جنوبی کوریا میں امریکی فوجی: سیئول اس سال ایک ارب ڈالر دے گا | حالات حاضرہ | DW | 10.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جنوبی کوریا میں امریکی فوجی: سیئول اس سال ایک ارب ڈالر دے گا

جنوبی کوریا اپنے ہاں ساڑھے اٹھائیس ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر اٹھنے والے اخراجات میں اپنے حصے کے طور پر اس سال امریکا کو تقریباﹰ ایک ارب ڈالر ادا کرے گا۔ سیئول واشنگٹن کو ان اخراجات کا چالیس فیصد حصہ ادا کرتا ہے۔

جنوبی کوریائی دارالحکومت سیئول سے اتوار دس فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق امریکا نے جزیرہ نما کوریا پر شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین عشروں سے جاری کشیدگی کے باعث اپنے کُل 28,500 فوجی جنوبی کوریا میں تعینات کر رکھے ہیں، جن پر سالانہ اربوں ڈالر کا فوجی بجٹ خرچ کیا جاتا ہے۔

Bildkombo Donald Trump Kim Jong-Un

شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان اور امریکی صدر ٹرمپ کی دوسری ملاقات اسی مہینے ویت نام میں ہو گی

ان فوجیوں کی وہاں موجودگی کا سارا خرچ امریکا اکیلا برداشت نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے سیئول حکومت واشنگٹن کو باقاعدہ ادائیگی کرتی ہے، جس کے لیے ایک باضابطہ دوطرفہ معاہدہ بھی موجود ہے۔

جنوبی کوریائی حکومت نے 2018ء میں ان امریکی فوجی اخراجات میں اپنے حصے کے طور پر واشنگٹن کو 830 ملین ڈالر ادا کیے تھے۔ تاہم اس بارے میں ان دونوں عسکری حلیف ممالک میں کچھ عرصے سے اختلاف رائے بھی پایا جاتا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے امریکا کا یہ مطالبہ تھا کہ سیئول کو اس مد میں امریکا کو زیادہ رقوم ادا کرنا چاہییں۔

آج اتوار کے روز جنوبی کوریا اور امریکا کے مابین سیئول میں ایک ایسا اتفاق رائے ہو گیا، جس کے تحت جنوبی کوریائی حکومت اپنے ملک کی سرزمین پر امریکی فوجیوں کی موجودگی کے سلسلے میں واشنگٹن کو آئندہ زیادہ رقوم ادا کیا کرے گی۔ سال رواں کے لیے ان رقوم کی مالیت 10.4 کھرب وون (جنوبی کوریائی کرنسی) ہو گی، جو 924 ملین امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔

Südkorea Panmunjom DMZ Grenze zu Nordkorea

دونوں کوریاؤں کے مابین غیر فوجی علاقے کی سرحد پر کھڑے جنوبی کوریائی اور امریکی فوجی

اس اتفاق رائے کے طے پا جانے کے موقع پر سیئول میں دونوں ممالک کی طرف سے کہا گہا کہ جزیرہ نما کوریا پر بدلتی ہوئے صورت حال میں جنوبی کوریا میں امریکی عسکری موجودگی کو مستحکم رکھا جائے گا۔ اس موقع پر سیئول میں ملکی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے جنوبی کوریا کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ واشنگٹن جزیرہ نما کوریا پر سلامتی کے حوالے سے خود پر عائد ہونے والی ذمے داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور جنوبی کوریا میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کسی کمی کا بھی فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‍

آج طے پانے والے اتفاق رائے سے قبل سیئول اور و اشنگٹن کے مابین اس موضوع پر دس مذاکراتی دور ہوئے تھے جو سب بے نتیجہ ہی رہے تھے۔ دونوں ممالک کے مابین امریکا کے لیے جنوبی کوریائی ادائیگیوں کا جو سمجھوتہ اب طے پا گیا ہے، اس سے قبل ایسا گزشتہ معاہدہ 2014ء میں پانچ سال کے لیے طے پایا تھا، جس کی مدت 2018ء میں پوری ہو گئی تھی۔

ٹرمپ کا دوگنا رقوم کا مطالبہ

اس ڈیل سے قبل جنوبی کوریائی میڈیا نے بتایا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سیئول حکومت سے پہلے تو یہ کہا تھا کہ وہ امریکا کو فوجی دستوں کی تعیناتی پر لاگت کی مد میں دو گنا رقوم ادا کرے۔ پھر واشنگٹن نے کافی زیادہ کمی کے بعد یہ مطالبہ کر دیا کہ سیئول اس مد میں واشنگٹن کو 11.3 کھرب وون یا ایک ارب امریکی ڈالر کے برابر سالانہ ادائیگیاں کرے۔ کافی طویل مذاکرات کے بعد اتفاق رائے اگلے پانچ برسوں کے لیے 924 ملین امریکی ڈالر سالانہ پر ہوا۔

ادائیگیوں کے خلاف مظاہرہ بھی

سیئول میں وزارت خارجہ کی عمارت کے باہر آج اتوار کے روز چند درجن امریکا مخالف جنوبی کوریائی مظاہرین نے احتجاج بھی کیا، جو یہ نعرے لگا رہے تھے کہ امریکا کو اس کے فوجیوں کی جنوبی کوریا میں موجودگی کی وجہ سے کوئی بھی رقوم ادا نہ کی جائیں۔ جنوبی کوریا نے اپنے ہاں امریکی فوجی موجودگی کی وجہ سے واشنگٹن کو مالی ادائیگیوں کا سلسلہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شروع کیا تھا۔

امریکی فوجی موجودگی کی تاریخ

جزیرہ نما کوریا کو جاپان نے 1910 سے لے کر 1945 تک اپنی نوآبادی بنا رکھا تھا۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے بعد امریکی فوجی وہاں جاپانی دستوں کو غیر مسلح کرنے گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر 1949ء میں واپس امریکا چلے گئے تھے لیکن 1950 سے لے کر 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ کے دوران  یہی امریکی دستے صرف ایک سال بعد ہی بہت بڑی تعداد میں واپس بھیج دیے گئے تھے۔

کوریائی جنگ میں امریکی فوجی جنوبی کوریا کی طرف سے کمیونسٹ شمالی کوریا کے خلاف لڑتے رہے تھے۔ اس جنگ میں فائر بندی کے بعد سے تکنیکی طور پر دونوں کوریائی ریاستیں آج تک حالت جنگ میں ہیں۔ اس لیے کہ ان کے مابین ابھی تک کئی باقاعدہ امن معاہدہ طے نہیں پایا۔

م م / ع ت / اے پی

DW.COM