جنوبی کوریا میں نئے مجسموں پر جاپان ناراض کیوں ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 29.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جنوبی کوریا میں نئے مجسموں پر جاپان ناراض کیوں ہے؟

جاپان نے جنوبی کوریا میں ان مجسموں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جو ''کمفرٹ وومن'' کے نام سے ان خواتین کی یاد میں میں نصب کیے گئے ہیں جنہیں سیکس کے لیے غلامی پر مجبور کیا گیا تھا۔

منگل کے روز جاپان میں حکام نے جنوبی کوریا میں نئے مجسموں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جاپان اور جنوبی کوریا کے رشتے متاثر ہوسکتے ہیں۔ان مجسموں کا نام ''کمفرٹ وومن'' ہے۔ یہ مجسمے ان خواتین کی یاد میں تیار کیے گئے ہیں جنہیں جزیرہ نما کوریا پر نوآبادیاتی قبضے کے دوران محاذ جنگ پر قائم ان کوٹھوں میں سیکس کے لیے مجبور کیا جاتا ہے تھا جو جاپانی فوجیوں کے لیے مخصوص تھے۔

ان میں سے ایک مجسمے میں ایک خاتون گھٹنے ٹیکتے ہوئے ایک مرد کے سامنے بیٹھی ہوئی ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مرد کی شکل جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے سے مشابہہ ہے۔ حالانکہ مجسموں کے مالک اس کی تردید کرتے ہیں۔ تاہم جاپان کو اسی بات پر اعتراض ہے۔

جاپان کے چیف کابینی سکریٹری یوشیہیدے سوگا کا کہنا تھا، ''اگر خبریں درست ہیں، تو پھر جاپان اور کوریا کے رشتوں پر فیصلہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ میرے خیال میں عالمی قدروں کے لحاظ سے مروت اور تواضع میں بھی ایسی چیزیں نا قابل معافی ہیں۔''

ابدی کفارہ

جنوبی کوریا میں یہ مجسمے کوہستانی شہر پیونگ چانگ کے ایک باٹینک باغ میں نصب کیے گئے ہیں۔ اس کے مالک کم چانگ ریول کا کہنا ہے کہ ان مجسموں کا نظریہ تو انہیں کا ہے تاہم انہیں اس بات کا قطعی اندازہ نہیں تھا کہ اس سے اس سطح پر تنازعہ پیدا ہو جائیگا۔

کم نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ''یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ شخص آبے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آبے نہ ہوں۔ یہ ہر اس شخص کی نمائندگی کرتا ہے جو ذمہ داری کے عہدے پر فائز ہو، جو اب یا پھر مستقبل میں جنسی غلامی سے دو چار ہونے والوں سے تہہ دل سے معذرت کر سکتا ہو۔ یہ تو ایک لڑکی کا باپ بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تو ان مجسموں کا نام 'ابدی کفارہ' رکھا گیا ہے۔''

جنوبی کوریا میں وزارت خارجہ کے ترجمان کم ان چول کا کہنا تھا کہ جب بات حکومت یا پھر ملک کے سربراہ کی ہو تو ممالک کو 'بین الاقوامی احترام' کا خیال رکھنا چاہیے۔ لیکن ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا بین الاقوامی احترام جیسی چیز کا اطلاق کم چانگ ریول جیسے ذاتی فرد پر بھی عائد ہوتا ہے تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

جاپانی فوجیوں کے لیے مخصوص چکلوں پر جنسی طور خواتین کو غلام بنانے کے مسئلے پر جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان گزشتہ برس بھی اس وقت تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جب جنوبی کوریا کے صدر مون جے نے اس بارے میں 2015 میں ہونے والے معاہدے کو غیر قانونی بتایا تھا۔ جاپان اور کوریا کے درمیان یہ معاہدہ مون جے کے پیش رو  نے کیا تھا جس کے تحت جاپانی وزیراعظم نے اس مسئلے پر جاپان کی طرف سے معذرت پیش کرتے ہوئے ان اداروں کو 90 لاکھ کی رقم فراہم کی تھی جو ایسی خواتین کی فلاح کے لیے کام کرتے ہیں۔

جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے بھی فیصلہ سنایا تھا کہ جنوبی کوریا میں کام کرنے والی جاپانی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ ان افراد کو معاوضہ فراہم کریں جنہوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران ان کے لیے کام کیا تھا۔ لیکن جاپان نے اس کے رد عمل میں جنوبی کوریا کو ہائی ٹیک پروڈکٹ کی برآمدات روک دی تھیں۔

ص ز/ ج ا (اے پی،روئٹرز)        

   

DW.COM