جلیانوالہ باغ قتل عام کو ایک سو برس بیت گئے | حالات حاضرہ | DW | 13.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جلیانوالہ باغ قتل عام کو ایک سو برس بیت گئے

بھارتی شہر امرتسر میں برطانوی ہائے کمشنر نے جلیانوالہ باغ قتل عام کی یادگار پر پھولوں کا گل دستہ چڑ ھایا۔ تیرہ اپریل1919ء میں ہونے والے اس قتل عام میں سینکڑوں افراد برطانوی فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں جلیانوالہ باغ قتل عام کی یاد میں جمعے کی شب سینکڑوں افراد نے ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھائے اور شمعیں روشن کرتے ہوئے شہر کے گرد مارچ کی۔

آج  ہفتہ تیرہ اپریل کو اس قتل عام کی صد سالہ برسی کے موقع پر بھارت میں تعینات برطانوی ہائے کمشنر ڈومینک ایسکویتھ نے اس واقع کی یادگار پر پھولوں کا گل دستہ بھی چڑھایا۔ برطانوی ہائے کمشنر نے ملکہ برطانیہ کا پیغام پڑھتے ہوئے کہا کہ ہم تاریخ کو شاید دوبارہ لکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں۔ ایسکویتھ کے بقول، ہم تاریخ سے صرف سبق حاصل کر سکتے ہیں۔

قبل ازیں برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے رواں ہفتے بدھ کے روز ایک سو برس قبل قتل عام کے اس واقعے کو ’برطانوی تاریخ پر سیاہ دھبہ‘ قرار دیا جبکہ سن 2013 میں بھارت کے دورے پر گئے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے سن 1919 میں ایک سیاسی جلسے پر کی جانے والی فائرنگ کو انتہائی افسوسناک اور باعثِ شرمندگی قرار دیا تھا۔ واضح رہے برطانیہ کی جانب سے آج تک اس حوالے سے سرکاری معافی نامہ جاری نہیں کیا گیا۔

اسی تناظر میں بھارتی ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ امرندر سنگھ  نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم کے الفاظ ناکافی ہیں۔ سنگھ نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ اس ’یادگار بربریت‘ پر ایک ’واضح سرکاری معافی نامے‘ کی ضرورت ہے۔

امرتسر میں واقع جلیانوالہ باغ میں تیرہ اپریل سن 1919 کو ایک عوامی جلسے پر بریگیڈئر ڈائر کی قیادت میں وردیوں میں ملبوس تقریباً پچاس مسلح افراد کی فائرنگ سے 400 سے ایک ہزار افراد کی ہلاکت کو بیان کیا جاتا ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تر تعداد سکھوں کی تھی۔

ع آ / ع ا (اے ایف پی)

DW.COM