جنرل راحیل شریف کے الوداعی دوروں کا آغاز | حالات حاضرہ | DW | 21.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنرل راحیل شریف کے الوداعی دوروں کا آغاز

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل الوداعی دوروں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس بیان نے جنرل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قیاس آرائیوں کوختم کر دیا ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ان لوگوں میں خاصے مقبول ہیں جو سمجھتے ہیں کہ جنرل شریف نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ملک میں جرائم اور مالی بدعنوانیوں کے خلاف فوج کے کریک ڈاؤن پر بھی بہت سے افراد جنرل راحیل شریف کی تعریف کرتے ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں راحیل شریف اور فوج پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور ملک میں سولین حکومت پر اپنا ’غیر آئینی تسلط‘ قائم رکھنے کی پالیسی پر تنقید بھی کرتے ہیں۔

 دہشت گردی سے متاثر اس جنوبی ایشائی ملک میں فوج نے آپریشن ضرب عضب سمیت دیگر کاروائیوں میں پاکستان تحریک طالبان کو نشانہ بنایا ہے۔ فوج کی جانب سے پاکستان کےاقتصادی مرکز کراچی میں بھی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔ عمومی طور پر ملک میں تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن حال ہی میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردانہ کاروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اس برس اگست سےاب  تک دہشت گردانہ حملوں میں 185 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

راحیل شریف 29 نومبر کو فوج سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یوں تو خود کبھی اپنی مدت ملازمت میں توسیع کا مطالبہ نہیں کیا تاہم میڈیا اورسیاسی حلقوں سمیت فوج کی حمایت میں سرگرم عناصر یہ قیاس کر رہےتھے کہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں ممکنہ طور پر توسیع کر دیں گے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ کی جناب سے ریٹائر ہونے کے فیصلے کو سیاسی اور دفاعی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کے ترجمان باجوہ نے آج اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ آرمی چیف نے لاہور شہر سے اپنی الوداعی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ٹوئٹر پر ہی عاصم باجوہ نے مزید لکھا، ’’امن اور استحکام کا حصول معمولی کام نہیں، ہماری قربانیوں اور مشترکہ قومی عزم نے ہمیں کامیاب کیا ہے۔‘‘

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو 28 نومبر تک اگلے فوجی سربراہ کے نام کا اعلان کرنا ہے۔ عام طور پر فوج کی جانب سے تین یا چار ایسی شخصیات کے نام دیے جاتے ہیں جو اس عہدے پر فائز کیے جا سکتے ہیں۔ روئٹرز کے مطابق اس مرتبہ آرمی چیف کے عہدے کے امیدواروں میں لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے، لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد، اور لیفٹیننٹ جنرل قمرجاوید باجوہ شامل ہیں۔

 پاکستان کے قیام کے بعد سے پاکستانی فوج نے لگ بھگ نصف عرصے تک ملک پر حکم رانی کی ہے۔ ماضی کی سویلین حکومتوں اور نواز شریف کی موجودہ حکومت کے ساتھ بھی فوج کے تناؤ کی خبریں عام رہی ہیں۔ سن 1999 میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

روئٹرز اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ اگلے آرمی چیف کے انتخاب کو صرف پاکستان ہی میں نہیں بالکہ عالمی سطح پر بھی اہمیت حاصل ہوگی۔ اب بھی افغانستان میں امریکا کے دس ہزار فوجی افغان طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ واشنگٹن کے علاوہ افغان حکومت بھی پاکستان کو ان عسکریت پسندوں کا حامی ٹھیراتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند پاکستانی سرزمین سے افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔ اتوار کے روز ایک جرمن اخبار نے کچھ عرصے قبل مزار شریف میں جرمن سفارت خانے کی عمارت پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں پر لگایا تھا۔ پاکستان افغانستان میں مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

 دوسری جانب بھارت اور پاکستان بھی ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ اڑی حملوں اور پاک بھارت سرحد پر جاری کشیدگی کے باعث دونوں ممالک میں تناؤ برقرار ہے۔

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار