’جعلی ڈیٹا جعلی خبروں ہی کا بھائی ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 24.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جعلی ڈیٹا جعلی خبروں ہی کا بھائی ہے‘

یورپ کے مرکزی بینک سے وابستہ ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق جس طرح جعلی خبروں (فیک نیوز) سیاست کے لیے خطرات کا باعث ہے، ویسے ہی جعلی ڈیٹا یورپی مالیاتی اور معاشی استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔

جمعے کے روز یورپی مرکزی بینک کے بورڈ کے رکن بینوا کیوری نے کہا کہ ’گھٹیا معیار کے ڈیٹا‘ کی وجہ سے مالیاتی منڈیوں میں ’بدحواسی‘ اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کر رہا ہے۔

سی آئی اے جعلی خبریں پھیلا رہا ہے، ایران

’فیک نیوز‘ کے خلاف فیس بک کی مہم’فیک نیوز‘ کے خلاف فیس بک کی مہم

اسرائیل اور پاکستان کے درمیان جعلی خبر سے جوہری کشیدگی

کیوری نے کہا کہ یورپی مرکزی بینک بہت حد تک ان جائزوں پر تکیہ کر رہا ہے، جو یہ بتا سکیں کہ بینک کی جانب سے دیا گیا پیغام درست انداز سے وصول بھی کیا گیا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی طور پر کسی ڈیٹا کو نادرست طور پر قبول کیا جانا، مالیاتی پالیسیوں کی جہتوں اور مستقبل تک کو متاثر کر سکتا ہے۔

کیوری نے کہا کہ جائزوں پر تکیہ کرنا بھی بالکل ویسا ہے، ’جیسا بندر کے سامنے آئینہ‘ جیسے خطرات کا ماخذ ہو سکتا ہے۔ اس حوالے کی بنیاد وہ تجربات ہیں، جن میں کسی جانور کے سامنے آئینہ رکھ کہ یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا وہ جانور آئینہ میں خود ہی کو دیکھ رہا ہے یا اسے لگ رہا ہے کہ اس میں کوئی اور جانور در آیا ہے۔

کیوری نے پیرس میں اپنے بیان میں کہا، ’’بالکل ویسے ہی جیسے دیگر احباب سوشل میڈیا پر پھیلتی جعلی خبروں پر پریشان ہیں ویسے ہی جعلی یا غیرمعیاری ڈیٹا، بہتر اعداد و شمار کی جگہ لے رہا ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’معاشی عناصر کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار غیرحقیقی ہو سکتے ہیں اور مالیاتی منڈیوں میں پریشانی اور بدحواسی کا باعث بن سکتے ہیں اور ظاہر ہے اس سے مالیاتی اور اقتصادی استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔‘‘

کئی دہائیوں نے بدترین اقتصادی بحران کے اثرات سے باہر نکلنے والے یورپی مرکزی بینک کا انحصار غیر روایاتی اور اب تک ٹھیک انداز سے ناسمجھے جانے والے معاشی اشاروں پر ہے، جن سے اقتصادی نمو، ملازمتوں کے مواقع میں اضافے اور بڑھتی افراط زر کا جائزہ لیا جا سکے۔

DW.COM

اشتہار