جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا مجرموں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے؟ | معاشرہ | DW | 16.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا مجرموں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے؟

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا کے قانون کی منظوری کے نتیجے میں مجرموں کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔

رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سخت سزا کا قانون منظور کیا تھا۔ اس بل میں جرم ثابت ہونے پر دیگر انتہائی سخت سزائیں منظور کی گئیں، جس میں بچوں سے زیادتی کے مرتکب مجرموں کو سزائے موت اور عمر قید کی سزا بھی شامل ہے۔

پیڈوفائلز جرم پر قابو پانے کے لیے نئے قانون میں سخت سزاؤں کی منظوری پر انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی نے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں انسانی حقوق کی بنیادی اقدار کو مجروح کرتی ہیں۔

’مضحکہ خیز اور وحشیانہ سزا‘

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم انصار برنی ٹرسٹ کے سربراہ انصار برنی نے اس قانون میں شامل سزا کو مضحکہ خیز، وحشیانہ اور ناانصافی کے مترادف قرار دیا ہے۔ انصار برنی کے بقول، ’’سب سے بری بات یہ ہے کہ اس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ پاکستان میں انصاف کا نظام کافی کمزور ہے اور اس میں ہیرا پھیری ممکن ہے۔‘‘

دوسری جانب وکلاء کے درمیان اس معاملے پر منقسم رائے پائی جاتی ہے۔ اسلام آباد میں مقیم وکیل رضوان خان کے مطابق غیر انسانی قانون کے ساتھ ایک گھناؤنے جرم کی سخت سزا دینے سے فائدہ ہونے کا امکان کم ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بچوں کو ديکھ بھال کے ليے بچے بازوں کے حوالے کيا جاتا رہا

اس قانون کے بارے میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے وکیل کرم داد خان نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ایک خوفناک جرم ہے اور صرف ایک مثالی سزا کے ذریعے ہی اس بدفعلی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

سخت سزاؤں کی حمایت 

اس بل کے شریک مصنف اور وزیر قانون احمد رضا قادری کا کہنا ہے کہ عدالتیں ہر جرم کی انفرادی نوعیت اور حالات کو بروئے کار لاتے ہوئے سزا کا فیصلہ کریں گی۔ 
انہوں نے اس قانون کا دفاع کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس سخت قانون کے ذریعے ایک واضح پیغام جاتا ہے کہ پیڈوفائلز کو کسی بھی قسم کی ہمدردی یا پھر دوسرا موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔ ان کے بقول، ’’یہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن ہمارے پاس بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی روکنے کا اور کوئی آپشن موجود نہیں تھا۔‘‘

سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس بل کی حمایت کی گئی۔ کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق کا کہنا تھا کہ اگر اس قانون کا غلط استعمال ہوا تو پھر ترمیم کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: معصوم بچوں کو کیا پتا؟ سوچنا تو معاشرے کو ہے!

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ کی جانب سے بچوں کے خلاف جرائم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے سن 2019 کے دوران پاکستان میں روزانہ آٹھ سے زائد بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 1524 لڑکیاں اور 1322 لڑکوں کو جنسی تشدد کا شکار ہوئے۔

ع آ / ع ح (ڈی پی اے)

ویڈیو دیکھیے 02:03

پاکستانی مدارس میں بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے درجنوں واقعات

DW.COM