جنسی زیادتی کے شکار پاکستانی لڑکے زندگیاں کیسے گزاریں؟ | معاشرہ | DW | 19.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جنسی زیادتی کے شکار پاکستانی لڑکے زندگیاں کیسے گزاریں؟

سولہ سالہ عرفان کا کہنا ہے، ’’مجھے اس بارے میں تو کوئی افسوس نہیں ہے کہ میں نے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے خلاف آواز بلند کی لیکن اُس وقت سے لوگ مجھے عجیب عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔‘‘

عرفان کا شمار ان بیس لڑکوں میں ہوتا ہے، جنہیں پاکستانی صوبہ پنجاب میں قصور شہر کے ایک دیہات میں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی ویڈیوز بھی بنا لی گئی تھیں۔ یہ ویڈیوز انہیں اور ان کے خاندانوں کو بلیک میل کرنے کے لیے بنائی گئیں جبکہ انہیں فروخت بھی کیا گیا۔ پاکستان میں لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا یہ اسکینڈل چھ ماہ پہلے منظر عام پر آیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق لڑکوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے سترہ ملزمان جیل میں ہیں اور مقدمے کی سماعت کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ تین ملزمان ضمانت پر رہا کیے جا چکے ہیں۔

متاثرہ لڑکوں نے معاشرے کی روایات کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے جنسی زیادتی کے اس اسکینڈل سے پردہ اٹھایا لیکن انہیں یہ امید کم ہی ہے کہ ان کی زندگیاں اب دوبارہ معمول پر آ سکیں گی۔ پاکستان میں حالیہ چند برسوں کے دوران ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جن میں بچوں یا پھر ان کے والدین نے اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی سے متعلق کھل اظہار خیال کیا ہے۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ایک ایسا موضوع ہے، جس کے بارے میں ’خاموشی‘ اختیار کر لی جاتی ہے۔

پاکستان کے کئی دیگر بچوں کی طرح پنجاب کے دیہات حسین خان والا کے عرفان کو بھی ایک عرصے تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا لیکن یہ چیز اس کے لیے طعنہ بن چکی ہے۔ عرفان کا آہستہ آواز میں کہنا تھا، ’’مجھے انتہائی شرمندگی ہوتی ہے، جب میرے دوست مجھے گھور کر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوتے ہیں۔ میرے ہم جماعت اور اساتذہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے تھے، اب میں نے اسکول جانا چھوڑ دیا ہے۔‘‘

چھ ماہ پہلے منظر عام پر آنے والے اس اسکینڈل نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس دوران تقریباﹰ دو سو اسی بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا لیکن حکام کے مطابق صرف بیس لڑکوں کا ریپ کیا گیا تھا۔ پاکستانی پینل کوڈ کے مطابق جنسی زیادتی صرف اسی صورت میں مانی جائے گی، اگر ’’پینیٹریشن‘‘ ثابت ہوتی ہے اور دوسرا بچوں کی فحش فلمیں بنانے سے متعلق بھی قانون خاموش ہے۔

قانونی اصلاحات کے لیے مشاورت فراہم کرنے والی ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم کے ڈائریکٹر ویلیری خان کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اس اسکینڈل سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی استحصال سے بچنے کے لیے یا بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی واضح قانونی ڈھانچہ موجود ہی نہیں ہے۔‘‘بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم سے متعلق ایک قانون اس وقت پاکستان کی سینیٹ میں ہے، جس پر بحث جاری ہے۔

خواتین کے حوالے سے تو صورتحال اور بھی مشکل اور پیچیدہ ہے۔ اٹھارہ سالہ سونیا کے مطابق پاکستان میں جنسی زیادتی کے ساتھ ہی آپ سے ’عزت دار‘ ہونے کا ٹائٹل بھی چھن جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اس بارے میں خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد کے انتقال کے بعد اسے نوکری کی تلاش تھی اور وہ اپنے آجر کے رحم و کرم پر تھی، ’’میرے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ میں نے نہ تو گھر بتایا اور نہ ہی پولیس اسٹیشن گئی۔ میرے اندر شرمندگی اور بے عزتی کا خوف بھر چکا تھا۔‘‘

سونیا کے لیے رپورٹ درج کروانا اس لیے بھی مشکل تھا کہ تھانے میں کوئی بھی خاتون اہلکار نہیں تھی۔ اس کے بعد اس نے وہ جاب بھی چھوڑ دی۔

قصور کے دیہات کی طرف واپس آتے ہیں، جہاں ابھی تک متاثرہ بچے اور ان کے والدین حکومتی امداد اور انصاف کے انتظار میں ہیں۔ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے ایک سترہ سالہ لڑکے کے والد محمد کا کہنا تھا، ’’اب ان بچوں کو اسلام آباد یا پھر کسی بیرون ملک یا کسی اور جگہ بھیج دیا جانا چاہیے کیوں کہ یہ بچے ایسے ماحول میں اب تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔‘‘