جنوبی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی | حالات حاضرہ | DW | 14.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جنوبی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی

شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کی بہن نے جنوبی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ اس دھمکی کے بعد جزيرہ نما کوریا پر کشیدگی میں اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

کمیونسٹ ملک شمالی کوریا کے سپريم لیڈر کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ کی عسکری ایکشن سے متعلق دھمکی کے بعد جنوبی کوریائی حکومت نے فوری طور پر سکیورٹی میٹنگ طلب کر لی۔ اس میٹنگ کے فیصلوں کی تفصیلات فی الحال سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کرنے کا بھی کہا ہے۔ اس کے ساتھ شمالی کوریا نے سرحدی مقام کیسونگ میں قائم اپنا رابطہ دفتر بھی مسمار کر دیا ہے۔

کم یو جونگ نے اپنی دھمکی میں یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا ملک اپنے حریف ہمسایہ ملک کے خلاف کس نوعیت اور کتنی شدت کا ملٹری ایکشن لینے کی سوچ رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس بیان بازی کے بعد جزیرہ نما کوریا پر تناؤ اور کشیدگی میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ کم يو جونگ کے بھائی اور سپریم لیڈر کم جونگ اُن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں امریکی حلیف ہمسایہ ملک کو 'دشمن‘ قرار دیا تھا۔

کم یو جونگ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ سپریم لیڈر، پارٹی اور ریاست نے جو اختیارات انہیں تفویض کیے ہيں، ان کی روشنی میں ہتھیاروں کے نگران محکمے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے اقدام کے لیے تیار رہے۔ کم جونگ اُن کی بہن نے مزید کہا کہ ان کی فوج عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے مناسب قدم ضرور اٹھائے گی۔ اس بیان میں 'اگلے قدم‘ کی کوئی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی۔

جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے ڈائریکٹر چونگ اُوئی یونگ نے ویڈیو لنک کے ذریعے ملکی سکیورٹی کونسل کے ارکان کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس خصوصی میٹنگ میں سفارتی محکمے کے اعلیٰ اہلکاروں اور اعلیٰ فوجی جرنیلوں نے بھی حصہ لیا۔ اس اجلاس میں جزیرہ نما کوريا کی مجموعی سکیورٹی صورت حال پر غیر معمولی غور کیا گیا۔

بعض شمالی کوریائی سیاستدانوں نے شناخت مخفی رکھتے ہوئے خیال ظاہر کیا ہے کہ کم یو جونگ سمجھتی ہیں کہ یہ مناسب موقع ہے کہ جنوبی کوریائی حکام کے ساتھ ہر قسم کے روابط ختم کر دیے جائیں اور حکومتی حلقوں پر اپنی حیثیت کا سکہ قائم کر دیا جائے۔ یہ امر اہم ہے کہ شمالی کوریائی سپریم لیڈر کی بہن ملک میں حکومتی دائرے اور عوامی سطح پر اپنا اثر و رسوخ مسلسل بڑھا رہی ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ سیول اور اور پیونگ یونگ کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کے لیے کون سا سفارتی حلقہ اپنے ذرائع کا استعمال کرنے کی کوشش میں ہے۔ شمالی کوریائی حکام اس کی تصدیق کر چکے ہیں کہ کم یو جونگ نے جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات کی نگرانی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران خاتون لیڈر نے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ کم یو جونگ کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ فوجی معاہدہ کسی وقعت کا حامل نہیں رہا ہے۔ انہوں نے ملکی منحرفین کے لیے 'زمین کی غلاظت‘ اور 'بھونکتے کتوں‘ جیسے انتہائی سخت الفاظ کا بھی استعمال کیا۔

ع ح۔ ع س (ڈی پی اے، اے پی)