جنوبی ایشیا کے لیے دسمبر کی سیاسی اہمیت | دستک | DW | 20.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

جنوبی ایشیا کے لیے دسمبر کی سیاسی اہمیت

جنوبی ایشیا کی سیاست کے لیے دسمبر کا مہینہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس خطے کی سب سے پرانی دو سیاسی جماعتوں کی بنیاد اسی ماہ رکھی گئی تھی۔

اس خطے کی سب سے پرانی سیاسی جماعت کانگریس کی بنیاد 28 دسمبر 1885کو ممبئی میں ڈالی گئی تھی جبکہ دوسری سب سے اہم اور پرانی جماعت مسلم لیگ کا قیام 30 دسمبر 1906کو ڈھاکا، بنگلہ دیش میں عمل میں آیا تھا۔

چونکہ میں دہلی میں اپنے صحافتی کیرئیر کے دوران کافی عرصہ تک کانگریس پارٹی کو کور کرتی رہی ہوں، اس لیے جانتی ہوں کہ یہ دن خاصی اہمیت کا حامل ہوتا تھا۔ اس دن کانگریس کے 24 اکبر روڈ پر واقع صدر دفتر میں خاصی گہما گہمی رہتی ہے۔

کانگریس کا صدر پارٹی کا جھنڈا لہراتا ہے اور کانگریس سے وابستہ سیوا دل کے اراکین بینڈ باجے اور نغموں کے ساتھ پریڈ کرکے پارٹی کے جھنڈے کو سلامی دیتے ہیں۔ جب تک یہ پارٹی اقتدار میں تھی، تو کانگریس صدر کے خطاب کو غور سے کان لگا کر سننا پڑتا تھا کہ بین السطور اس میں کسی پالیسی بیان کی طرف اشارہ تو نہیں کیا گیا ہے۔

وزیروں و دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کی لائن صبح سویرے ہی اکبر روڑ پر لگی ہوتی تھی۔وزیر اعظم من موہن سنگھ کے دس سالہ دور اقتدار میں ویسے ہی وزیر اعظم سے زیادہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کو زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ اس سے قبل اکثر کانگریس صدر اور وزیر اعظم کا عہدہ ایک ہی شخص کے پاس ہوتا تھا۔

خیر دسمبر کے کہرے اور سردی میں اس دن صبح سویرے گھر سے نکل کر اکبر روڈ کی طرف روانہ ہونا پڑتا تھا۔ راستے میں کانگریس کے بانی برطانوی سول سروس کے ریٹائرڈ آفسر الائن اکٹووم ہیوم کو کوستے رہتے، کہ اس کو بس دسمبر ہی ملا تھا، پارٹی کی بنیاد رکھنے کے لیے۔

 کسی دوسرے موسم میں کانگریس کی بنیاد رکھتا، تاکہ سردی کے بغیر اس میلہ کے لطف اٹھایا جاسکتا۔ پھر معلوم ہوا کہ اس نے تو پارٹی کی اساس ممبئی جو ان دنوں بمبئی تھا، میں رکھی تھی۔ ممبئی والے کیا جانیں، ٹھنڈ، سردی یا جاڑا کیا ہوتا ہے۔ یا شاید ہیوم صاحب کو پتہ نہیں تھا، کہ اگلی دہائی میں یہ پارٹی جنوبی ایشیاء کی سیاست میں کیا کردار ادا کرے گی۔
ہیوم صاحب نے تو برطانوی وائسرائے کی ایما پر پارٹی کی بنیاد ڈالی تھی، تاکہ طبقہ اشرافیہ کے ساتھ حکومت کا ایک چینل قائم ہو۔ رومیش چندر بنرجی کو پارٹی کا پہلا صدر بنایا گیا اور ایک اور مقتدر شخصیت دادا بائی ناروجی بھی اس کے بانیوں میں شامل تھے۔

سن  1937 کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں اس پارٹی نے 12میں سے آٹھ اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرکے عوامی تائید حاصل کی۔ پچھلے کئی الیکش ہارنے اور کئی صوبوں میں پارٹی مشینری ناپید ہونے کے باوجود یہ ابھی بھی واحد پارٹی ہے، جس کا دائرہ بھارت کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ آزاری کے بعد 40 سال تک حکومت کرنے کی وجہ سے ہر قصبے یا دیہات میں اس کی اکائی موجود ہے۔

مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل کے امتزاج نے کانگریس کو اشرافیہ کی پارٹی سے عوامی جماعت بنایا لیا، جس میں ہر مکتبہ فکر کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی۔ نہرو نے سن 1947 میں بھارت کی آزادی سے لے کر سن 1964 میں ان کے انتقال تک کانگریس پارٹی کی صدارت سنبھالی۔

چند سالوں کو چھوڑ کر اس پارٹی کی قیادت نہرو گاندھی خاندان کے پاس ہی رہی ہے۔ اس کے مخالفین کا الزام ہے کہ یہ اب ایک خاندانی پارٹی رہی ہے، جس میں اندرونی جمہوریت کا فقدان ہے۔ کوئی بھی غیر گاندھی شخص اس پارٹی کی قیادت تک نہیں پہنچ سکتا ہے۔

جواہر لعل نہرو نے نہ صرف کانگریس اور ملک کو اکٹھا رکھنے کی کوشش کی بلکہ اس  بات کو یقینی بنایا کہ  بھارت ایک سیکولر ملک کے طور پر ترقی کرے۔ البتہ آج کانگریس، دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مقابلے میں خود کو  زیادہ ہندو دوست ثابت کرنے کی دوڑ میں ہے۔ ویسے تو سن 1988 سے ہی کانگریس پارٹی اپنے بل بوتے پر اقتدار سے باہر ہے۔ سن 1990سے سن 1995 اور پھر 2004ء سےسن 2014 میں یہ اتحادیوں کی بیساکھی کے سہارے اقتدار میں تھی۔

صوبہ اتر پردیش جو کسی زمانے میں کانگریس کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور نرسمہا راؤ اور من موہن سنگھ کے بغیر اس کے دیگر وزراء اعظم اسی صوبہ سے منتخب ہوتے تھے، اب پوری طرح اس پارٹی کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔  

جواہر لعل نہرو سے لے کر اندرا گاندھی اور پھر ان کے دونوں بیٹے بہو اور پھر ان کے پوتے سبھی اس صوبے سے الیکشن جیت چکے ہیں۔ لیکن اب لگتا ہے کہ یہ سیاسی میدان ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے کیونکہ راہل گاندھی سن2019 کے عام انتخابات  میں اس صوبہ کی اپنی خاندانی نشست امیٹھی میں شکست سے دوچار ہو گئے تھے۔دیگر اپوزیشن جماعتیں جو چند سال پہلے تک کانگریس کی قیادت میں واپسی کی کوشاں تھیں، اب اس پارٹی پر ان کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔
 اس حد تک کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی جنہوں نے بنگال اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست دی اب خود متحدہ اپوزیشن کی قیادت کی دعوی دار ہے۔ لگتا ہے کہ پارٹی کو اب گاندھی، نہرو خاندانی سیاست کے باہر نکل کر یورپی ممالک کی سیاسی جماعتوں کی طرز پر اندرونی جمہوریت نافذ کرکے نئی قیادت کو سامنے لانا چاہیے۔
بھارت میں تو ویسے کانگریس کسی صورت میں موجود ہے، پاکستان میں سن 1906کی آل انڈیا مسلم لیگ کے کئی ٹکڑے ہو چکے ہیں اور جس صورت میں آج کل موجود ہے، وہ سو سال قبل کی مسلم لیگ کی جان نشین نہیں لگتی ہے، گو کہ اس پارٹی نے پاکستان کو چھ وزراء اعظم دیے۔

 کانگریس کی طرح  اس نے بھی اندرونی جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے اور خاندانی سیاست کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔مجھے معلوم نہیں کہ وہ اپنا یوم تاسیس کس طرح مناتی ہے؟ کیا بھارت کی کانگریس پارٹی کی طرز پر اس کے صدر دفتر میں کوئی تقریب منعقد ہوتی بھی ہے یا نہیں؟ کیا اس کا صدر اس دن بینڈ باجے کا ساتھ پارٹی کا جھنڈا لہرا کا اپنے کارکنان کو موجودگی کا احساس کرواتی ہے یا نہیں؟

ویسے مسلم لیگ کے آثار بھارت میں انڈین یونین مسلم لیگ کی صورت میں جنوبی صوبی کیرالا میں موجود ہیں۔ ہاں یہ واحد جگہ ہے، جہاں یہ پارٹی واقعی اپنی پرانی شکل میں اندرونی جمہوریت اور خاندانی راج کے بغیر زندہ ہے اور اس صوبے کی سیاست میں اہم رول ادا کر رہی ہے۔  انڈین یونین مسلم لیگ کا اس صوبہ میں کانگریس کے ساتھ اتحاد ہے اور حکومت میں شرکت کرتی ہے۔

DW.COM