جمہوریہ کانگو میں انتخابات، سیاسی گہما گہمی | حالات حاضرہ | DW | 27.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جمہوریہ کانگو میں انتخابات، سیاسی گہما گہمی

28 نومبر کو کانگو ميں پارليمانی اور صدارتی انتخابات ہو رہے ہيں۔ صدر کے عہدے کے ليے 11 اميدوار ہيں، جن ميں موجودہ صدر جوزف کبيلا بھی شامل ہيں۔

default

صدر جوزف کبيلا انتخابی مہم کے دوران

پچھلے 10 سال سے برسراقتدار کبيلا کے دور ميں معيشی ترقی تو جاری ہے، ليکن عوام غريب ہيں۔ اس کے باوجود وہ جيت سکتے ہيں۔ جب سن 2006 ميں کانگو کے پہلے آزادانہ انتخابات ميں جوزف کبيلا کو پہلی بارباقاعدہ طور پر ملک کا صدر منتخب کيا گيا تھا تو وہ اس سے پہلے پانچ سال تک حکومت کر چکے تھے۔

جمہوری انتخابات کے بعد عوام اور بين الاقوامی برادری کی توقعات خاصی زيادہ تھيں۔ کبيلا نے بھی ان اميدوں کو تقويت دينے کے ليے سب ہی کچھ کيا۔ انہوں نے زيادہ اور بہتر سڑکيں تعمير کرانے، پوری آبادی کے ليے نل کا پانی فراہم کرنے، بجلی کے جديد کيبل بچھانے، تعليم اور ملازمتوں تک بہتر رسائی، اور خاص طور پر امن کا وعدہ کيا جو ايک ايسے ملک ميں بہت بڑی تمنا ہے، جو برسوں تک جنگ کی لپيٹ ميں رہا، ايک ايسی جنگ جس ميں کئی افريقی ممالک ملوث تھے۔

unruhen in Kinschasa

الیکشن سے ایک روز قبل یعنی اتوار کو کانگو میں پرتشدد واقعات رونما ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں

ليکن اپنی حکومت کے مجموعی طور پر دس سال پورے ہونے پر کبيلا ابھی تک ان اميدوں کو پورا کرنے سے بہت دور ہيں۔ برلن کی فاؤنڈيشن برائے علم و سياست کے کانگو کے امور کے ماہر ڈينس ٹُل نے کہا: ’’صدر کابيلا کی حکومت کی کارکردگی اتنی اچھی نہيں ہے۔ اقتصادی اور معاشرتی لحاظ سے کوئی قابل ذکر ترقی نہيں ہوئی ہے۔ ملک ميں غربت بہت زيادہ ہے۔ ملکی اور معيشی ترقی کے منصوبے قدم نہيں جما پائے ہيں يا ان پر عمل ہی نہيں کيا گيا ہے۔‘‘

کانگو سونے کےعلاوہ موبائل فون ميں استعمال ہونے والے دھاتی مرکب کولٹان جيسے قيمتی خام مادوں اورمعدنيات سے مالا مال ہے۔ اقتصادی نمو کی شرح تقريباً سات فيصد ہے، ليکن اس اقتصادی ترقی کے ثمرات عوام تک نہيں پہنچ رہے ہيں۔ اقوام متحدہ کی 187 ممالک کی ترقياتی فہرست ميں کانگو کا نمبر سب سے آخر ميں آتا ہے۔ فی کس آمدنی بہت کم ہے اور بے روزگاری بہت زيادہ ہے۔

بين الاقوامی تھنک ٹينک control risks کے لندن کے مرکز سے وابستہ ٹام ولسن کے خيال ميں اس کی وجہ کبيلا کی خراب مالی پاليسی ہے: ’’کبيلا نے اپنے والد لاراں اور اُن کے پيش رو ہی کی طرح حکومت چلائی ہے۔ انہوں نے رياستی خزانے کو اپنے ممکنہ مخالفين کو خريدنے اور حکومت ميں شامل کرنے پر خرچ کيا ہے۔ انہوں نے ايک ذمہ دارانہ اور جمہوری طريقہ اختيار نہيں کيا۔‘‘

ڈينس ٹُل نے کہا کہ کانگو کے بہت سے علاقوں ميں منظم جرائم ہو رہے ہيں، مجرموں کے ٹولے سرگرم ہيں اور بہت سے بکھرے ہوئے گروپ اور مليشيا گروہ موجود ہيں۔ شہريوں پر مسلسل حملے ہوتے رہتے ہيں۔

رپورٹ: ڈرکے کوئپ / شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار