جنونی لوگوں کی جوہری مواد تک رسائی کو روکنا ہو گا، اوباما | حالات حاضرہ | DW | 01.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنونی لوگوں کی جوہری مواد تک رسائی کو روکنا ہو گا، اوباما

واشنگٹن میں منعقدہ عالمی جوہری کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ جیسے گروپوں کے جنونی لوگوں کو جوہری یا ’ڈرٹی بم‘ کی دسترس میں آنے سے روکنے کے لیے مزید تعاون درکار ہے۔

Washington Obama Kerry Iran Atomabommen

امریکی صدر باراک اوباما اور اُن کے وزیر خارجہ جان کیری (دائیں)

امریکی دارالحکومت میں اکتیس مارچ کو شروع ہونے والی اس دو روزہ کانفرنس میں جمع پچاس سے زیادہ عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی جانب سے منظرِ عام پر آنے والی اُس ویڈیو سے دہشت گردوں کے عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جس میں انہیں بیلجیم کے ایک ایٹمی سائنسدان اور کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں پر نظر رکھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اوباما نے کہا: ’’ہماری مشترکہ کوششوں ہی کی وجہ سے ابھی تک کوئی دہشت پسند گروپ ایٹم بم یا جوہری مواد سے تیار شُدہ ’ڈرٹی بم‘ کی دسترس میں نہیں آ سکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر ایٹم بم یا جوہری مواد ان جنونیوں کے ہاتھ لگ گیا تو وہ اسے یقینی طور پر زیادہ سے زیادہ معصوم انسانوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔‘‘

واشنگٹن میں اس کانفرنس کا اہتمام پیرس اور برسلز میں کیے جانے والے اُن دہشت گردانہ حملوں کے بعد کیا گیا ہے، جن میں درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور جن کی وجہ سے یہ بات عیاں ہو کر سامنے آ گئی کہ یورپی ممالک اس طرح کے حملوں کو روکنے یا عراق اور شام سے لوٹ کر آنے والے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے عسکریت پسندوں پر نظر رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ دنیا بھر میں اندازاً دو ہزار ٹن جوہری مواد موجود ہے اور ایسا نہیں ہے کہ یہ سارا ہی مواد مناسب طریقے سے محفوظ بھی ہے۔ اوباما نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا بم بھی پوری دنیا کو ہلا کر رکھ سکتا ہے، جس میں محض ایک سیب کے سائز کے برابر جوہری مواد استعمال کیا گیا ہو: ’’پلوٹونیم کی کم سے کم مقدار بھی لاکھوں انسانوں کو ہلاک اور زخمی کر سکتی ہے اور ایسا ہوا تو یہ انسانی، سیاسی، اقتصادی اور ماحولیاتی ہر اعتبار سے ایک ایسی بڑی تباہی ہو گی، جس کے نتائج کا دنیا عشروں تک سامنا کرتی رہے گی۔ ایسا کوئی بھی واقعہ ہماری دنیا کو بدل کر رکھ دے گا۔‘‘

چونکہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے، اس لیے جوہری ہتھیاروں میں تخفیف کے ایک بڑے معاہدے پر پیشرفت نہیں ہو سکی البتہ اس کانفرنس کے دوران ایسے متعدد تکنیکی اقدامات طے کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے خطرناک جوہری مادوں کی سکیورٹی اور جانچ کو بہتر بنایا جا سکے گا اور ان کے استعمال میں کمی لائی جا سکے گی۔

Symbolbild Islamischer Staat

اوباما نے کہا:’’اگر ایٹم بم یا جوہری مواد ان جنونیوں کے ہاتھ لگ گیا تو وہ اسے یقینی طور پر زیادہ سے زیادہ معصوم انسانوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کریں گے‘‘

اس کانفرنس کے دوران امریکا اور جاپان نے یہ اعلان بھی کیا کہ اُنہوں نے ایک جاپانی ریسرچ مرکز سے تمام افزودہ یورینیم اور پلوٹونیم فیول ہٹانے کا وہ کام مکمل کر لیا ہے، جس پر ایک طویل عرصے سے کام جاری تھا۔

اوباما نے اس طرح کی پہلی جوہری کانفرنس تقریباً چھ سال پہلے منعقد کی تھی۔ تب اس کانفرنس سے کچھ ہی پہلے اُنہوں نے 2009ء میں چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ میں تقریر کرتے ہوئے دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے بلند بانگ نصب العین کا ذکر کیا تھا۔

اوباما نے اپنی نوعیت کی اس چوتھی اور آخری جوہری کانفرنس کا اہتمام ایک ایسے وقت پر کیا ہے، جب اُن کی مدتِ صدارت ختم ہونے میں محض دَس مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ آیا اُن کے بعد امریکی صدر کے عہدے پر منتخب ہونے والی شخصیت اس کانفرنس کو جاری رکھے گی، یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔

اشتہار