جمشید میموریل ہال سے خوب صورت یادوں کی دستک | دستک | DW | 03.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

جمشید میموریل ہال سے خوب صورت یادوں کی دستک

ان سے میری پہلی ملاقات ایک ادبی مجلس میں ہوئی۔ وہ جمشید میموریل ہال کے کرتا دھرتا ہیں۔ ان کو جاننے کے لیے شاید ایک ملاقات کافی بھی نہ تھی۔ ان کا اصرار تھا کہ مجھے جمشید میموریل ہال دیکھنے کے لیے ضرور وقت نکالنا چاہیے۔

میں نے حامد صاحب سے وعدہ تو نہ کیا لیکن اس بارے میں سوچا ضرور کہ مجھے وہاں جانا ہے۔  کئی مہینے گزر گئے لیکن مصروفیات سے وقت نہ نکال سکی لیکن کبھی کبھار حامد صاحب سے فون پر بات ضرور کر لیا کرتی تھی۔ پھر ایک دن کسی ضروری کام سے صدر جانا ہوا اور میں نے اسی بہانے جمشید میموریل ہال جانے کا فیصلہ بھی کر لیا۔  میں نے وہیں سے بزرگوار حامد صاحب کو فون کیا اور آنے کی اجازت مانگی ۔ کچھ دیر بعد رکشے والے نے گردن گھما کر پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کیا  اور یوں میں نے رختِ سفر باندھ لیا۔

رکشا بوہری بازار، رنگ برنگی گلیوں سے نکل کر ایم اے جناح روڈ کی طرف نکل آیا۔ سڑک پر گاڑیوں کی ایک نہ ختم ہونے والی بھیڑ تھی۔ رکشہ  گھوم گھام کر گاڑیوں کے بیچ سے اپنی جگہ بنا کر آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ بالآخر اس نے مجھے جمشید میموریل ہال پر اتار دیا۔ میں تجسس سے  محو ہو کر عمارت کی ظاہری شکل کا جائزہ لینے لگی۔ 

چونے میں ڈھکی سفید دیواروں کے درمیان بڑا سا آہنی دروازہ 1950ء کی دہائی کی عمارت سازی کی عکاسی کر رہا تھا۔ اسے باہر سے دیکھ کر اتنا اندازہ تو ہو گیا کہ یہ کوئی معمولی  جگہ نہیں، اس میں یقینا قصہ ہزار داستان پوشیدہ ہے۔

 دروازے کو  تھوڑا سا دھکا دیا تو معلوم ہوا کہ دروازہ  کھلا ہے۔ آگے بڑھی اور اندر داخل ہو گئی۔ اندر حامد صاحب کو اپنا منتظر پایا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد انہوں نے چائے کی پیش کش کر دی، جو میں نے بہ خوشی قبول کر لی۔ گرم گرم چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے مجھ  سے رہا نہ گیا اور میں نے حامد صاحب سے اس  عمارتِ ہزار داستان کی تاریخ کے بارے میں پوچھ ہی لیا۔

یہ بھی پڑھیے:

دنیا میں نیو لبرل آرڈر کا بحران

پنجاب کب جاگے گا؟

وہ تو گویا اسی انتظار  میں تھے۔ چائے کا کپ  طشتری پر رکھ کر کھڑے  ہوئے اور مجھے اٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ آگے آگے اور میں پیچھے پیچھے راہداری سے گزر کر سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ بالائی منزل پر پہنچی تو مخمصے میں آگئی۔ یہ منزل ایک اسکول کا منظر پیش کر رہی تھی۔ پھر حامد صاحب سے اس کی کہانی سنی۔ مجھے یقین نہیں آ رہا  تھا کہ میں پاکستان کے پہلے   'مونٹیسوری اسکول ' میں کھڑی تھی۔

اس امر میں غالبا شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ  کراچی کی کچھ  بہترین درس گاہیں یہاں کے پارسیوں کی مرہونِ منت ہی وجود میں آئیں۔ مسز گول مین والا بھی ان میں سے ایک تھی۔ انڈیا میں وہ باقاعدہ  ڈاکٹر ماریہ مونٹیسوری  کی شاگرد رہیں اور پھر کراچی میں رہائش اختیار کی۔ 1941ء میں مین والا مونٹیسوری اسکول کی بنیاد رکھی۔

جمشید نسروان جی مہتہ نے بھی اسی زمانے میں کراچی کے پہلے میئر کا منصب سنبھالا تھا۔ جمالیات، تعلیم اور فنونِ لطیفہ کے گہرے دلدادہ  تھے۔ جمشید میموریل ہال بھی انہی کی یا دگار ہے۔ مسز مین والا سے ان کے خاندانی مراسم تھے۔ اسکول کے لیے اسی عمارت کا بالائی حصہ  مختص کیا گیا۔  مجھے اس کی تا ریخ میں اور بھی فخر محسوس ہوا، جب حامد صاحب نے یہ بتایا کہ 1949ء میں مسز گول مین والا نے ڈاکٹر ماریہ مونٹیسوری کو پاکستان بلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہاں کی پہلی 'مونٹیسوری ٹیچر ٹریننگ‘ کا افتتاح  بھی ڈاکٹر صاحبہ کے ہاتھوں ہوا۔  سوچیے وہ کتنا خوب صورت وقت ہوگا۔

 مسز مین والا مونٹیسوری اسکول اب بھی رواں دواں ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ وہ بچے، جن کے والدین معیاری تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، وہ یہاں مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔  یہاں کے پڑھے بچوں نے اپنی تعلیمی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کراچی کے بہترین اسکولوں میں  وظائف پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

 میں نے  ایک کلاس کی بند کھڑکی کے شیشے سے اندر جھانکا۔ جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ اساتذہ اور بچوں کی محنت سے تیار کردہ  نوٹس بورڈ تھے۔ دیواروں پر آویزاں بچوں کے ہاتھ کے بنے فن پارے اور ان کے لکھے مضامین مسز گول مین والا کے اس سچے جذبے کی گواہی دے رہے تھے کہ  نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ جس کام کی  داغ بیل انہوں نے ڈالی تھی، وہ رائیگاں نہیں گئی۔ یہ اسکول اب جمشید میموریل اسکول کے نام سے جانا جاتا ہے۔

میں سوچوں کے تانے بانے ہی بن رہی تھی کہ حامد صاحب  نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔  چلیے!اب آپ کو جمشید میمورئل ہال دکھاتے ہیں۔ ہم  سیڑھیاں اتر کر واپس بیرونی دروازے کی جانب چل پڑے۔ بیرونی دروازے کے جا نب مڑنے سے پہلے ہمارے بالکل سامنے ایک دروازے آیا، جس سے اندر کو چلے تو ایک بار پھر حیران رہ گئی۔

ہم دارا فیروز آڈیٹوریم میں کھڑے تھے۔ یہ پاکستان کا پہلا آڈیٹوریم تھا۔ اسی تاریخی جگہ سے پاکستان ٹیلی وژن کراچی نے تعلیمِ بالغاں اور مرزا غالب بندر روڈ پر جیسے بے نظیر و بے مثال ڈرامے براڈ کاسٹ کئے تھے۔ آڈیٹوریم کی کرسیاں، پردے اور اسٹیج کو دیکھ کر احساس ہوا  کہ واقعی  جمشید نسروان جی مہتہ  عمدہ جمالیاتی ذوق کے مالک تھے۔

اعلی ٰحس ِجمالیات مہذب اقوام کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اب یہ ہال خالی پڑا ہے۔ اس کو پھر سے ہمیں مل کر بسانا ہے۔ ہال سے نکل کر بائیں جانب ایک انمول کتب خانہ اور مطالعہ گاہ ہے۔ یہ وہ تاریخی کتب خانہ ہے، جہاں تھیوسوفیکل آرڈر آف سروس پاکستان کا آغاز ہوا۔

 یہ  فلسفے کی ایک  شاخ ہے، اجتماعت، انسانیت اور فلاح و بہبود جیسے سماجی معاملات  اور ان کے مسائل کا حل مذاہب اور فلسفے کے ذریعے ڈھونڈا جاتا ہے۔ اس نایاب کتب خانے میں تصوف، ماورائیت، مابعدازطبعیات اور فلسفے پر قیمتی کتابیں موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ مواد ایک صدی پرانا بھی ہے، جو لیڈی اینی بیسینٹ کے ساتھ ولایت سے آیا تھا۔

اس عمارت کی تاریخ بھی ایک صدی پرانی ہی تھی لیکن 1955ء کے قریب اس کو ڈھا دیاگیا اور  از سرِ تو تعمیر کیا گیا۔ مطالعہ گاہ سے باہر کو نکلے تو ایک بار پھر بیرونی دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔ جمشید میموریل ہال کا دورہ مکمل ہو چکا تھا لیکن دماغ ابھی تک تابناک ماضی  کی روشنی کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔

جمشید میموریل کا ہر کونا اپنے اندر خوب صورت ماضی کو سمیٹے ہوئے تھا۔ اور میں یہ سوچنے پر مجبور تھی کہ ہم اپنا حال کس طریقے سے دوبارہ اتنا ہی تاب ناک بنا سکتے ہیں۔