’جنگل‘ میں مہاجرین کی تعداد سات ہزار ہو گئی | مہاجرین کا بحران | DW | 20.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’جنگل‘ میں مہاجرین کی تعداد سات ہزار ہو گئی

شمالی فرانس میں واقع کَیلے کے مہاجر کیمپ میں تارکین وطن کی تعداد کئی گنا اضافے کے ساتھ قریب سات ہزار ہو گئی ہے۔ انتہائی خستہ حالات اور مہاجرین کی کسمپرسی کی وجہ سے یہ مہاجر کیمپ ’جنگل‘ کے نام سے مشہور ہے۔

ہفتہ بیس اگست کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ بدھ کے روز حکام کی جانب سے اس کیمپ میں موجود مہاجرین کی مجموعی تعداد معلوم کرنے کے لیے مردم شماری کرائی گئی۔ حکام کے مطابق حالیہ چند ماہ میں اس کیمپ میں مہاجرین کی تعداد میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ نئے اعداد و شمار کے مطابق اس مہاجر بستی میں موجود افراد کی تعداد چھ ہزار نو سو ایک ہے، جب کہ جون میں یہ تعداد دو ہزار چار سو پندرہ تھی، یعنی صرف دو ماہ میں وہاں موجود مہاجروں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس بستی میں مہاجرین کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مصروف تنظیموں کا تاہم کہنا ہے کہ وہاں موجود افراد کی تعداد نو ہزار سے زائد ہے۔ امدادی ادارے ان ساڑھے سترہ سو افراد کو بھی اپنے اعداد و شمار میں شامل کرتے ہیں، جو اب مستقل بنیادوں پر وہیں مقیم ہو چکے ہیں۔

Flüchtlingscamps Dschungel in Calais

یہاں اب کئی مہاجر مستقل طور پر مقیم ہو گئے ہیں

کَیلے کی مہاجر بستی میں موجود مہاجرین میں سے زیادہ تر کا تعلق افغانستان، صومالیہ، سوڈان اور کرد علاقوں سے ہے، جو وہاں اس لیے موجود ہیں کہ چینل ٹنل (فرانس اور برطانیہ کو ملانے والی زیر سمندر سرنگ) کے ذریعے برطانیہ میں داخل ہو جائیں۔ تاہم دونوں ممالک کی جانب سے اس سرنگ کی زبردست نگرانی اور دیگر حفاظتی اقدامات کی وجہ سے یہ مہاجر مدتوں سے وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

رواں برس کے آغاز پر فرانسیسی حکام نے اس مہاجر بستی کے ایک حصے کو خالی کرایا تھا تاکہ مہاجرین کو دیگر قریبی کیمپوں میں منتقل کیا جا سکے۔

امدادی اداروں کے مطابق اس مہاجر بستی میں تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ حالیہ کچھ ماہ میں جنوبی یورپ پہنچنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہے۔ ان مہاجرین میں سے زیادہ تعداد ان افراد کی ہے، جو بحیرہء روم عبور کر کے شمالی افریقہ سے یورپ پہنچے ہیں۔

اشتہار