’جنسی زیادتی‘: چودہ سالہ بچے نے خود کشی کر لی | حالات حاضرہ | DW | 15.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جنسی زیادتی‘: چودہ سالہ بچے نے خود کشی کر لی

پاکستان میں چودہ سالہ محمد اکرام نے ’اغوا اور جنسی زیادتی‘ کی رپورٹ درج نہ کیے جانے پر خود کشی کر لی ہے۔ اس نو عمر لڑکے کے والد کے بقول اس کے بیٹے کو دو دن تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ پاکستانی شہر خانپور میں اس واقعے کے رونما ہونے کے بعد ایک پولیس اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس اہلکار کو غلفت برتنے کی وجہ سے معطل کیا گیا ہے۔ اکرام صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے شہر خانپور میں ایک فرنیچر ورکشاپ پر کام کرتا تھا۔

ہفتے کے دن اکرام کے والد محمد اقبال نے بتایا کہ اس کے بیٹے کو دو دن قبل اغوا کیا گیا تھا اور اس دوران اسے اجتماعی طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دو دن بعد اغوا کاروں نے اکرام کی حالت خراب ہونے کے بعد اسے ان کے گھر باہر پھینک دیا گیا تھا۔ ان دونوں باپ بیٹے نے خانپور کے ایک مقامی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا لیکن وہاں فوری طور پر ان کی بات نہ سنی گئی۔

بظاہر پولیس کی طرف سے غفلت برتنے پر اکرام نے جمعے کے دن ٹرین کی پٹری پر اپنی جان دے دی۔ اکرام کے گھر والوں اور دیگر رشتہ داروں نے اس کی لاش کو لے کر ایک ہائی وے بلاک کرتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا تھا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ اس وقت ختم کیا گیا، جب پولیس کے اعلیٰ افسران نے انہیں یقین دلایا کہ اس کے بیٹے کے اغوا کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اقبال نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تین افراد کے ایک گروہ نے جھانسہ دے کر میرے بیٹے کو اغوا کیا۔ اقبال کے بقول اغوا کار ایک دروازہ مرمت کرانے کے بہانے اکرام کو ساتھ لے کر گئے اور پھر دو دن تک اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’اکرام نے اس وقت خود کشی کی جب پولیس اہلکاروں نے رپورٹ درج کرنے سے انکار کیا اور الٹا اس کے ساتھ ناروا سلوک برتا۔‘‘

Pakistan Festnahmen im Skandal um Kindesmissbrauch

قصور میں بچوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنسی زیادتی کے واقعات پر جیوڈیشل انکوائری کا حکم دیا گیا ہے

میڈیا پر اس خبر عام ہونے کے بعد مقامی پولیس نے اغوا اور زیادتی کے شبے میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک پولیس اہلکار کو معطل بھی کر دیا گیا ہے۔ ضلعی پولیس افسر طارق مستوئی نے کہا، ’’ایک پولیس اہلکار نے ایف آئی آر درج کرنے میں ہچکچاہٹ ظاہر کی تھی۔ اسے اس غلفت پر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کیس کو باقاعدہ طور پر درج کرنے کے بعد ایک مشبہ شخص کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔‘‘

پاکستانی صوبہ پنجاب میں جنسی زیادتی کا یہ نیا مبینہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے، جب گزشتہ ہفتے ہی شہر قصور میں بچوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنسی زیادتی کے واقعات پر جیوڈیشل انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔ پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ساحل کے مطابق گزشتہ برس ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے ساڑھے تین ہزار سے زائد کیس درج کیے گئے تھے جبکہ ایسے کیسوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔