جنسی زیادتی کی شکار گھریلو خادمہ کا ہانگ کانگ پولیس پر مقدمہ | معاشرہ | DW | 02.07.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جنسی زیادتی کی شکار گھریلو خادمہ کا ہانگ کانگ پولیس پر مقدمہ

ہانگ کانگ کی پولیس نے جنسی زیادتی کی شکار ایک خادمہ کے دعوے کو انسانی اسمگلنگ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اب اس خادمہ نے ہانگ کانگ کی پولیس پر مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ اس کا انسانی اسمگلنگ کا دعویٰ تسلیم کیا جائے۔

چین کے خصوصی انتظام کے حامل علاقے ہانگ کانگ میں جنسی زیادتی کی شکار ہونے والے خادمہ کا تعلق فلپائن سے ہے۔ اس کو نوکری دینے والے شخص کا تعلق ہانگ کانگ سے ہے۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ اس خادمہ کا یہ موقف تسلیم کرنے سے انکار کر چکی ہیں کہ نوکری کرنے والی خادماؤں کے ساتھ جنسی زیادتی کا فعل اصل میں انسانی اسمگلنگ سے جڑا ہے۔ خادمہ کی درخواست پر انتظامی افسران کے نرم رویہ اپنانے کے حوالے سے اب عدالتی انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے۔

Hong Kong Mahnwache Migrantinnen gegen Gewalt gegenüber Frauen

ہانگ کانگ میں دو گھریلو خادماؤں کی ہلاکت پر مظاہرہ کرتی دوسری گھریلو ملازمائیں

معاملہ عدالت میں

جنسی زیادتی کی شکار ہونے والی خادمہ مقامی انتظامیہ اور پولیس سے مایوس ہو کر عدالت جا پہنچی اور اس نے اپنا مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو انسانی اسمگلنگ قرار دے کر ملازمت کا جھانسہ دینے والے افراد یا کمپنیوں کو سزا دی جائے۔ اس کے علاوہ جنسی زیادتی کرنے والے کو بھی سزا سنائی جائے۔

بھارت: ’می ٹو‘ مہم میں گھریلو خادمائیں نظر انداز

فلپائنی خادمہ کے وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل میں بیان کیا کہ فلپائنی خاتون پولیس اور انتظامی افسر کے رویے پر شدید مایوس بھی ہوئی۔ وکیل نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیا کیا کہ انہوں نے بظاہر ایسا کر کے ملزم برائن اپتھروپ کو سزا سے بچانے کی کوشش کی تھی۔

فردِ جرم عائد 

اس خاتون کا نام عدالتی کاغذات میں مخفی رکھا گیا ہے اور اس کو کام دینے والے کا نام برائن اپتھروپ ہے۔ اپتھروپ برطانوی شہری ہے اور وہ اسی کی دہائی سے ہانگ کانگ میں رہائش اختیار کیےہوئے ہے۔

خاتون نے عدالتی درخواست میں واضح کیا کہ اسے سن 2018 اور 2019 میں اپتھروپ تواتر سے جنسی نشانہ بناتا رہا۔ عدالت نے نامزد ملزم برائن اپتھروپ پر فرد جرم عائد کر دی ہے اور اِس مقدمے کا فیصلہ پندرہ جولائی کو سنانے کی تاریخ بھی مقرر کر دی ہے۔

سعودی عرب میں بدسلوکی، یوگنڈا نے خادمائیں بھیجنا بند کر دیں

اس عدالتی کارروائی کے ساتھ ساتھ مقامی پولیس کمشنر اور محکمہ انصاف کے انچارج سکریٹری کے خلاف عدالتی انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے۔ اس انکوائری میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ یہ دونوں افسران برائن اپتھراپ کے خلاف میجسٹریٹ کی عدالت میں کارروائی شروع کرنے میں کیوں دلچسپی رکھتے تھے۔ 

Hongkong | Messerangriff auf Polizisten

بعض انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں پولیس انسانی اسمگلنگ کے سخت قوانین کے استعمال سے گریز کرتی ہے

ہانگ گانگ میں خادمائیں

ہانگ کانگ میں گھریلو خادماؤں کی تعداد تین لاکھ ستر ہزار بتائی جاتی ہے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق انڈونیشیا اور فلپائن سے ہے۔ ان کے حوالے سے ہانگ کانگ کے انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان خادماؤں کا تعلق انتہائی غریب خاندانوں سے ہوتا ہے اور وہ گھروں میں کام کر کے اپنے ملکوں میں رہنے والے خاندان کی کفالت کرتی ہیں لیکن ان کو ہانگ کانگ میں شدید مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سعودی عرب میں سری لنکن گھریلو خادمائیں: کولمبو کا پالیسی فیصلہ

ان کارکنوں کا مزید کہنا ہے کہ ان خادماؤں کو ہراساں ماحول کا سامنا ہوتا ہے،  کام کے زیادہ اوقات کے علاوہ انہیں جسمانی مارپیٹ اور جنسی زیادتی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض انسانی حقوق کے کارکنوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں پولیس انسانی اسمگلنگ کے سخت قوانین کے استعمال سے گریز کرتی ہے۔

ع ح / ک م (اے ایف پی، اے پی)