہ کیے جانے کے بعد جنگی طیاروں نے دارالحکومت کے نواح میں گولہ باری کی ہے، جس کے نتیجے میں کم ازکم ساٹھ افراد مارے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے شامی اپوزیشن کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کی شب ملکی فضائیہ کے دو جنگی طیاروں نے دمشق کے نواح میں واقع ان علاقوں کو نشانہ بنایا، جہاں سیریئن فری آرمی نے حملہ کرتے ہوئے ملکی فوجیوں کو پسپا کر دیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ملک کے ان پسماندہ علاقوں کی اکثریتی آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

ادھر ایک ایسی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے، جس میں ایک ہیلی کاپٹر کو گرتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ باغیوں کے بقول انہوں نے شامی فوج کا یہ ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے جبکہ دمشق حکومت کے بقول یہ صرف ایک حادثہ تھا۔ چونکہ شام میں غیر ملکی صحافیوں کا داخلہ ممنوع ہے، اس لیے وہاں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے آزاد ذرائع سے معلومات تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ بین الاقوامی میڈیا جو رپورٹ کر رہا ہے، وہ عینی شاہدین یا انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے موصول شدہ معلومات ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ کئی ہفتوں تک حلب میں جاری رہنے والی لڑائی اب دمشق کے نواحی علاقوں میں پہنچ چکی ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ضرایا کے مبینہ قتل عام کے واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس’بھیانک جرم‘ کی فوری طور پر غیر جانبدارانہ طور پر تحقیقات کی جانی چاہییں۔

Syrien Demonstration gegen Präsident Bashar Assad in Damaskus Vorort

شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف احتجاج گزشتہ برس شروع ہوا تھا

ایک اور پیشرفت میں مصری صدر محمد مرسی نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے شام میں خون خرابے کو روکنے کے لیے کہا ہے۔ بطور صدر کسی غیر ملکی نیوز ایجنسی کو دیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں مرسی نے کہا کہ کہ اب وقت آ گیا ہے کہ شام میں خونریزی بند کی جائے اور وہاں کے لوگوں کو ان کے حقوق دے دیے جائیں۔

گزشتہ برس مارچ میں شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف شروع ہونے والا پر امن احتجاج کا سلسلہ اب خانہ جنگی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس خون خرابے کے لیے فریقین کو قصور وار قرار دیا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق البتہ اس خانہ جنگی کے دوران زیادہ قصور حکومتی فوج اور حکومت نواز ملیشیا کا ہے۔

ادھر پیرس میں فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈنے بھی کہہ دیا ہے کہ شامی حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے نتیجے میں شام میں فوجی مداخلت جائز ہو جائے گی۔ امریکا اور برطانیہ شامی صدر بشار الاسد کو پہلے ہی ایسی دھمکی دے چکے ہیں۔

ab / ng (AFP)