جلال الدین حقانی انتقال کر گئے، افغان طالبان | حالات حاضرہ | DW | 04.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جلال الدین حقانی انتقال کر گئے، افغان طالبان

افغان طالبان کے حلیف جہادی گروپ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کے انتقال کا اعلان کیا گیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کو امریکا نے ایک دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ اُن کے حلیف جہادی گروپ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی طویل علالت کے بعد انتفال کر گئے ہیں۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ افغانستان میں انتقال کر گئے ہیں۔

تقریباً اسی سالہ مولوی جلال الدین حقانی گزشتہ دس برسوں سے فالج کی وجہ سے صاحب فراش تھے۔ طالبان نے حقانی کو ایک مثالی جنگجو اور معروف مذہبی اسکالر بھی قرار دیا۔ امریکا نے حقانی نیٹ ورک کو سن 2012 میں ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

جلال الدین حقانی کے حوالے سے کئی برسوں سے کوئی بھی خبر سامنے نہیں آئی تھی۔ سن 2015 میں بھی اُن کے مارے جانے کی خبریں عام ہوئی تھیں لیکن بعد میں ایسی اطلاعات کی تردید اُن کے اہل خانہ کی جانب سے سامنے آئی تھی۔ بظاہر اس وقت اس دہشت گرد نیٹ ورک کی عملی قیادت جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی کے ہاتھ میں ہے۔

Jalaluddin Haqqani | Gründer des Haqqani Netzwerks (Reuters/Stringer/File Picture)

جلال الدین حقانی اپنے ایک اور بیٹے نذرالدین حقانی کے ہمراہ

امریکی میڈیا کے مطابق حقانی نیٹ ورک افغان طالبان کی ہی ایک شاخ ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کی فعال قیادت پاکستان میں مقیم ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس الزام کی تواتر سے تردید کی جاتی ہے۔

جلال الدین حقانی نے اپنے اس جہادی نیٹ ورک کو سابقہ سوویت یونین کی فوج کشی کے بعد سن 1970 کی دہائی میں قائم کیا تھا۔ اس گروپ نے روسی افواج کے خلاف گوریلا حملوں کی وجہ سے شہرت حاصل کی تھی اور یہی حملے اس کی بنیادی پہچان تھی۔ اس گروپ کی انہی سرگرمیوں کی وجہ سے اسے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔

امریکی کانگریس کے رکن چارلی ولسن کی دعوت پر حقانی نے امریکا کا کا دورہ بھی کیا تھا۔ روسی فوج کے انخلا کے بعد حقانی نے طالبان کی حمایت پر اکتفا کیا۔ انہوں نے القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن سے بھی گہرے تعلقات استوار کیے تھے۔

یہ امر اہم ہے کہ جلال الدین حقانی کی رحلت کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور فوج کے سربراہ جنرل ڈنفورڈ پانچ ستمبر کو پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ اسی دوران امریکی وزارت دفاع نے امریکی پالیسی کی مکمل طور پر حمایت نہ کرنے پر پاکستان کی مزید تین سو ملین ڈالر کی امداد روکنے کا اعلان تین ستمبر کو کیا ہے۔

DW.COM