جنگلی جانوروں کے گوشت پر پابندی کی تجویز | صحت | DW | 13.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

جنگلی جانوروں کے گوشت پر پابندی کی تجویز

عالمی ادارہ صحت نے دنیا کے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلی جانوروں کے گوشت پر پابندی عائد کریں تاکہ مہلک بیماریوں کو انسانوں تک منقتل ہونے سے روکا جا سکے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق خوراک کی منڈیوں میں جنگلی جانوروں کی فروخت روکنے سے کئی قسم کی بیماریوں کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں ڈبلیو ایچ او نے چین کے ساتھ ایک مشترکہ تحقیق کی تھی، جس کے مطابق کورونا وائرس چمگادڑوں سے کسی جانور میں منتقل ہوا اور پھر اس جانور سے انسانوں تک پہنچا۔

 جانوروں کی صحت کے عالمی ادارے (او آئی ای) اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے، ''جانور، خاص طور پر جنگلی جانور، انسانوں میں پھیلتی ہوئی تمام متعدی بیماریوں کا 70 فیصد سے زیادہ کا ذریعہ ہیں۔ کئی بیماریاں انتہائی مہلک وائرس سے ہوتی ہیں۔‘‘ ان دونوں اداروں کی جانب سے اپیل کی گئی ہے کہ جب تک خطرات کی مناسب تشخیص نہیں کی جاتی مارکیٹوں کے ان حصوں کو بند کر دیا جائے، جہاں جنگلی جانور رکھے جاتے ہیں۔ 

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر جنگلی جانوروں کے گوشت کی خریدوفروخت پر پابندی نہ عائد کی گئی تو مزید مہلک وائرس انسانوں تک پہنچنے کا خطرہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق روایتی مارکیٹیں بڑی آبادیوں میں کھانے اور معاش کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور ایسی مارکیٹیوں میں زندہ جنگلی جانوروں کی فروخت پر پابندی عائد کرنے سے مارکیٹ ورکرز کی صحت محفوظ بنائی جا سکتی ہے۔

 ا ا / ش ج (اے ایف پی، روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 04:00

چین: جانوروں سے متعلق نئے ضوابط، ’سنیک بریڈر‘ بے روزگار