جنرل سلیمانی کی ہلاکت: کس ملک نے کیا کہا | حالات حاضرہ | DW | 03.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جنرل سلیمانی کی ہلاکت: کس ملک نے کیا کہا

ایرانی کمانڈوز کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی جمعہ تین جنوری کی صبح ایک امریکی فضائی حملے میں مارے گئے۔ اس امریکی اقدام پر دنیا بھر سے سامنے آنے والا ردعمل کچھ یوں ہے:۔

اعلیٰ ایرانی فوجی افسر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے حوالے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تناؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکا مخالف حلقے انتقام کا شور بلند کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والا ردعمل درج ذیل ہے:۔

چین

چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین بین الاقوامی معاملات میں طاقت کے استعمال کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہے اور اس صورت حال میں متعلقہ فریق صبر اور برداشت کا مظاہرہ کریں تا کہ علاقائی صورت حال خراب سے خراب تر نہ ہو۔ چینی وزارت خارجہ نے عراق کی آزادی اور حاکمیت اعلیٰ کے احترام پر زور دیا ہے۔

روس

روسی وزارت خارجہ کے بیان میں جنرل سلیمان کی کی ہلاکت کو ایک مہم جوئی قرار دیا گیا اور کہا ہے کہ یہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کا سبب بنے گی۔ ماسکو سے جاری ہونے والے اس بیان میں سلیمانی کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے ایرانی مفادات کو تحفظ دینے کی بھرپور کوششیں کی اور ان کی ہلاکت پر ایرانی عوام سے تعزیت کی جاتی ہے۔

Irak Qassem Soleimani (picture-alliance/AP Photo/Office of the Iranian Supreme Leader)

جنرل قاسم سلیمانی کو ایران کے سیاسی و فوجی حلقوں میں انتہائی احترام حاصل تھا

 فرانس

فرانسیسی وزیر برائے یورپ ایمیلی ڈی موں چلاں کا کہنا ہے کہ وہ صبح جب اٹھیں تو دنیا مزید خطرناک ہو چکی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ صدر ایمانوئل ماکروں خطے کے رہنماؤں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کرنے والے ہیں۔ فرانسیسی وزیر کے مطابق ایسے آپریشن کے نتیجے میں مجموعی صورت حال میں کشیدگی بڑھتی ہے اور دنیا کی کوشش ہونی چاہیے کہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جائے۔

شام

شامی حکومت نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ جنرل سلیمانی کو قتل کر کے واشنگٹن حکومت نے مشرق وسطیٰ کے تنازعے کی آگ پر تیل چھڑکا ہے۔ دمشق نے اس امریکی اقدام کو ایک بزدلانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں مزاحمتی عمل کو مزید تقویت فراہم کرے گا۔

Irak | Bagdad: USA Flagge mit Fußabdrücken (Getty Images/AFP/A. Al-Rubaye)

عراق میں امریکا مخالف حلقوں نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکی پرچم ایک سڑک پر پھیلا رکھا ہے

حزب اللہ، لبنان

لبنانی سیاسی و عسکری تحریک حزب اللہ نے کہا ہے کہ سلیمانی کو ہلاک کرنے والوں سے انتقام لینا دنیا بھر کی مزاحمتی قوتوں کا ٹاسک ہونا چاہیے۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے کہا کہ وہ سلیمانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تمام ادھورے مقاصد کی تکمیل کریں گے۔

امریکا

ڈیموکریٹک سیاستدان اور سابق نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی جنرل کو ہلاک کرنے کے اس فیصلے سے امریکا مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے اور سنگین تنازعے کی دہلیز پر پہنچ گیا ہے۔ ری پبلکن سینیٹر لنزی گراہم اور ایوانِ نمائندگان کے سینیئر ری پبلکن رکن کیون میکارتھی نے تاہم اس امریکی اقدام کی حمایت کی ہے۔

Iran Kommandeur Al-Kuds-Brigaden General Ghassem Soleimani (ravapress.ir)

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای مرحوم جنرل سلیمانی کے ماتھے کا بوسہ لیتے ہوئے

عراق

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے امریکی حملے کو جارحیت قرار دیا اور اس تازہ صورت حال کے تناظر میں ملکی پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دعویٰ کيا تھا کہ ایرانی جنرل کی ہلاکت پر عراق میں لوگوں نے سڑکوں اور گلیوں میں مسرت کے ساتھ رقص کیا۔ پومپیو کے مطابق عراقی شہری تشکر کے ساتھ نعرے لگاتے رہے کہ اب جنرل قاسم زندہ نہیں رہے۔

ایران: آیت اللہ خامنہ ای

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے جنرل کی عراقی ہوائی اڈے کے قريب ایک امریکی فضائی حملے میں ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس کارروائی کا انتہائی سخت انتقام لیا جائے گا۔ انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کو 'شہادت‘ قرار دیا اور کہا کہ حالیہ برسوں میں اُن کی انتھک کوششوں کا 'انعام یہ شہادت ہے‘۔

ع ح ⁄ ع ت (ڈی پی اے، اے ایف پی)

DW.COM