جنوبی چین میں بد امنی کے خلاف حکومتی کوششیں | حالات حاضرہ | DW | 21.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی چین میں بد امنی کے خلاف حکومتی کوششیں

جنوبی چین میں حکام نے آج بدھ کے روز وہاں پائی جانے والی بد امنی میں کمی کی کوشش کرتے ہوئے کئی زیر حراست دیہاتیوں کو رہا کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔

default

چین کے قدرے امیر جنوبی حصے میں حکومت نے بے چینی کی لہر پر قابو پانے کے لیے دیہی علاقوں کے جن افراد کو رہا کرنے کا وعدہ کیا ہے، انہیں ایک بجلی گھر کے منصوبے کے معطل کیے جانے اور زمینوں پر جبری قبضے کے خلاف احتجاج کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

چین کے کافی امیر صوبے گوانگ ڈونگ میں حالیہ مہینوں کے دوران عوامی مظاہروں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ چین میں درمیانے طبقے کے شہری اب اس بات پر زیادہ سے زیادہ آمادہ نظر آتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں کرپشن سے لے کر آلودہ ہوتے ہوئے ماحول تک، جہاں ضرورت ہو وہاں حکومت سے اختلاف کیا جائے۔

آج بدھ کے روز گوانگ ڈونگ کے ایک اعلیٰ صوبائی نمائندے نے ووکان نامی گاؤں کے سرکردہ افراد سے مذاکرات کیے۔ ووکان زیادہ تر ماہی گیروں کی آبادی پر مشتمل ایک ایسا گاؤں ہے جو سرکاری اہلکاروں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ووکان کے رہائشی گزشتہ کئی دنوں سے مقامی اہلکاروں کے ساتھ ایک ایسے تنازعے میں الجھے ہوئے ہیں، جو حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے

اس گاؤں کے ترجمان Lin Zulian نے بتایا کہ گوانگ ڈونگ میں کمیونسٹ پارٹی کے نائب سیکرٹری Zhu Mingguo نے وعدہ کیا ہے کہ اس گاؤں کے رہائشی افراد کے ان تین لیڈروں کو رہا کر دیا جائے گا، جنہیں 9 دسمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ساتھ ہی ان تین افراد کے اس چوتھے ساتھی کی لاش بھی اس کے لواحقین کے حوالے کر دی جائے گی جو پولیس کی حراست میں ہلاک ہو گیا تھا۔

---

اب اس گاؤں کی وہ ناکہ بندی بھی ختم کر دی گئی ہے جو چاروں زیر حراست افراد کی گرفتاری کے بعد شروع کی گئی تھی۔ اب صوبائی حکومت کی ایک دس رکنی ٹیم اس لیے ووکان جائے گی کہ وہاں کے رہائشیوں کی شکایات سن کر ان کی تحقیقات کر سکے۔

مختلف خبر ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ووکان میں بد امنی پر گوانگ ڈونگ حکومت کو بڑی تشویش تھی۔ حکومت اس تنازعے کو جلد از جلد حل کرنا چاہتی تھی کیونکہ ایسا چین میں بہت ہی کم نظر آتا ہے کہ کسی شہر یا گاؤں میں لوگ مقامی حکام کے خلاف بغاوت پر اتر آئیں۔

چین میں مختلف منصوبوں کے لیے ‍ حکومت کا زمین کو سرکاری قبضے میں لے لینا اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کے خلاف عوامی احتجاج بھی کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن ووکان کے لوگوں کا احتجاج اس لیے غیر معمولی تھا کہ انہوں نے اپنے گاؤں سے مقامی کمیونسٹ رہنماؤں کو نکال دیا تھا۔ وہ اس سال ستمبر سے لے کر اب تک اپنی مقامی حکومت خود ہی چلا رہے تھے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

اشتہار